Kya Mardon Par Bhi Muasharti Dabao Hota Hai?
کیا مردوں پر بھی معاشرتی دباؤ ہوتا ہے؟

ہمارے معاشرے میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مرد مضبوط ہوتے ہیں، انہیں تکلیف یا دباؤ محسوس نہیں ہوتا اور وہ ہر مشکل کا سامنا خاموشی سے کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مردوں کے مسائل پر کم بات کی جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مرد بھی شدید معاشرتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، صرف فرق یہ ہے کہ انہیں اپنے جذبات ظاہر کرنے کی اجازت کم دی جاتی ہے۔
بچپن سے ہی لڑکوں کو سکھایا جاتا ہے کہ "مرد روتے نہیں" یا "تمہیں مضبوط بننا ہے"۔ یہی جملے آہستہ آہستہ ان کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وہ اپنے دکھ، خوف اور ذہنی دباؤ کو دل میں چھپانا سیکھ لیتے ہیں کیونکہ معاشرہ جذباتی مرد کو کمزور سمجھتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں مرد پر سب سے بڑا دباؤ معاشی ذمہ داریوں کا ہوتا ہے۔ ایک مرد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اچھی تعلیم حاصل کرے، بہترین نوکری کرے، گھر چلائے اور ہر حال میں خاندان کی ضروریات پوری کرے۔ اگر وہ بے روزگار ہو یا مالی مشکلات کا شکار ہو تو معاشرہ اسے ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ یہی دباؤ کئی مردوں کو ذہنی پریشانی، بے چینی اور ڈپریشن کی طرف لے جاتا ہے۔
اس کے علاوہ مردوں کی ذاتی زندگی بھی معاشرتی توقعات کے بوجھ تلے دبی ہوتی ہے۔ ان سے ہمیشہ مضبوط، سنجیدہ اور کامیاب نظر آنے کی امید رکھی جاتی ہے۔ وہ اپنے مسائل کسی سے شیئر نہیں کرتے کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ ان کا مذاق اڑائیں گے یا انہیں کمزور سمجھیں گے۔
سوشل میڈیا نے بھی اس دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ آج ہر طرف کامیابی، دولت اور پرتعیش زندگی کی نمائش ہوتی ہے۔ نوجوان مرد اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں اور خود کو ناکام محسوس کرنے لگتے ہیں۔ بہت سے لوگ اندر سے ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں مگر باہر سے خود کو مضبوط ظاہر کرتے ہیں۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ مرد بھی انسان ہیں۔ انہیں بھی جذبات، محبت، توجہ اور ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر معاشرہ مردوں کے جذبات کو سمجھنا شروع کر دے اور انہیں اپنے مسائل بیان کرنے کی آزادی دے تو بہت سی ذہنی اور سماجی مشکلات کم ہو سکتی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ معاشرتی دباؤ صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مرد بھی اس بوجھ کو خاموشی سے اٹھاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ بنائیں جہاں ہر انسان، چاہے مرد ہو یا عورت، اپنے جذبات اور مشکلات بغیر خوف کے بیان کر سکے۔

