Monday, 06 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mujahid Khan Taseer
  4. Nai Nasal Aur Hamara Rawaiya

Nai Nasal Aur Hamara Rawaiya

نئی نسل اور ہمارا رویہ

کیا آپ نے کبھی ٹھہر کر یہ غور کیا ہے کہ آپ کے بچے، جنہیں آپ اب بھی کم عمر اور ناتجربہ کار سمجھتے ہیں، درحقیقت فہم و فراست، ذہانت اور معاملہ شناسی میں آپ سے کہیں آگے نکل چکے ہیں؟ بظاہر یہ بات چونکا دینے والی لگتی ہے، مگر اگر ہم اپنے اردگرد کے حالات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں تو یہ حقیقت خود بخود آشکار ہو جاتی ہے۔ آج کا بچہ محض کتابی علم تک محدود نہیں بلکہ وہ جدید ٹیکنالوجی، تیز رفتار معلوماتی ذرائع اور بدلتے ہوئے سماجی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ اس کے باوجود ایک بنیادی سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے: کیا ہم اپنے بچوں پر واقعی بھروسہ کرتے ہیں؟

بدقسمتی سے اس سوال کا جواب اکثر نفی میں ملتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کی ذہانت، ان کی قابلیت اور ان کے اندر موجود امکانات کو تسلیم تو کر لیتے ہیں، مگر ان پر اعتماد کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم لاشعوری طور پر یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ اسی راستے پر چلے جس پر چل کر ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔ ہم اپنے تجربات کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ نئی نسل بھی انہی اصولوں اور طریقوں کو اپنائے۔ لیکن یہاں ہم ایک اہم حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں: ہر دور اپنے تقاضوں کے ساتھ آتا ہے۔

اگر ہم ماضی کی طرف نظر دوڑائیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ جس دور کو ہم آج "پرانا اور سادہ" کہہ کر مثالی قرار دیتے ہیں، وہ اپنے وقت میں جدید اور ترقی یافتہ سمجھا جاتا تھا۔ جس طرح ہم اپنے والدین کے زمانے میں ایک نئی سوچ اور نئی روش کے نمائندہ تھے، اسی طرح آج کے بچے بھی اپنے وقت کے نمائندہ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وقت کی رفتار تیز ہو چکی ہے اور تبدیلیاں پہلے سے کہیں زیادہ سرعت کے ساتھ رونما ہو رہی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج کے بچے نہ صرف معلومات تک تیزی سے رسائی رکھتے ہیں بلکہ وہ مسائل کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور ان کے حل تلاش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں، دلیل دیتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارا رویہ اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے۔ ہم ان کی بات سننے کے بجائے انہیں خاموش کروانے کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی غلطیوں کو اجاگر کرتے ہیں مگر ان کی خوبیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بچے کی شخصیت کو سنوارنے میں تنقید سے زیادہ حوصلہ افزائی کا کردار ہوتا ہے۔ ایک بچہ جو مسلسل تنقید کا سامنا کرتا ہے، وہ آہستہ آہستہ خود اعتمادی کھو بیٹھتا ہے، جبکہ وہی بچہ اگر تعریف، رہنمائی اور اعتماد حاصل کرے تو اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بچوں کو مکمل آزادی دے کر انہیں بے لگام چھوڑ دیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی رہنمائی ایسے انداز میں کی جائے جس میں محبت، احترام اور اعتماد شامل ہو۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کا بچہ کامل نہیں ہے، اسے بھی تجربے اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ مگر رہنمائی اور کنٹرول میں ایک باریک فرق ہوتا ہے۔ رہنمائی وہ ہے جو بچے کو سوچنے، سمجھنے اور خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت دے، جبکہ کنٹرول وہ ہے جو اس کی سوچ کو محدود کر دے۔ اگر ہم واقعی اپنے بچوں کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں اس فرق کو سمجھنا ہوگا۔

ایک اور اہم پہلو جس پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے، وہ ہے بچوں کا موازنہ۔ ہم اکثر اپنے بچوں کا تقابل دوسروں سے کرتے ہیں: "دیکھو فلاں بچہ کتنا ذہین ہے"، "اس نے یہ کامیابی حاصل کی، تم کیوں نہیں کر سکتے؟" بظاہر یہ جملے حوصلہ افزائی کے لیے کہے جاتے ہیں، مگر درحقیقت یہ بچے کے اندر احساسِ کمتری کو جنم دیتے ہیں۔ ہر بچہ اپنی انفرادیت رکھتا ہے، اس کی اپنی صلاحیتیں، اپنی دلچسپیاں اور اپنی رفتار ہوتی ہے۔ اگر ہم اسے دوسروں کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو ہم اس کی اصل پہچان کو ختم کر دیں گے۔

کامیاب والدین وہ نہیں جو اپنے بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنے بچے کی رائے کو اہمیت دے، اس کی بات سنے اور اسے یہ احساس دلائے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ جب بچہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے والدین اس کے ساتھ کھڑے ہیں، اس پر اعتماد کرتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، تو وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں آگے بڑھنے سے نہیں گھبراتا۔

ہمیں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کے نقاد بننا چاہتے ہیں یا ان کے معاون۔ اگر ہم ہر وقت ان کی غلطیاں نکالتے رہیں گے تو ہم ان کے اور اپنے درمیان فاصلے پیدا کر دیں گے۔ لیکن اگر ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کی رہنمائی کریں اور انہیں اعتماد دیں، تو ہم نہ صرف ایک مضبوط فرد بلکہ ایک مثبت معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بچوں کا مستقبل صرف تعلیمی کامیابیوں سے وابستہ نہیں بلکہ اس اعتماد، محبت اور حوصلہ افزائی سے جڑا ہوتا ہے جو انہیں اپنے گھر سے ملتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ زندگی کے میدان میں کامیاب ہو، تو ہمیں اسے یہ یقین دلانا ہوگا کہ ہم اس کے ساتھ ہیں، اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کی ہر کامیابی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

یہی اعتماد، یہی حوصلہ افزائی اور یہی مثبت رویہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے جہاں بچے صرف کامیاب ہی نہیں بلکہ بااعتماد، باکردار اور باوقار انسان بن کر ابھریں۔

Check Also

Dr. Ghayas Uddin: Jadeed Dunya e Tibb Ka Gohar e Nayab

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi