Tuesday, 21 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nasir Abbas Nayyar
  4. Islamabad Mulaqatein

Islamabad Mulaqatein

اسلام آباد ملاقاتیں

اسلام آباد، باقی میٹرو پولسز کی مانند چہار اطراف پھیل گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ اب کوئی بڑا شہر ایک شہر نہیں ہے۔ وہ کئی شہروں کا مجموعہ ہے۔ یہاں اسلام آباد کے ادیبوں میں کوئی کہیں، کوئی کہیں رہتا ہے۔ یہاں کے احباب سے ملنے کے لیے ایک ہفتہ بھی کم پڑ جاتا ہے۔ میرے پاس بس کل کا دن تھا۔ کچھ احباب سے جمعہ کی تقریب میں ملاقات ہوگئی تھی، کئیوں سے نہیں ہو سکی گھی اور اب بھی نہیں ہوسکی۔ ڈاکٹر شیر علی ہر بار کرم کرتے ہیں اور احباب سے ناچیز کی ملاقات کی زحمت اٹھاتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ وہ گل دستہ احباب کی بندش کی گیاہ ہیں۔

پہلے پروفیسر فتح محمد ملک صاحب سے ملے۔ ایک سال بعد۔ چند دن پہلے ان کی سالگرہ منائی گئی تھی، وہ ماشااللہ نوے برس کے ہیں۔ ان کے چہرے پر کچھ نقاہت ضرور محسوس ہورہی تھی، مگر ذہنی طور پر تازہ دم تھے۔ البتہ کچھ باتیں بھولنے لگے ہیں۔ ایک نئی کتاب پر کام کررہے تھے۔ ان سے اردو، پنجابی، پاکستانی زبانوں، ان کی آپ بیتی اور پاکستان کی سیاسی تاریخ پر گفتگو ہوئی۔ میں شیر علی صاحب سے نہیں پوچھ سکا کہ کیا ان سے طالب علم استفادے کے لیے برابر آتے ہیں کہ نہیں۔ اگر آتے ہیں تو ملک صاحب کی تنہائی، جو اس عمر میں اذیت ناک بھی ہوسکتی ہے، بھی کم ہوجایا کرتی ہوگی۔

افتخار عارف صاحب سے بے شمار ملاقاتیں ہیں، آخری ملاقات لاہور میں ہوئی، جب وہ گزشتہ ماہ میرے گھر تشریف لائے۔ ان کے اسلام آباد کے گھر میں، ان سے پہلی ملاقات کل ہوئی۔ ان کے پاس بہت یادیں ہیں۔ لکھنؤ، لندن، کراچی، امریکا، تہران، لاہور، دہلی کی اور بھی شہروں کی ہوں گی۔ ادیبوں اور کتابوں کی یادوں کا بھی بڑا ذخیرہ ہے۔

کل لکھنؤ، لندن، تہران کا ذکر آیا۔ رومیلا تھاپر کی آپ بیتی کا بھی۔ معاصر ادب پر کافی دیر باتیں ہوئیں۔

انھوں نے موسیقی پر بھی گفتگو کی۔ ایک پل میں تار والے سب سازوں، ستار، سارنگی، وینا، رودر وینا، سرسوتی وینا، وچتر وینا، سرود، دلربا، تنبورا جانے کس کس کا نام لیا۔ خیر، نام اتنے اہم نہیں جتنا موسیقی کا ذوق اہم ہے۔ کلاسیکی موسیقی کا ذوق ہر صاحب علم و نظر کو ہوا کرتا ہے۔ میں نے ان کا پسندیدہ راگ پوچھا تو میری توقع کے عین مطابق انھوں نے کانہڑا یعنی راگ درباری کا ذکر کیا۔ مشکل فنی اصولوں اس راگ میں صرف شاہی جلال نہیں، عجب سنجیدگی، گھمبیرتا اور گہرا دھیان ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ راگ ان لوگوں کو خاص طور پر پسندیدہ ہوا کرتا ہے جو آسانی سے ہار قبول نہیں کرتے۔ میرا جی کی سطر: انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند کا ذکر بھی عارف صاحب نے کیا۔ اسد محمد خاں کے مشہور گیت کی پہلی لائن بھی یہی ہے اور جسے راگ درباری میں بلقیس خانم اور باقیوں نے گایا ہے۔

مجھے کہنے لگے۔ آپ کے بھی حاسدین بڑھتے جارہے ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ اپنی روش پر قائم ہوں۔ خاموشی کی روش۔ البتہ ہر نئی کتاب، حسد کا جواب سمجھی جاسکتی ہے۔

عارف صاحب کی لائبریری بہ طور خاص دیکھنا چاہتا تھا۔ فارسی ادبیات کا حصہ غیر معمولی ہے۔ شاہ نامہ اور دیوان حافظ کے ایرانی ایڈیشن بے مثل ہیں۔ اپنے کلاسیک کو مسلسل اور ہر بار نئے انداز میں شائع کرنا اور طباعت کو عظیم آرٹ میں بدلنا ایرانیوں پر ختم ہے۔

ممتاز ناول نگار و نقاد حفیظ خاں صاحب، عارف صاحب کے پڑوس میں رہتے ہیں۔ ڈی ایچ اے جیسے سیکٹر میں پڑوسی کا مطلب دو ایک میل کی دوری ہوا کرتا ہے۔ گزشتہ دنوں ان کا فریکچر ہوگیا تھا۔ ان کی عیادت کے لیے ان کے ہاں پہنچے۔ ان سے ناول، مصنوعی ذہانت، مشرق و مغرب کی تقسیم اور معاصر ادیبوں پر گفتگو ہوئی۔ ان سے آصف فرخی کا ذکر بھی آیا جنھوں نے خان صاحب کو سرائیکی کے ساتھ اردو میں لکھنے کی ترغیب دی۔ کچھ محتاط ذکر عدلیہ کا بھی ہوا، جس کی پہلی آئینی عدالت کے وہ رجسٹرار ہیں۔

مختصر ملاقات اشرف کمال صاحب سے بھی ہوئی۔

Check Also

Imran Khan Ki Maqbooliat Ka Eteraf, Magar Insaf Par Khamoshi

By Aftab Alam