Wednesday, 17 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Maali Saal 2025-2026: Istehkam Ki Janib Safar Ya Naye Challanges?

Maali Saal 2025-2026: Istehkam Ki Janib Safar Ya Naye Challanges?

مالی سال 2025-26: استحکام کی جانب سفر یا نئے چیلنجز؟

پاکستان ایک بار پھر نئے مالی سال کے بجٹ کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی عوام، کاروباری طبقہ، سرمایہ کار اور سرکاری ملازمین بجٹ سے وابستہ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ تاہم موجودہ معاشی حالات یہ واضح کرتے ہیں کہ حکومت کے لیے عوامی ریلیف اور مالیاتی نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان نہیں ہوگا۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے شدید معاشی مشکلات کا سامنا کیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، بلند افراط زر، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے معیشت کو دباؤ میں رکھا۔ لیکن حالیہ اعداد و شمار سے یہ تاثر ملتا ہے کہ معیشت میں کچھ استحکام ضرور آیا ہے۔ روپے کی قدر نسبتاً مستحکم رہی، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں چلا گیا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

اس کے باوجود زمینی حقائق مکمل اطمینان کی اجازت نہیں دیتے۔ معاشی نمو کی رفتار ابھی بھی اتنی نہیں کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکے یا عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لا سکے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری اور غربت کی شرح میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی استحکام کے فوائد ابھی عام شہری تک پوری طرح منتقل نہیں ہوئے۔

پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ ٹیکس نظام کی کمزوری ہے۔ ملک میں ٹیکس وصولی کا دائرہ محدود ہے جبکہ بوجھ زیادہ تر انہی افراد اور شعبوں پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری برادری مسلسل ٹیکس اصلاحات، شرحوں میں کمی اور نظام کو آسان بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اگر ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور معیشت کے غیر دستاویزی حصے کو شامل کیا جائے تو حکومت کو محصولات بڑھانے کے لیے اضافی بوجھ ڈالنے کی ضرورت کم پڑے گی۔

توانائی کا شعبہ بھی بدستور ایک بڑا چیلنج ہے۔ گردشی قرضہ ہزاروں ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو نہ صرف بجلی اور گیس کے نظام کو متاثر کر رہا ہے بلکہ قومی خزانے پر بھی مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ جب تک اس مسئلے کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا، معیشت پر اس کے منفی اثرات برقرار رہیں گے۔

پیٹرولیم مصنوعات پر عائد مختلف لیویز اور ٹیکسز بھی عوامی بحث کا اہم موضوع بن چکے ہیں۔ حکومت کے لیے یہ آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، لیکن دوسری جانب ایندھن کی بلند قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ یہی مہنگائی ٹرانسپورٹ، خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔

زرعی شعبہ، جو پاکستان کی معیشت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، حالیہ عرصے میں مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں نے کسانوں کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ اگر اس شعبے کو بروقت سہارا نہ دیا گیا تو مستقبل میں غذائی تحفظ کے حوالے سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

آنے والا بجٹ غالباً آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کے تحت ترتیب دیا جائے گا، جس کے باعث حکومت کے پاس مالی گنجائش محدود ہوگی۔ اس لیے بڑے پیمانے پر سبسڈیز یا غیر معمولی ریلیف کی توقع کم ہے۔ تاہم حکومت اگر ٹیکس اصلاحات، نجکاری، توانائی کے شعبے کی بہتری اور برآمدات کے فروغ پر توجہ دے تو طویل المدت بنیادوں پر معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ استحکام کے کچھ آثار ضرور نظر آ رہے ہیں، مگر پائیدار ترقی کے لیے صرف اعداد و شمار میں بہتری کافی نہیں۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب مہنگائی کم ہو، روزگار کے مواقع بڑھیں، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور عام شہری اپنی زندگی میں معاشی بہتری محسوس کرے۔ آنے والا بجٹ اسی امتحان کا اہم مرحلہ ثابت ہوگا۔

Check Also

Wonder Boy Se Yakam July Tak: Sohail Warraich Ki Flop Filmein

By Shahid Nasim Chaudhry