Pakistan Mein Mehangai, Nojawan Aur Badalta Hua Muashra
پاکستان میں مہنگائی، نوجوان اور بدلتا ہوا معاشرہ
پاکستان اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں عام آدمی کی زندگی دن بدن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔ یہ مسائل اب صرف خبروں کی حد تک محدود نہیں رہے بلکہ ہر گھر، ہر بازار اور ہر انسان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
ایک وقت تھا جب پاکستان میں متوسط طبقہ نسبتاً مطمئن زندگی گزار لیتا تھا۔ ایک شخص محدود تنخواہ میں گھر کا خرچ بھی چلا لیتا تھا، بچوں کی تعلیم بھی جاری رہتی تھی اور مستقبل کے کچھ خواب بھی دل میں زندہ رہتے تھے۔ لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے مگر ان کے چہروں پر سکون نظر آتا تھا۔ آج صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ تنخواہیں کم اور اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ بجلی کے بل، گیس کے بل، پیٹرول کی قیمتیں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء عام انسان کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
اگر آج کسی عام بازار کا چکر لگایا جائے تو وہاں لوگوں کے چہروں پر پریشانی صاف دکھائی دیتی ہے۔ لوگ خریداری سے پہلے کئی بار قیمت پوچھتے ہیں۔ پہلے جو چیزیں روزمرہ ضرورت سمجھی جاتی تھیں، اب لوگ انہیں "مہنگی" کہہ کر واپس رکھ دیتے ہیں۔ متوسط طبقہ جو کبھی سفید پوشی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج خاموشی سے حالات کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔
مہنگائی نے صرف جیب پر اثر نہیں ڈالا بلکہ لوگوں کی ذہنی حالت کو بھی متاثر کیا ہے۔ گھروں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائیاں بڑھ گئی ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی خواہشات پوری نہ کر سکنے کی وجہ سے اندر ہی اندر ٹوٹتے جا رہے ہیں۔ نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرنے کے باوجود نوکری نہ ملنے کی وجہ سے شدید مایوسی کا شکار ہیں۔
پاکستان کا نوجوان اس وقت سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک نوجوان کئی سال یونیورسٹی میں پڑھائی کرتا ہے، ہزاروں روپے فیس دیتا ہے، خواب دیکھتا ہے کہ ڈگری مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے والدین کا سہارا بنے گا، مگر جب تعلیم ختم ہوتی ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں نوکریاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر کہیں نوکری مل بھی جائے تو تنخواہ اتنی کم ہوتی ہے کہ انسان صرف اپنے ذاتی اخراجات ہی پورے کر پاتا ہے۔
اسی وجہ سے آج پاکستان کے لاکھوں نوجوان بیرونِ ملک جانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہر نوجوان چاہتا ہے کہ کسی طرح پاکستان سے باہر نکل کر ایک بہتر مستقبل حاصل کر سکے۔ سوشل میڈیا پر روزانہ ایسے ویڈیوز دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں نوجوان یورپ، خلیجی ممالک یا دوسرے ملکوں میں جا کر اپنی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے سسٹم پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ پہلے لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، رشتوں میں خلوص ہوتا تھا اور پڑوسی ایک خاندان کی طرح سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج ہر شخص اپنی مشکلات میں اس قدر مصروف ہے کہ اسے دوسروں کے مسائل سننے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کم اور مقابلے میں زیادہ ڈال دیا ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کو دوسروں سے بہتر دکھانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اس طاقتور ذریعہ کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کے بجائے زیادہ تر فضول بحثوں، نفرت اور غیر ضروری کانٹینٹ کے لیے استعمال کیا۔ ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا تعلیم، کاروبار، تحقیق اور مثبت آگاہی کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں اکثر ٹرینڈز، فضول تنازعات اور وقتی شہرت حاصل کرنے کے گرد گھومتے ہیں۔ نوجوان گھنٹوں موبائل اسکرین پر وقت گزار دیتے ہیں مگر ان میں سے بہت کم لوگ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے انٹرنیٹ کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اس کے باوجود پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ پاکستانی نوجوان دنیا کے مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت ثابت کر رہے ہیں۔ فری لانسنگ، آئی ٹی، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، اسپورٹس، آرٹ اور میڈیا کے شعبوں میں پاکستانی نوجوان بین الاقوامی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ مسئلہ صرف مواقع اور رہنمائی کا ہے۔ اگر نوجوانوں کو درست سمت، معیاری تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نسل پاکستان کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔
ایک اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم صرف ڈگری لینے تک محدود ہو چکی ہے۔ یونیورسٹیوں میں ہزاروں طلبہ موجود ہیں مگر عملی زندگی کے لیے انہیں وہ مہارتیں نہیں سکھائی جاتیں جن کی مارکیٹ میں ضرورت ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان ڈگری تو لے لیتے ہیں مگر نوکری کے قابل نہیں بن پاتے۔
حکومتوں کی ذمہ داری صرف سڑکیں بنانا یا تقریریں کرنا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا بھی ہے۔ لوگوں کو بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم، صحت اور روزگار دینا کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ عام آدمی کے مسائل وہی رہتے ہیں۔
اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ سنجیدہ قیادت، مضبوط پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے، کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی اور تعلیم کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہوگا۔ صرف سیاسی نعروں اور سوشل میڈیا بیانات سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ہمیں بطور قوم بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم ایمانداری، برداشت اور ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو بہت سے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ قومیں صرف حکومتوں سے نہیں بلکہ عوام کے رویوں سے بھی بنتی ہیں۔
پاکستان آج مشکل حالات سے ضرور گزر رہا ہے، مگر یہ ملک ناامید نہیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں باصلاحیت نوجوان موجود ہیں، محنت کرنے والے لوگ موجود ہیں اور آگے بڑھنے کی خواہش رکھنے والی ایک بڑی آبادی موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم وقتی اختلافات سے اوپر اٹھ کر اپنے ملک اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں۔
کیونکہ اگر ایک قوم اپنے نوجوانوں کو امید، مواقع اور انصاف دے دے تو وہ قوم کبھی پیچھے نہیں رہتی۔

