Insan, Irtiqa Aur Akhlaqi Bartari Ka Sawal
انسان، ارتقا اور اخلاقی برتری کا سوال
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جس نے مذہب اور سائنس کے درمیان اتنی بحث پیدا کی ہو جتنی نظریۂ ارتقا نے کی۔ برصغیر میں تو یہ معاملہ اکثر علمی مکالمے کے بجائے جذباتی نعروں اور طنز و تضحیک کی نذر ہو جاتا ہے۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ ارتقا کو ماننا گویا انسان کو "بندر کی اولاد" قرار دینا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ مذہب کو مکمل طور پر سائنسی حقائق کے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیقت مگر اس قدر سادہ یا سطحی نہیں۔
سائنس کا کام مشاہدہ، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنا ہے۔ فاسلز، جینیات، حیاتیات اور زمین کی قدیم تہوں کا مطالعہ سائنسدانوں کو یہ بتاتا ہے کہ زمین پر زندگی ایک طویل ارتقائی سفر سے گزری ہے۔ جانداروں کی ساخت، ڈی این اے میں مماثلت اور فاسلز کا ریکارڈ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مختلف مخلوقات کے درمیان ایک حیاتیاتی رشتہ موجود ہے۔ انسان کے جسم کا بڑا حصہ دوسرے ممالیہ جانوروں سے مشابہت رکھتا ہے۔ دل، پھیپھڑے، خون، اعصابی نظام اور حتیٰ کہ جذبات کے کئی بنیادی محرکات بھی مشترک ہیں۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ڈارون نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ "انسان بندر کی اولاد ہے"۔ اس کا مؤقف یہ تھا کہ انسان اور بعض دوسرے جانداروں کے آباؤ اجداد کسی دور میں مشترک رہے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں سائنسی نظریات کو اکثر سادہ اور جذباتی جملوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جس سے اصل بحث پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
لیکن سوال صرف جسمانی ارتقا کا نہیں، اصل سوال انسان کی اخلاقی اور روحانی حیثیت کا ہے۔ اگر انسان صرف ایک ترقی یافتہ حیوان ہے تو پھر اس کی عظمت کیا ہے؟ مذہب یہاں ایک مختلف زاویہ پیش کرتا ہے۔ اسلام انسان کے جسمانی وجود سے انکار نہیں کرتا۔ بھوک، خوف، خواہشات اور بقا کی جدوجہد انسان میں بھی ویسے ہی موجود ہیں جیسے دیگر مخلوقات میں۔ مگر انسان کو جو چیز منفرد بناتی ہے، وہ اس کی عقل، شعور، اخلاق اور روحانی ذمہ داری ہے۔
قرآن انسان کو "اشرف المخلوقات" کہتا ہے، لیکن یہ فضیلت محض جسمانی ساخت یا ذہانت کی بنیاد پر نہیں۔ اگر صرف ذہانت معیار ہوتی تو شاید بعض جانور بھی اپنی مخصوص صلاحیتوں میں انسان سے آگے ہوتے۔ اصل فضیلت اخلاقی شعور میں ہے۔ انسان کو حق اور باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت دی گئی، اسی لیے اس پر ذمہ داری بھی عائد ہوئی۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن بعض اوقات انسان کو "جانوروں سے بھی بدتر" قرار دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ انسان حیاتیاتی طور پر جانوروں سے جڑا ہوا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ شعور اور ہدایت رکھنے کے باوجود ظلم، خونریزی، نفرت اور تکبر کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ جانور اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، مگر انسان جب اپنی عقل اور اخلاق کو تباہ کر دیتا ہے تو وہ اپنی اصل عظمت کھو دیتا ہے۔
آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی نے انسان کو بے پناہ طاقت دی ہے۔ وہ خلا میں دوربینیں بھیج سکتا ہے، مصنوعی ذہانت تخلیق کر سکتا ہے اور ایٹمی طاقت سے پوری دنیا بدل سکتا ہے۔ مگر یہی انسان جب جنگوں، نسل کشی، ظلم اور نفرت میں مبتلا ہوتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف سائنسی ترقی انسانیت کیلئے کافی ہے؟ اگر اخلاقی شعور نہ رہے تو ترقی یافتہ ذہن بھی تباہی کا ہتھیار بن جاتا ہے۔
ارتقا کی بحث اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ انسان اپنی عقل اور طاقت کو کس مقصد کیلئے استعمال کرتا ہے۔ اگر وہ انصاف، رحم اور انسانیت کیلئے کھڑا ہو تو واقعی اشرف المخلوقات ہے اور اگر نفرت، غرور اور خونریزی میں ڈوب جائے تو پھر وہ اپنی ہی عظمت سے گر جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سائنس انسان کے جسم کی کہانی سناتی ہے، جبکہ مذہب اس کی روح کا سفر بیان کرتا ہے۔

