Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mujahid Khan Taseer
  4. Akhtar Usman Ka Dawa Aur Hamara Rawaiya

Akhtar Usman Ka Dawa Aur Hamara Rawaiya

اختر عثمان کا دعویٰ اور ہمارا رویہ

تنقید اور اختلاف کسی بھی زندہ اور متحرک معاشرے کے بنیادی اجزاء ہیں۔ یہی وہ قوتیں ہیں جو فکر کو جلا بخشتی ہیں، علمی رویّوں کو وسعت دیتی ہیں اور کسی بھی معاشرے کو جمود سے نکال کر ارتقا کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نہ تو تنقید کو اس کے حقیقی معنوں میں قبول کیا جاتا ہے اور نہ ہی اختلافِ رائے کو ایک مثبت علمی رویّہ سمجھا جاتا ہے۔ اکثر اوقات اختلاف کو ذاتی عناد اور تنقید کو تضحیک کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے، جو کسی بھی علمی روایت کے لیے نقصان دہ ہے۔

گزشتہ دنوں معروف نقاد اور دانشور اختر عثمان نے شاہد ریاض گوندل کے ساتھ گفتگو میں یہ جملہ کہا کہ "غالب کے ایک شعر سے پُورا علامہ اقبال نکل آتا ہے"۔ یہ ایک نہایت بڑا اور چونکا دینے والا دعویٰ تھا، جس پر علمی و تحقیقی بحث ہونی چاہیے تھی۔ مگر بدقسمتی سے اس بیان پر سنجیدہ تحقیق کے بجائے سطحی تنقید اور ذاتی نوعیت کے اعتراضات کیے گئے۔ حالانکہ یہ ایک ایسا موقع تھا جہاں اہلِ علم کو چاہیے تھا کہ وہ اس دعوے کو بنیاد بنا کر مرزا غالب اور علامہ محمد اقبال کے کلام کا تقابلی مطالعہ کرتے، غالب کے اس مخصوص شعر کی نشاندہی کرتے اور پھر اقبال کی فکری و شعری جہات کے ساتھ اس کا ربط تلاش کرتے۔

تحقیق کا تقاضا یہ تھا کہ جذباتی ردِعمل کے بجائے دلائل، شواہد اور متون کی بنیاد پر گفتگو کی جاتی۔ غالب کے دیوان سے مثالیں لے کر ان کے اسلوب، موضوعات اور فکری جہات کو سامنے رکھا جاتا اور دوسری جانب اقبال کے ہاں موجود فکری ارتقا، خودی کا تصور اور انقلابی شعور کا تجزیہ کیا جاتا۔ اس تقابل کے نتیجے میں یا تو اختر عثمان کی رائے کی تائید ہوتی یا مدلل انداز میں اس سے اختلاف کیا جاتا۔

اسی تناظر میں اختر عثمان کا ایک اور بیان بھی قابلِ غور ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ سن 2000 کے بعد اردو ادب میں کوئی نیا استعارہ سامنے نہیں آیا۔ اگر اس دعوے کو سنجیدگی سے لیا جائے تو یہ اردو ادب کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ استعارہ دراصل کسی بھی زبان کی تخلیقی قوت کا مظہر ہوتا ہے اور اس کا جمود اس بات کی علامت ہے کہ تخلیق کار کا مشاہدہ، مطالعہ اور فکری وسعت محدود ہو رہی ہے۔ ایک زندہ ادب وہی ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ نئے استعارے، نئی علامتیں اور نئے اظہاری سانچے پیدا کرے۔

اسی طرح اگر ہم اصنافِ ادب پر نظر ڈالیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند دہائیوں میں کون سی نئی صنف متعارف ہوئی ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو یہ بھی ہمارے ادبی جمود کی ایک علامت ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر وزیر آغا نے انشائیے کو باقاعدہ صنف کے طور پر متعارف کروایا، تاہم اس کی جڑیں بھی ماضی میں پیوست ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی تخلیقی جہات پیدا کرنے کے بجائے ہم پرانی روایتوں میں ہی گردش کر رہے ہیں۔

اختلافِ رائے کے حوالے سے بنیادی اصول یہ ہے کہ اسے دلیل، مشاہدے اور تحقیق کی بنیاد پر پیش کیا جائے۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ "آسمان نیلا ہے" تو اس کے پیچھے اس کا مشاہدہ موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی اس دعوے کی تردید کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے موقف کے حق میں دلائل فراہم کرے۔ محض انکار یا تضحیک علمی رویّہ نہیں بلکہ فکری کمزوری کی علامت ہے۔

لہٰذا اختر عثمان کے بیان کو بھی اسی اصول کے تحت پرکھنا چاہیے۔ ان کے دعوے کو رد یا قبول کرنے سے پہلے اس کی علمی بنیادوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہی رویہ ایک صحت مند ادبی اور سماجی فضا کو جنم دیتا ہے، جہاں اختلاف دشمنی نہیں بلکہ فکری ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم واقعی ایک باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں تنقید کو برداشت کرنا، اختلاف کو قبول کرنا اور ہر دعوے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنا سیکھنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں فکری بالیدگی اور ادبی ارتقا کی جانب لے جا سکتا ہے۔

Check Also

Khwab Liye Phirta Hoon

By Rao Manzar Hayat