Tuesday, 05 March 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Muhammad Saqib/
  4. Teen Shikari Aur Brain Power

Teen Shikari Aur Brain Power

تین شکاری اور برین پاور

پچھلے دنوں اپنے ایک ریٹائرڈ بینکر دوست کو ٹیلی فون کیا تو ان کی آواز سن کر محسوس ہوا کہ وہ کافی پریشان اور افسردہ ہے۔ جب وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ ان کا اکلوتا بیٹا پچھلے تین سالوں سے بے روزگار ہے۔ سن کر حیرت ہوئی کیونکہ ان کا بیٹا پڑھا لکھا سکل فل اور محنتی ہے۔

میں نے پوچھا ایسا کیا ہوا تو انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کی جاب جس این جی او میں تھی وہاں جب کنٹریکٹ ریوائز ہونے لگا، آج سے تین سال پہلے، تو ان کے بیٹے کو محسوس ہونے لگا کہ اس کی جاب کے دوران حق تلفی ہوئی ہو۔

تو اس نے مینجمنٹ سے کہا کہ آپ اس نئے کانٹریکٹ میں میرا نام نہ ڈالیں۔ اور جیسے پاکستان میں جذباتی نوجوان کہتے ہیں کہ ان کے پاس جابز کی کوئی کمی نہیں ہے میں کہیں نہ کہیں اپنا سسٹم بنا لوں گا۔ نئے کنٹریکٹ پر اس کا نام نہیں آیا اور اس طرح وہ پچھلے تین سال سے بے روزگار بیٹھا ہے۔

بحیثیت ایک مائنڈ سائنس ٹرینر ایسے سینکڑوں کیس میں نے ڈیل کیے کہ جذباتی طور پر خاتون گھر چھوڑ کر آگئی اور ڈائیورس لے لی۔

جذبات میں آکراپنے ابا جان کو کہہ دیا کہ مجھے جائیداد میں حصہ نہیں چاہیے۔ اور ریزائن منہ پر مار دوں گا وغیرہ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ہماری گردن کے اوپر جو دماغ ہے اگر ہم اس کو استعمال نہ کریں توکیسے نقصان پہنچاتا ہے ہمیں، اس کو ہم سمجھتے ہیں ایک سٹوری کی مدد سے، جو کہ۔۔

دنیا کی مشہور کتابوں میں سے ایک کتاب "میرا داغستان" جس کے رائٹر رسول حمزہ توف ہیں، پک کی گئی ہے اور یہ سٹوری ہے تین شکاریوں کی۔

روس کے ایک گاؤں کا منظر ہے کہ ایک بھیڑیا ایک گاؤں میں گھس جاتا ہے اور گاؤں کے لوگوں کو پریشان کرتا ہے کچھ کو زخمی کر دیتا ہے۔ کچھ کو ہلاک کر دیتا ہے تو تین شکاری فیصلہ کرتے ہیں کہ اس بھیڑیے کو ہلاک کرنا ہماری زندگی کا مقصد ہے۔

اور وہ اس بھیڑیے کا پیچھا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور بھیڑیے کی عقل بھی اسے خبردار کر دیتی ہے کہ جو لوگ اس کا پیچھا کر رہے ہیں وہ بہت ہی خوفناک اور خطرناک ہتھیاروں سے لیس ہیں ان کے پاس کلہاڑیاں ہیں بھالے ہیں۔

بھیڑیا آگے آگے ہوتا ہے اور یہ تین شکاری اس کا پیچھا کر رہے ہوتے ہیں تو بھیڑیا ایک بہت ہی تنگ راستے میں جو کہ غار کے اندر ہوتا ہے وہاں جا کر چھپ جاتا ہے۔ شکاریوں کے پاس کیونکہ رائفلز ہیں کلہاڑیاں ہیں اس لیے وہ بھی وہیں کہیں چٹان کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ بھیڑیا باہر آئے اور ہم اسے ہلاک کر دیں۔

لیکن بھیڑیا بھی بے وقوف نہیں تھا وہ بہت ہی آرام سے اپنی پناہ گاہ میں چھپا رہتا ہے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ ہار اس کی ہونی تھی جو صبر کھو بیٹھتا آخر ایک شکاری اس انتظار سے اکتا جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں غار میں جھانک کر دیکھتا ہوں کہ بھیڑیا کس پوزیشن میں ہے۔

وہ غار کے دھانے پر پہنچتا ہے اور اپنا سر اندر ڈالتا ہے۔ جب کافی دیر گزرتی ہے اور اس کے پیچھے بیٹھے ہوئے دو شکاری یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ کافی دیر سے واپس نہیں آیا۔ اور اس کا سر ابھی تک غار کے اندر ہے وہ اس کے جسم کو باہر کھینچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے اس کا سر غائب ہوگیا باقی دو شکاریوں میں بحث چھڑ گئی تھی کہ جب اس نے غار کے اندر اپنا اپنا جسم ڈالا تھا تو اس کے گردن کے اوپر سر تھا بھی کہ نہیں۔

ایک کہتا ہے مجھے تو لگتا ہے کہ اس کے پاس سر تھا دوسرے کو اس بات پر اصرار تھا کہ اس کے پاس سر ہو ہی نہیں سکتا تھا بالاخر وہ بے سر کی لاش گاؤں لے کر جاتے ہیں اور لوگوں کو اس واقعے کی تفصیل بتاتے ہیں اور باقاعدہ جرگہ بیٹھتا ہے اور اس کی بیوی سے پوچھا جاتا ہے اس کی بیوی کہتی ہے میں کیسے بتا سکتی ہوں کہ اس کے پاس سر تھا بھی کہ نہیں میں تو بس اتنا جانتی ہوں کہ وہ ہر سال اپنے سر پر پہننے کے لیے ایک مخصوص ٹوپی خریدتا تھا۔

آخر جرگے کا ایک معمر آدمی یہ فیصلہ کرتا ہے اس نے بھیڑیے کی غار میں جو گھسنے کا فیصلہ کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ ایک عرصہ پہلے ہی وہ سر سے محروم ہو چکا تھا۔ اگر اس کی گردن کے اوپر دماغ ہوتا تو وہ اتنا بڑا احمقانہ فیصلہ نہ کرتا ک ایک بھوکے بھیڑیے کے غار میں اپنا سر ڈال دیتا ہے۔

میرے دوستو!

اس کالم کے اختتام پہ، آپ بھی اپنے اپ سے کچھ سوال پوچھیں!

نمبر ون، کیا میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے اس کے اچھے یا برے پہلو کے بارے میں سوچتا ہوں؟

نمبر ٹو، کیا پچھلے پانچ سالوں میں میں نے تحمل اور برداشت کا استعمال سیکھا؟

نمبر تھری، کیا تعلیم اور بڑی بڑی ڈگریوں نے میرے دماغ کے استعمال کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا یا پھر میں آج بھی اتنا ہی جذباتی ہوں جتنا اج سے 10,15 یا20 سال پہلے تھایا پہلے تھی؟

اپنے آپ سے آخری سوال، کیا انہی شکاریوں کی طرح میری گردن کے اوپر جو دماغ ہے میں اسے استعمال بھی کرتا ہوں؟

Check Also

Adab Muhabbat Ka Endhan Hai

By Afifa Shahwar