Parwasi
پرواسی

دو مختلف تہذیبوں، ثقافتوں، لسانی رویّوں اور فکری مزاجوں کو یکجا کرنا محض لسانی مشق نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور فنی عمل ہے، جس میں مترجم کو نہ صرف زبان بلکہ تہذیبی شعور کا بھی گہرا ادراک ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے حمزہ حسن شیخ نے اپنی ترجمہ نگاری کے ذریعے جس مہارت اور فنی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے متنوع رنگوں، بالخصوص پنجابی زبان کی لطافت کو اردو کے سانچے میں اس خوبی سے ڈھالا ہے کہ قاری اصل متن کی روح سے جڑا محسوس ہوتا ہے۔
اسی طرح دوسری جانب فارسی زبان اور ایرانی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی، خصوصاً نسائی احساسات و تجربات کی ترجمانی، جس انداز میں سیمین دانشور کے افسانوں میں جلوہ گر ہے، اسے اردو میں منتقل کرنا ایک نہایت نازک اور پیچیدہ مرحلہ ہے۔ حمزہ حسن شیخ نے اس فنی چیلنج کو جس سلیقے اور مہارت سے سرانجام دیا ہے، وہ ان کے وسیع مطالعے اور تہذیبی فہم کا غماز ہے۔
عام طور پر ترجمہ نگاری کو ایک سہل عمل سمجھ لیا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ محض زبان دانی ہی اس کے لیے کافی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ترجمہ ایک ایسا فن ہے جس میں مترجم کو دونوں زبانوں کے تہذیبی، سماجی اور نفسیاتی پس منظر سے مکمل آگاہی حاصل ہونی چاہیے۔ اسے اپنے تخیل کو ایک مخصوص دائرے میں مقید رکھتے ہوئے اصل متن کی روح، فضا اور تاثر کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مترجم کی فنی بصیرت اور تخلیقی صلاحیت کا امتحان ہوتا ہے۔
حمزہ حسن شیخ اس میدان کے ایک کہنہ مشق اور باصلاحیت مترجم ہیں۔ اس سے قبل وہ "موسیٰ کا مقدمہ" جیسے اہم ناول کا ترجمہ کرکے قارئین کو حیرت و استعجاب کی ایک نئی دنیا سے روشناس کرا چکے ہیں۔
میرے نزدیک ایک کامیاب مترجم وہ ہے جو قاری کو اس حد تک اصل متن سے قریب کر دے کہ اسے یہ احساس تک نہ ہو کہ وہ ترجمہ پڑھ رہا ہے۔ حمزہ حسن شیخ کے تراجم کی نثر میں روانی، سلاست اور اصل متن کی معنوی گہرائی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود رہتی ہے۔
حمزہ حسن شیخ کا تازہ افسانوی مجموعہ "پرواسی" میرے لیے ایک خوشگوار حیرت کا باعث بنا۔ اس مجموعے میں سیمین دانشور اور امرتا پریتم کے پانچ پانچ افسانوں کے تراجم شامل ہیں۔ ان افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے کہیں بھی اجنبیت یا بیگانگی کا احساس نہیں ہوتا، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ افسانے براہِ راست اردو میں ہی تخلیق کیے گئے ہوں۔ یہ مترجم کی لسانی مہارت اور تہذیبی ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔

