Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Pinky Ka Karachi

Pinky Ka Karachi

پنکی کا کراچی

کراچی کی عدالت کی راہداری میں ایک لڑکی چل رہی تھی۔ سیاہ عینک، چہرے پر کالا ماسک، اسکائی بلیو ہاف بازو شرٹ، ڈھیلا ٹراؤزر، ہاتھ میں پانی کی بوتل اور اس کے پیچھے مرد اور خاتون پولیس اہلکار چل رہے تھے۔

عام طور پر عدالتوں میں پیش ہونے والے ملزمان کے چہرے جھکے ہوتے ہیں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوتی ہیں، پولیس اہلکار بازو پکڑ کر لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن یہاں منظر مختلف تھا۔ وہ لڑکی پُراعتماد انداز میں ایسے چل رہی تھی جیسے کسی عدالت میں پیشی کے لیے نہیں بلکہ کسی سرکاری دورے پر آئی ہو۔ اس کے قدموں میں گھبراہٹ نہیں تھی، چہرے پر خوف نہیں تھا اور رفتار میں ایک عجیب سا اعتماد تھا۔

پھر یہی ویڈیو دیکھتے دیکھتے پورے پاکستان میں وائرل ہوگئی۔ ٹی وی چینلز، فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس، ہر جگہ ایک ہی ویڈیو چل رہی تھی۔ معاملہ صرف پاکستانی میڈیا تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی میڈیا میں بھی اس کا ذکر ہونے لگا۔ لوگ حیران تھے کہ آخر ایک ڈرگ ڈیلر اتنے اعتماد کے ساتھ عدالت میں کیسے داخل ہو رہی ہے؟

اور پھر کراچی نے ایک نام سنا، انمول پنکی۔

کہتے ہیں جرائم کی دنیا میں اصل طاقت صرف پیسہ نہیں ہوتا، اصل طاقت "اثر" ہوتا ہے اور اثر بندوق سے کم، تعلقات سے زیادہ بنتا ہے۔ پنکی کی مبینہ لیک ہونے والی آڈیوز نے اسی "اثر" کی ایک جھلک دکھائی۔

ایک آڈیو میں وہ مبینہ طور پر کہتی سنائی دی: "ہم نے پورے کراچی میں اندھیر ڈالا ہوا ہے، روک سکو تو روک لو"۔

اور پھر وہ ایک اور جملہ بولتی ہے جو شاید اس پورے کیس کا سب سے خطرناک حصہ ہے: "تمہارے لوگ پانچ سال، سات سال میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں، پھر ریٹائر ہو کر مجھے کال کرتے ہیں کہ یار میں نے بہت کوشش کی لیکن تمہیں پکڑ نہیں سکا"۔

یہ جملہ صرف ایک شخص کی شیخی نہیں، یہ پورے سسٹم پر سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ اگر واقعی کوئی خاتون اس اعتماد سے یہ بات کر رہی ہے تو پھر اس کے پیچھے صرف ایک فرد نہیں ہو سکتا۔ وہاں کہیں نہ کہیں تعلقات، روابط، خاموش سہولت کار اور طاقتور سائے ضرور موجود ہوتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پنکی نے کم عمری میں یہ دھندا شروع کیا۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے اپنا حلقہ بنایا، سپلائی چین بنائی، خریدار بنائے اور پھر خود کو ایک "برانڈ" میں بدل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے گرد ایک عجیب سا خوف اور کشش دونوں پیدا ہو گئے۔ کہا گیا کہ اس کے کلائنٹس میں سیاستدان، بیوروکریٹس، کاروباری شخصیات اور شوبز سے وابستہ لوگ بھی شامل تھے۔ ان دعوؤں کی تصدیق عدالت اور تحقیقاتی اداروں نے ابھی کرنی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں تو وہ پیسہ کہاں گیا؟ کن اکاؤنٹس میں گیا؟ کن لوگوں تک پہنچا؟

یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔

ملائیشیا میں موجود ایک شخص کا نام اس پورے معاملے میں بار بار لیا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بیرونِ ملک رابطوں، لین دین اور بعض نیٹ ورکنگ معاملات میں اس کا کردار موجود تھا۔ اگر یہ بات درست ثابت ہوتی ہے تو پھر یہ کیس صرف کراچی کی چند گلیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک کا حصہ بن جاتا ہے۔

دنیا میں منشیات کا کاروبار کبھی ایک فرد نہیں چلاتا۔ اس کے لیے سپلائر، ڈسٹری بیوٹر، مالیاتی چینلز، بیرون ملک روابط، مقامی سہولت کار اور تحفظ دینے والے حلقے درکار ہوتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں سوال صرف انمول پنکی کا نہیں رہتا بلکہ پورے سسٹم کا بن جاتا ہے۔

اس پورے معاملے میں اس کے سابق ڈی ایس پی شوہر کا ذکر بھی مسلسل سامنے آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا بعض تعلقات اور روابط نے اسے وہ اعتماد دیا جس کا اظہار اس کی چال، رویے اور مبینہ آڈیوز میں نظر آتا ہے؟ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک کبھی خلا میں پیدا نہیں ہوتے، وہ ہمیشہ طاقتور سائے تلاش کرتے ہیں۔

مجھے اس پوری کہانی میں بار بار کولمبیا کی بدنام زمانہ ڈرگ لارڈ گرازیلڈا بلانکو یاد آتی رہی۔ دنیا اسے "کوکین گاڈ مدر" کہتی تھی۔ وہ 1943ء میں کولمبیا میں پیدا ہوئی۔ غربت، جرائم اور تشدد میں پلی بڑھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے نوعمری میں ہی جرائم شروع کر دیے تھے۔ پھر اسمگلنگ کی دنیا میں داخل ہوئی اور آہستہ آہستہ امریکہ پہنچ گئی۔ 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں اس نے میامی، نیویارک اور کولمبیا کے درمیان ایسا کوکین نیٹ ورک کھڑا کیا کہ امریکی ادارے ہل کر رہ گئے۔ وہ صرف منشیات فروش نہیں تھی، وہ ایک "سسٹم" تھی۔

اس کے نیٹ ورک پر سینکڑوں قتلوں کے الزامات لگے۔ بعض اندازوں کے مطابق دو سو سے زائد لوگ اس کے حکم پر مارے گئے۔ اس نے موٹرسائیکل سوار شوٹرز کے ذریعے قتل کروانے کا طریقہ عام کیا۔ میامی کی سڑکیں لاشوں سے بھرنے لگیں۔ پولیس، جج، گینگز اور سیاستدان سب اس کے نام سے خوفزدہ تھے۔ لیکن گرازیلڈا کی اصل طاقت صرف خوف نہیں تھی، اس کی اصل طاقت اس کے تعلقات تھے۔ اس نے پیسے سے وفاداریاں خریدیں، خاموشیاں خریدیں، راستے خریدے اور پھر خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگی۔

امریکی اداروں نے برسوں اس کا پیچھا کیا۔ بالآخر 1985ء میں وہ گرفتار ہوئی۔ طویل عرصہ جیل میں رہی۔ بعد میں کولمبیا واپس گئی لیکن جرائم کی دنیا میں ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی۔ 2012ء میں ایک موٹرسائیکل سوار نے اسے گولی مار کر قتل کر دیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ اسی انداز میں ماری گئی جس انداز کو اس نے کبھی اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال کیا تھا۔

نیٹ فلیکس نے 2024ء میں اس کی زندگی پر "Griselda" کے نام سے ویب سیریز بنائی جس میں صوفیہ ورگارا نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اس سیریز نے دنیا کو دکھایا کہ کس طرح ایک عورت نے تعلقات، خوف، پیسے اور منشیات کے ذریعے پورا نیٹ ورک کھڑا کیا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ کراچی میں انمول پنکی کی ویڈیو دیکھ کر لوگوں کو بار بار گرازیلڈا یاد آئی۔

پاکستان کا مسئلہ صرف جرم نہیں، مسئلہ "یادداشت" بھی ہے۔ یہاں اکثر ادارے صرف شور ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

مجھے ماڈل ایان علی یاد آتی ہے۔ 2015ء میں وہ اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار ہوئی۔ اس کے پاس سے لاکھوں ڈالر برآمد ہوئے۔ منی لانڈرنگ کا کیس بنا۔ میڈیا پر شور اٹھا۔ ٹی وی پروگرام ہوئے۔ عدالتوں میں پیشیاں ہوئیں۔ تصاویر وائرل ہوئیں۔ پھر آہستہ آہستہ شور کم ہوتا گیا اور پھر؟ معاملہ دھند میں گم ہوگیا۔

آج کتنے لوگ جانتے ہیں کہ اس کیس کا اصل انجام کیا ہوا؟ کتنے لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ پیسہ کہاں جانا تھا؟ کون لوگ اس کے پیچھے تھے؟ کون سے حلقے اس سے جڑے ہوئے تھے؟

پاکستان میں اکثر یہی ہوتا ہے۔ ابتدا میں شور اٹھتا ہے، پھر وقت گزرتا ہے، پھر نیا اسکینڈل آ جاتا ہے اور پرانی فائلیں خاموشی سے بند ہو جاتی ہیں۔

اسی لیے لوگ آج یہ سوال پوچھ رہے ہیں: کیا انمول پنکی کا انجام بھی وہی ہوگا؟ کیا چند ہفتوں بعد یہ کیس بھی ٹھنڈا پڑ جائے گا؟ کیا صرف ایک چہرہ سامنے لا کر پورے نیٹ ورک کو بچا لیا جائے گا؟ یا واقعی ان اکاؤنٹس، ان رابطوں، ان ٹرانزیکشنز اور ان طاقتور ناموں تک پہنچا جائے گا جو اس کاروبار کے پیچھے کھڑے تھے؟

کیونکہ اگر کروڑوں کی منشیات کراچی میں بکتی رہی تو یہ صرف ایک لڑکی کا کام نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے سپلائر چاہیے، خریدار چاہیے، مالیاتی چینلز چاہیے، بیرون ملک روابط چاہیے اور سب سے بڑھ کر خاموش تحفظ چاہیے ہوتا ہے اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ رپورٹس کے مطابق سکول اور کالج کے بچے بھی اس زہر کی زد میں آ رہے تھے۔

جب منشیات تعلیمی اداروں تک پہنچ جائے تو سمجھ لیجیے معاشرہ صرف جرائم کا شکار نہیں رہتا، وہ اپنی آنے والی نسلیں ہارنا شروع کر دیتا ہے۔ ریاستوں کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ صرف "چہرے" پکڑتی ہیں یا "سسٹم" بھی توڑتی ہیں۔ کیونکہ اگر صرف انمول پنکی گرفتار ہوئی اور نیٹ ورک زندہ رہا تو یاد رکھیے، چند مہینوں بعد کراچی کی کسی اور عدالت میں کوئی اور لڑکی سیاہ عینک لگائے، چہرے پر ماسک سجائے، ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑے اسی اعتماد سے چلتی ہوئی نظر آئے گی اور اس کے پیچھے پھر وہی نظام چل رہا ہوگا جو اکثر قانون سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتا ہے۔

Check Also

Ilm e Nafsiyat Ka Mukhtasir Jaiza

By Umar Farooq