Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Anfal
  4. Ratta System: Taleem Ya Mehaz Yaadasht Ka Khel?

Ratta System: Taleem Ya Mehaz Yaadasht Ka Khel?

رٹہ سسٹم: تعلیم یا محض یادداشت کا کھیل؟

ہمارے تعلیمی نظام میں ایک ایسا مسئلہ برسوں سے موجود ہے جس پر اکثر بحث ہوتی ہے، مگر اس کا مکمل حل آج تک سامنے نہیں آ سکا۔ یہ مسئلہ "رٹہ سسٹم" یعنی بغیر سمجھے صرف یاد کرنے کا طریقہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نظام واقعی علم پیدا کر رہا ہے یا صرف امتحان پاس کرنے والی مشینیں؟

آج کے بیشتر طلبہ کا مقصد صرف امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے، چاہے وہ مواد کو سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ کتابوں کے صفحات حفظ کر لیے جاتے ہیں، لیکن جیسے ہی امتحان ختم ہوتا ہے، وہی معلومات ذہن سے غائب ہو جاتی ہیں۔ یہ عمل وقتی کامیابی تو دے دیتا ہے مگر حقیقی سیکھنے سے محروم رکھتا ہے۔

رٹہ سسٹم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو دبا دیتا ہے۔ جب طالب علم کو ہر چیز یاد کرنے پر مجبور کیا جائے تو اس کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت آہستہ آہستہ کمزور ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم ایسے افراد تیار کرتے ہیں جو سوالوں کے جواب تو دے سکتے ہیں مگر مسائل کا حل تلاش نہیں کر سکتے۔

دوسری طرف کچھ لوگ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ موجودہ نظام کے دباؤ کی وجہ سے رٹہ ایک مجبوری بن چکا ہے۔ بڑی کلاسوں، محدود وقت اور نصاب کے دباؤ میں طلبہ کے پاس اکثر گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ ہر موضوع کو گہرائی سے سمجھ سکیں۔ اس لیے وہ یاد کرنے کے طریقے کو آسان راستہ سمجھتے ہیں۔

اساتذہ کا کردار بھی اس مسئلے میں اہم ہے۔ اگر تدریس کا انداز صرف لیکچر اور رٹہ لگوانے تک محدود ہو تو طلبہ کے لیے سیکھنا ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ اگر تدریس کو دلچسپ، عملی اور سوال و جواب پر مبنی بنایا جائے تو طلبہ خود بخود سمجھنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ہمیں ایسے امتحانی طریقے اپنانے ہوں گے جو صرف یادداشت نہیں بلکہ سمجھنے کی صلاحیت کو بھی پرکھیں۔ اسی طرح عملی تعلیم، پروجیکٹس اور ریسرچ ورک کو بھی نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ رٹہ سسٹم وقتی طور پر کامیابی دے سکتا ہے، مگر یہ حقیقی تعلیم کا متبادل نہیں۔ اگر ہم واقعی ایک ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں یادداشت کے بجائے فہم اور سوچنے کی صلاحیت کو فروغ دینا ہوگا۔

Check Also

Hum To Chalay Mandi

By Azhar Hussain Azmi