Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Rizwan Arif
  4. China Mein Safar o Seyahat Ka Josh

China Mein Safar o Seyahat Ka Josh

چین میں سفر و سیاحت کا جوش

گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی چین بھر میں سفر کی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آ گئی ہے۔ ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور سیاحتی مقامات پر لوگوں کی بڑی تعداد اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ اس سال بھی لاکھوں خاندان اور سیاح چھٹیوں کو یادگار بنانے کے لیے ملک کے مختلف حصوں کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ صرف تفریح کا موسم نہیں بلکہ چین کے سیاحتی شعبے، نقل و حمل اور مقامی معیشت کے لیے بھی ایک مصروف ترین دور ثابت ہو رہا ہے۔

چین میں ہوابازی کے شعبے کے لیے گرمیوں کا سفری سیزن یکم جولائی سے شروع ہو کر 31 اگست تک جاری رہے گا، یعنی مجموعی طور پر 62 دن اور اس دوران سیاحت، ٹھنڈے علاقوں کی سیر اور بیرونِ ملک سفر کی بڑھتی ہوئی خواہش نے مسافروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ جنوبی چین کے اہم شہر شین ژن کے باؤآن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صبح سے ہی غیر معمولی گہماگہمی دیکھنے میں آئی۔ چیک اِن کاؤنٹرز اور روانگی کے ہال مسافروں سے بھرے رہے۔ بیجنگ اور شنگھائی جیسے بڑے کاروباری مراکز کے لیے پروازیں معمول کے مطابق مصروف رہیں، تاہم سیاحتی شہروں کے لیے پروازوں کی طلب میں خاص طور پر زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ شمال مغربی علاقے سنکیانگ کے شہر اُرومچی اور مشرقی صوبے شان ڈونگ کے ساحلی شہر وی ہائی جانے والی پروازوں میں نشستوں کا استعمال 95 فیصد سے بھی زیادہ رہا۔

کئی خاندان اس مرتبہ رش سے بچنے کے لیے گرمیوں کے آغاز ہی میں سفر پر نکل پڑے ہیں۔ عوام اپنی فیملی کے ہمراہ گرمیوں کی چھٹیوں کے شروع میں ہی ساحلِ سمندر دیکھنے اور شمالی ساحلی علاقوں کی سیر کرنے جا رہے ہیں، کیونکہ بعد میں سیاحوں کا رش بڑھ جائے گا۔ اس موسم میں ایک دلچسپ رجحان تنہا سفر کرنے والے بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی ہے۔ مختلف فضائی کمپنیاں ایسے بچوں کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کر رہی ہیں۔ چائنا سدرن ایئرلائنز کی جانب سے گزشتہ سال ایک پرواز میں زیادہ سے زیادہ آٹھ بچوں کو یہ سہولت دی جاتی تھی، لیکن اس سال یہ تعداد بڑھا کر پندرہ کر دی گئی ہے۔ ان بچوں کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی تربیت یافتہ عملہ بھی تعینات کیا جاتا ہے تاکہ وہ پورے سفر کے دوران خود کو محفوظ اور پُرسکون محسوس کریں۔

شین ژن پہنچنے والے مسافروں میں بھی خاصا جوش و خروش دکھائی دیا۔ آن لائن سفری پلیٹ فارمز کے مطابق اس موسمِ گرما میں شین ژن، شنگھائی، چینگ دو، بیجنگ، اُرومچی اور سانیا، چین کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شامل ہیں۔ کوئی اپنی فیملی سے ملنے آیا ہے تو کوئی شہر کی جدید ٹیکنالوجی سے متاثر ہو کر یہاں کا رخ کر رہا ہے۔ کچھ لوگوں کو تنہا سفر کرنے میں ذرا سا بھی خوف محسوس نہیں ہوتا، کیونکہ دورانِ پرواز عملہ اس کا بھرپور خیال رکھتا ہے، کچھ سیاح شین ژن کی مشہور ہوا چیانگ بے الیکٹرانکس مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ مائیکرو کنٹرولر ڈویلپمنٹ بورڈز اور دیگر الیکٹرانک آلات خریدنا چاہتے ہے۔ یہ منظر اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ شین ژن اب صرف ایک صنعتی شہر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔

سیاحت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ شین ژن باؤآن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صرف ایک دن میں 1313 پروازوں کی آمد و رفت طے کی گئی، جبکہ یی نِنگ، دالی، شی شوانگ بانا اور ہائی لا ار جیسے مقبول سیاحتی مقامات کے لیے نئی پروازیں بھی شروع کی گئی ہیں یا ان کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔ سفری ادارے ٹونگ چھنگ ٹریول کے مطابق 2026 کے گرمیوں کے سیزن میں اندرونِ ملک ہوائی ٹکٹ کی اوسط قیمت تقریباً 925 یوآن ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی پروازوں کے ٹکٹ کی اوسط قیمت تقریباً 1300 یوآن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سیزن کے مقابلے میں گیارہ فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ تاہم جولائی کے پہلے ہفتے اور اگست کے آخری ہفتے میں اب بھی محدود تعداد میں نسبتاً کم قیمت ٹکٹ دستیاب ہیں۔

دوسری جانب ریلوے کا گرمیوں کا سفری سیزن بھی یکم جولائی سے شروع ہو چکا ہے۔ توقع ہے کہ 31 اگست تک چین کا ریلوے نیٹ ورک ایک ارب ایک کروڑ سے زائد مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرے گا، یعنی روزانہ اوسطاً ایک کروڑ باسٹھ لاکھ نوے ہزار سے زیادہ افراد ٹرین کے ذریعے سفر کریں گے۔ یہ تمام مناظر اس بات کی عکاسی کرتے ہے کہ چین میں گرمیوں کی چھٹیاں صرف سیاحت کا موسم نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں، بہتر سفری سہولیات اور لوگوں کے باہمی میل جول کا بھی ایک اہم موقع بن چکی ہیں، جہاں ہر سفر اپنے ساتھ نئی یادیں اور نئے تجربات لے کر آتا ہے۔

Check Also

Tareekh Ke Qehqahe

By Muhammad Mohsin Khan