Apna Khana Khud Garam Kar Lo
اپنا کھانا خود گرم کر لو

خواتین پر ظلم نامنظور ہے۔ خواتین معاشرے کا اہم جزو ہیں اور ان کے بغیر کسی معاشرے کا تصور ممکن نہیں۔ ابتدائے انسانیت سے جب معاشرت کا آغاز ہوا تب سے آج تک خواتین پر ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف زمانوں میں خواتین کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا گیا۔ یہ ناروا سلوک آج تک دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہے جہاں خواتین کی حیثیت غلاموں سے زیادہ نہیں۔
عورت اور مرد جسمانی طور پر مختلف ہو سکتے ہیں لیکن انسان ہونے کے ناطے دونوں کے حقوق برابر ہونے چاہئیں۔ انسانیت کے عروج کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار زوال کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ خواتین کو برابری کے حقوق نہ ملنا اور خواتین کا سڑکوں پر نکلنا اس کا منہ بولتا ثبوت ہے لیکن 8 مارچ کو پاکستان میں ہونے والے عورت مارچ میں خواتین برابری کی نہیں بلکہ ایسے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں جو کہ فیمینزم سے متاثر ہے۔
ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے بیسویں صدی سے پہلے یورپ میں خواتین جائیداد کی مالک نہیں بن سکتی تھیں، ووٹ نہیں دے سکتی تھیں، اپنے بچوں پر قانونی حق نہیں رکھتی تھیں اور گھر سے باہر کام نہیں کر سکتی تھیں۔ خواتین کی کوئی حیثیت نہیں تھی ان پر مردوں کی آمریت تھی۔ گزشتہ نصف صدی سے یورپ میں جو حقوق خواتین کو حاصل ہیں وہ بھی برابری کے نہیں ہیں بلکہ مردوں کے حقوق کو خواتین پر لاگو کیے گئے ہیں۔
فرض کریں ایک مالدار کسان کے دو بیٹے ہیں ایک چاق و چوبند صحت مند اور دوسرا ہلکا پھلکا ضعیف جسامت رکھنے والا نوجوان ہے۔ کسان گزشتہ بیس سالوں سے اپنے صحت مند بیٹے کے ساتھ کھیتوں کے معاملات سنبھال رہا ہے جبکہ ضعیف جسامت رکھنے والا شہری کاروبار سنبھال رہا ہے۔ اب کسان کی موت کا وقت آ پہنچا ہے اور کسان شہر میں موجود تمام کارخانوں کو اپنے صحت مند بیٹے کے نام اور زمین و کاشتکاری ضعیف جسامت والے بیٹے کے نام کرتا ہے۔ کسان کی موت ہوئے دو مہینے گزر چکے ہیں اور بیٹوں کے پاس چھت نہ ہونے کی وجہ سے دونوں سڑک کنارے سو رہے ہیں۔
مغربی ممالک گزشتہ نصف صدی سے یہی پروپیگنڈا خواتین کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ خواتین جسمانی طور پر مردوں سے کمزور ہوتی ہیں اور فطری طور ان کو ہر مہینے پیریڈز ہوتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ ان تقاضوں کو نظرانداز کرکے برابری کے نام پر مردوں کے حقوق خواتین پر نافذ کیے جائیں اور آزادی دینے کے نام پر خواتین کے جسموں کو استعمال کیا جائے، جس کے نتیجے میں ایک سے زیادہ مردوں سے جسمانی تعلقات قائم کرنے پر ہر دو منٹ میں ایک عورت سروکس کے کینسر سے مر جاتی ہے (بحوالہ: عالمی ادارۂ صحت 2025)، جس سے عالمی سطح پر سالانہ دو لاکھ ستر ہزار سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔
پاکستان میں بھی خواتین کے ساتھ ہونے والا سلوک ناروا ہے۔ اسلام کے نام پر خواتین کی حق تلفی کی جاتی ہے۔ بات کی جائے خواتین کی گھروں تک محدودیت کی یا میٹرک کے بعد تعلیم مکمل نہ کرنے دینے کی یا زبردستی نکاح کرانے کی، یہ تمام پابندیاں اسلامی قوانین کے نام پر لگائی جاتی ہیں۔ کیا واقعی اسلامی قوانین یہی ہیں کہ خواتین گھروں تک محدود رہیں اور۔۔ نہیں! اسلام چودہ سو سالوں سے خواتین کے حقوق کا علم بردار ہے اور تمام تر ناانصافیوں کے مقابلے میں خواتین کا محافظ ہے۔
اسلام دور جہالت سے آج تک خواتین کو زندہ رہنے اور تمام انفرادی اور اجتماعی اقدار میں مردوں کے برابر حقوق دینے کا حامی ہے۔ اسلام نے خواتین کے جسمانی اور فطری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں لیکن بعض امور میں برابر مگر ایک جیسے حقوق نہیں دئیے۔ اسلامی معاشرتی نظام میں مردوں کو خواتین پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، نیکی چاہے مرد کرے یا عورت اس کا صلہ ایک برابر دیا جاتا ہے، تعلیم کے حصول، آزادی بیان، ملکیت جیسے امور میں خواتین کو مردوں کے برابر اور ایک جیسے حقوق دیئے گئے ہیں جبکہ بعض امور میں خواتین کو مختلف مگر مردوں کے برابر حقوق دیئے گئے ہیں جیسے وراثت کی تقسیم میں خواتین کو ایک حصہ جبکہ مردوں کو دو حصے دیئے جاتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خواتین کو دو مرتبہ وراثت میں حق ملتا ہے۔ ایک حصہ باپ کی وراثت سے اور کچھ حصہ شوہر کی طرف سے بھی ملتا ہے۔ حالانکہ مرد کو صرف ایک مرتبہ باپ کی طرف سے وراثت میں حصہ دیا جاتا ہے۔
اسی طرح خواتین کے لیے پردہ کا حکم لباس اور جسم کو چھپانا ہے جبکہ مردوں کے لیے نگاہ کو، یہ اس لیے تاکہ خواتین انفرادی طور پر مردوں کی گندی اور شہوت آمیز نظروں سے محفوظ رہ سکیں، اس کا اجتماعی فائدہ یہ ہوگا کہ کارخانوں اور بازاروں میں کام کرنے والے مردوں کی توجہ خواتین سے ہٹ کر کام پر ہوگی جو شرح پیداوار میں اضافہ کا سبب بنے گی اور اس کا معاشی فائدہ یہ ہوگا کہ پردہ خواتین کو غیر ضروری فیشن سے سبکدوش کرے گا جو یقیناََ معاشی آسودگی کا باعث بنے گا۔ اسی طرح اسلام کے دیگر تمام قوانین جو خواتین کے لیے وضع کیے ہیں عین عدالت کے مطابق ہیں۔
عورت مارچ خواتین کا بنیادی حق ہے۔ نہ صرف آٹھ مارچ بلکہ سال کے کسی بھی مہینے کے کسی بھی دن خواتین اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کرسکتی ہیں۔ خواتین کے حقوق سے کوئی انکار نہیں کرتا لیکن عورت مارچ میں مطالبہ کیے جانے والے حقوق ہمارے معاشرتی اقدار کے خلاف ہیں۔ میرا جسم میری مرضی، کھانا خود گرم کر لو، مرد بنو خدا نہیں۔۔ ان سب نعروں میں احساس کمتری نمایاں نظر آرہی ہے جو کہ ہمارا قومی مسئلہ بھی ہے۔ جس کا شکار نئی نسل سب سے زیادہ ہو رہی ہے۔
اس کی اہم وجہ مغربی ہتھکنڈے ہیں، وہ نئی نسل کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ نئے دور کا نیا تقاضا ہے کہ خواتین ننگی ہوجائیں، مشقت بھرا کام کریں، شادی کرنے کی بجائے جس کے ساتھ چاہے جسمانی تعلقات بنائیں۔ حالانکہ خود ان کا خاندانی نظام انہی اسباب کی وجہ سے تباہ ہوچکا ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہئے مغربی ممالک ٹیکنالوجی میں ہم سے آگے ہوسکتے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کو روئے زمین کی بہترین نسل قرار دے کے خود کو ان سے کم تر محسوس کریں اور اپنی ہزار سالہ تہذیب اور تمدن بھول کر ان کی اندھادھن تقلید شروع کر دیں۔
بحیثیت قوم ہم گورے رنگ کو خوبصورتی، چهوٹے کپڑے پہننے کو ترقی اور انگریزی زبان بولنے کو فیشن سمجھتے ہیں جو کہ احساس کمتری کے نمایاں اثرات ہیں۔ عورت مارچ بھی احساس کمتری کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ خواتین بھی پردہ کرنے، خاندان تشکیل دینے اور اسلامی تعلیمات کی پیروی کرنے میں خود کو باقیوں سے کم تر محسوس کرتی ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی اور جمہوری ملک ہے۔
عورت مارچ پاکستانی مہذب معاشرے میں ایک ناسور ہے جو مختلف سازشوں کا نتیجہ ہے۔ خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے اور پر امن احتجاج کرنے سے کوئی نہیں روکتا لیکن ضروری ہے کہ جن حقوق کا مطالبہ کر رہی ہوں وہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ہو۔ بحیثیت مسلمان ہمیں مغربی ممالک میں آزادی کے نام پر خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور ان کو حقوق دلانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

