Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Zardari, Establishment Ke Naam Par Jhagra Hai Kya?

Zardari, Establishment Ke Naam Par Jhagra Hai Kya?

زرداری، اسٹیبلشمنٹ کے نام پر جھگڑا ہے کیا؟

مجھے تو سمجھ یہ آتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایک تو وفاقی افسر شاہی کے پاس وہ فنڈز اور وسائل نہیں ہیں جن کو وہ مرکز کے نام پر اصل مرکزی اور پنجاب کے بیوروکریٹک ڈھانچے اور پنجابی حکمران اشرافیہ پر خرچ اور استعمال کرتی تھی۔ اس میں سے کچھ حصہ پنجاب کی بالائی اور زیریں متوسط طبقے اور اس کی تلچھٹ پنجاب کے شہری اور دیہی غریبوں پر خرچ کرنے کے لیے نکل آتا تھا۔ گویا مرکز کے پاس جو اختیارات، ٹیکسیشن اور ہیلتھ، تعلیم جیسے شعبے کنکریٹ لسٹ میں تھے ان سے بھی وسائل کا رخ پنجاب کی طرف موڑنے میں مدد ملتی تھی۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا راستا ملا ہے۔ اس وقت سندھ وسائل اور محصولات کے میدان میں پنجاب سے کہیں زیادہ آگے ہے۔ اس کے پاس گیس کے 75 فیصد ذخائر ہیں۔ اس کے پاس کوئلے کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ ونڈ پاور کا خزانہ اس کے پاس ہے۔ اس کے موسمی حالات اس کی زراعت اور فصلوں کو سپورٹ دے رہے ہیں اور سندھ کی زراعت بہتر سے بہتر ہورہی ہے۔ صرف گندم، کپاس، چاول، گنا جیسی چار کیش کراپ کو لیں تو سندھ میں ان کے معاملے میں استحکام ہے۔ اس بنیاد پر سندھ میں کاٹن اینڈ جننگ، اسپننگ، لائیو اسٹاک، رائس انڈسٹری، شوگر انڈسٹری میں استحکام اور ترقی نظر آ رہی ہے۔ انرجی سیکٹر کو لیں تو تھر کول پاور انڈسٹری، فرٹیلائزر انڈسٹری، ونڈ پاور انڈسٹری ترقی کر رہی ہے۔

سندھ میں تجارت بھی استحکام اور بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ سندھ نے ہیلتھ اور تعلیم کے سیکٹر میں بھی کافی ترقی کی ہے۔ سندھ اپنی پاور اینڈ ڈسپیچ ٹرانسمیشن کمپنی، اپنی انرجی کمپنی بنا چکا ہے۔ سندھ حکومت پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں سندھ میں حیدرآباد، سکھر اور کے الیکٹرک تک پر نظر لگائے بیٹھا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے سندھ میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم و ترسیل دونوں اس کے سپرد کردی جائیں۔ وہ اس صورت میں سستی بجلی فراہم کرنے کے قابل ہوگا۔ اگر ہم دوسری طرف پنجاب میں نظر دوڑائیں تو آبادی کا بے تحاشا دباؤ ہے۔

پنجاب میں جو بمپر کیش کراپس گندم، چاول، گنا، آلو اور کپاس ان چاروں فصل اگانے والے کسانوں کی حالت بہت بری ہے۔ چھوٹے کسان کی حالت کو تو رہنے ہی دیں متوسط اور بڑے زمینداروں کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اندازہ کریں کہ پنجاب کے خزانے میں 87 فیصد کا تعلق وفاق سے ملنے والے فنڈز، گرانٹس اور قرضوں پر مشتمل ہے جبکہ مشکل سے 17 فیصد ٹیکسز اور نان ٹیکسز سے حاصل ہوتا ہے اور اس پر کمرشل بینکوں سے لیے جانے والے بھاری قرضے الگ سے ہیں۔ پنجاب میں اس وقت جو پاور پلانٹس ہیں ان کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ ہو یا حویلی فاضل پاور پلانٹ ہو سب کے سب بحران کا شکار ہیں۔ درآمدی کوئلے نے ان کو بہت مہنگے پروجیکٹس میں بدل دیا ہے۔ قائد اعظم سولر پاور پلانٹ بہت کم بجلی پیدا کر رہا ہے۔

پنجاب میں اس وقت کاٹن اینڈ جننگ انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں سینکڑوں یونٹس کے آپریشن بند ہوگئے ہیں۔ یہ پرائمری، مڈل اسکول بند کر رہے ہیں۔ ہائی اسکول اور کالجز بیچ رہے ہیں۔ ہسپتالوں کی نجکاری تیزی سے ہورہی ہے۔ یونیورسٹیاں مالی بحران کا شکار ہیں۔ پنجاب اس وقت بھی باقی تین صوبوں کی گیس، تیل، بجلی کا سب سے بڑا صارف ہے اسکا ان شعبوں میں پیداواری حصہ تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ میونسپل خدمات کی نجکاری کا عمل تیز کرنا پڑا ہے۔

پنجاب کا سب سے بڑا مسئلہ ٹیکس و نان ٹیکس آمدنی کے دائرے کا نہ بڑھنا ہے۔ پنجاب کے صوبائی، ضلعی ایڈمنسٹریشن اور بیوروکریٹک ڈھانچے کے اخراجات ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں سنٹر اور پنجاب جو اصل میں بیوروکریٹک ڈھانچے میں کم و بیش ایک ہی ہے وہ بجائے اپنی آمدن بڑھانے اور وسائل پیدا کرنے کے اس کی نظر تین صوبوں اور خاص طور پر سندھ کو ملنے والے این ایف سی ایوارڈ سے رقوم اور سندھ کے وسائل پر لگی ہے۔ پیپلزپارٹی کے پاس لے دے کر ایک سندھ ہی بچا ہوا ہے باقی تین صوبوں میں اس کے پاس نہ ہونے کے برابر اسٹیک ہے۔

پیپلزپارٹی کے بغیر نہ تو اٹھارویں ترمیم کو ریورس گئیر لگ سکتا ہے اور نہ ہی این ایف سی ایوارڈ میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔ خیبرپختون خوا اور سندھ نے اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کو مسترد کیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے اب تک غیر منتخب ہئیت مقتدرہ اور مسلم لیگ نواز سے جتنے سمجھوتے کیے ہیں ان کے پیچھے اٹھارویں ترمیم کے بچانا ہے۔

زرداری صاحب جانتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی جس سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابل تقسیم فنڈز میں کمی ہو اور تعلیم و صحت دوبارہ سے کنکریٹ لسٹ میں شامل کرنے کی طرف زرا بھی قدم بڑھای تو ان کا مضبوط گڑھ سندھ بھی ان سے چھن سکتا ہے۔ پنجاب اور وفاق کی معیشت کی ڈوبتی ہوئی ناو جس کو کم از کم 4 فیصد گروتھ تک لیجایا جائے یہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ مرکز اس وقت سعودی عرب، قطر، کویت، چین کے دیے ہوئے ڈالروں کے ساتھ عبوری انتظام میں 2021ء سے چل رہا ہے۔ ایک سال کے لیے لیے گئے 12 ارب ڈالر کو ری شیڈول کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن لانے کی پالیسی کام کرتی نظر نہیں آ رہی ابھی تک دور دور تک امریکی سویلین اور فوجی امداد کی بحالی کے آثار نظر نہیں آ رہے جو 2012ء سے بند ہوئی ہوئی ہے۔

فوجی جنتا کی خصوصی سہولت کار کونسل برائے سرمایہ کاری غیر ملکی امداد اور سرمایہ کاری تو ملک میں کیا لاتی وہ اپنے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو سرمایہ باہر منتقل کرنے سے روک نہیں سکی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری سے مایوس ہوکر اب فوجی جنتا مقامی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو گاجر اور چھڑی کے زور پر ملک میں 200 ارب روپے کے سرمائے کے انخلاء کو واپس لانا چاہتی ہے اور گاجر اینڈ چھڑی والی حکمت عملی بھی کام نہیں کر رہی ہے۔ مسلم لیگ نواز اور فوجی جنتا کا سب سے بڑا مخمصہ یہ ہے کہ وہ چیلنجز کا سیاسی اور معاشی میدان میں آزادانہ مسابقت اور مقابلہ کر نہیں پا رہیں۔ پنجاب میں وہ تحریک انصاف کے چیلنج کا مقابلہ سیاسی میدان میں تو کرنے کا حوصلہ کب کا چھوڑ بیٹھی ہے۔ پیپلز پارٹی کو وہ پنجاب میں آنے کی آزادی ملنے کے خیال سے ڈر جاتی ہے۔ اسی ڈر سے وہ بلدیاتی انتخابات سے بھاگ رہی ہے۔

بحران میں جنگ زرداری اور اسٹیبلشمنٹ کی ہی نہیں ہے بلکہ یہ پنجاب کی بھی ہے اور مسلم لیگ نواز کی سیاسی بقا کی بھی ہے۔ زرداری پر دباؤ اور غصہ اس لیے بھی ہے کہ وہ نہ تو غلام مصطفی جتوئی بننے کو تیار ہیں نہ وہ جام صادق بننے کو تیار ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے پاس سندھ میں کوئی سیاسی کارگر کارتوس نہیں ہے نہ قوم پرست نہ ایم کیو ایم نہ ملاں۔۔ اسٹیبلشمنٹ کے لیے پیپلزپارٹی کی سندھ میں سیاسی پاور کو توڑنا کسی راستے سے ممکن نظر نہیں آ رہا۔ پیپلزپارٹی نے انھیں کینالز ایشو پر سخت مایوس کیا۔ پیپلزپارٹی نے جس قدر اپنے آپ کو مصلحت اور سمجھوتے کے راستے پر چلایا ہے اس سے خود اس پر اندر اور باہر سے سخت ترین دباؤ ہے۔ پیپلزپارٹی کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کی ایک ایسی بی ٹیم بنے جس سے سندھ کے اختیارات اور وسائل مرکز اور پنجاب کو منتقل ہوں یہ ایک ریڈ لائن ہے۔

اسٹیبلشمنٹ دباؤ بڑھائے جا رہی ہے۔ زرداری اس دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے، کھلے تصادم سے گریزاں ہوتے ہوئے وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ اس وقت فوج ٹی ٹی پی، داعش، بلوچ انسرجنسی اور ملکی معیشت کا جو چیلنج ہے اس کے ہوتے پیپلزپارٹی کو سائیڈ لائن کرتے ہوئے خود ریڈ لائن کراس کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ زرداری صاحب نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ سندھ کے جو ریڈیکل قوم پرست ہیں ان کے اور مرکز کے درمیان اگر کوئی دیوار اس وقت ہے تو وہ خود ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کی وفاق پرست سیاست کو سندھ سے ختم کیا گیا تو سندھ میں بلوچستان سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر شورش کا سامنا کرنا پڑے گا۔

علیحدگی پسند سندھی قوم پرست سیاست کا جن ہی بوتل سے باہر نہیں آئے گا بلکہ علیحدگی پسند مہاجر قوم پرستی کی سیاست کا جن بھی بوتل سے باہر نکل آئے گا۔ اس وقت اردو اسپیکنگ لوئر مڈل کلاس میں اسٹیبلشمنٹ سے نفرت اور غصہ عروج پر ہے اور ان کے دلوں میں الطاف حسین بستا ہے یا وہ اپنے مسیحا کے روپ میں الطاف جیسا شخص ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے جنتا کو سندھ کے شہری اور مہاجر اکثریت کے علاقوں سے بھی کوئی خاص مدد ملتی نظر نہیں آ رہی ہے اگرچہ اس وقت سندھ کے شہری اردو اسپیکنگ مہاجر اکثریت کے علاقوں میں اسٹیبلشمنٹ کے جتنے مہرے ہیں وہ سب کے سب چائے کی پیالی میں بھی تھوڑا سا ارتعاش ہو وہ اسے طوفان بناکر دکھاتے ہیں۔

مسلم لیگ نواز سے پی پی پی کا موازانہ کافی دلچسپ نتائج دیتا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ نواز کی وفاقی اور پنجاب کی پارلیمانی طاقت کے نمائندوں کی اکثریت پر فارم سنتالیس کا گہرا داغ لگا ہوا ہے۔ پنجاب میں چھوٹے، بڑے تاجر ہوں، کسان ہوں، سرکاری ملازمین ہوں، صنعتی ورکرز ہوں، شہری اور دیہی غریب ہوں ان سب میں پنجاب اور وفاق کے خلاف غصہ اور بے چینی بہت شدید ہے۔ مسلم لیگ نواز پنجاب کی سیاست میں اپنے سب سے بڑے حامی طبقات یعنی تاجر اور سرکاری ملازمین میں سب سے زیادہ غیر مقبول ہے۔

اس غیر مقبولیت نے شریف خاندان اور مسلم لیگ کے تمن خان قد آور سیاست دانوں کو سخت خوفزدہ کر رکھا ہے۔ وہ پنجاب کی صوبائی اور ضلعی ایڈمنسٹریشن کے ذریعے لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرانے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ وہ سو فیصد یقینی جیت کے امکان کے ساتھ کسی بھی سطح کے انتخابات میں جانا چاہتی ہے چاہے وہ بلدیاتی انتخابات ہوں یا پھر عام انتخابات۔ لیکن پیپلزپارٹی کی سندھ اور پنجاب سے مل کر بنی پارلیمانی قوت کو فارم سنتالیس یا نتائج کی تبدیلی سے بنانے کا الزام نہیں ہے۔

بلوچستان کی مثال استثنا کی ہے وہ سیٹ آپ کس کا ہے اس سے سب واقف ہیں۔ نہ ہی اس وقت اسے سندھ کے تاجروں، کسانوں، سرکاری ملازمین کی طرف سے کسی وجودی خطرے والے چیلنج کا سامنا ہے۔ سندھی مڈل کلاس کی چند ایک پرتوں میں اسے چیلنج کا ضرور سامنا ہے لیکن اس پرت کا وزن اتنا نہیں ہے کہ وہ اس کی پارلیمانی قوت اور طاقت پر کوئی کاری ضرب لگا سکے۔ دیکھا جائے تو سب سے کمزور وکٹ اور پوزیشن تو مسلم لیگ نواز کی ہے۔ اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس پوزیشن کے ساتھ پیپلزپارٹی سے دشمنی کو واپس نوے کی دہائی میں لے جائے۔ دیکھا جائے تو نواز لیگ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے مکمل اطاعت اور تابعداری کی پالیسی کے ساتھ ہونے کے پیپلزپارٹی کے خلاف ریڈ لائن عبور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

خود نواز لیگ کے اندر اس مکمل اطاعت اور فرمانبرداری کی پالیسی پر اختلاف موجود ہے۔ اس کے بعض لیڈر جیسے خواجہ سعد رفیق ہیں پارٹی کے بند کمروں میں ہونے والے اجلاسوں میں اس پالیسی کے خلاف کھل کر بول رہے ہیں۔ کونسٹیٹوشن ایونیو ساگا کے پیچھے ایک معاملہ یہ بھی ہے۔ شہباز شریف کے بیٹے، بیٹی اور داماد کے حوالے سے جو پاور پروجیکٹ کا اسکینڈل آیا ہے یہ بھی ایک چتاونی سمجھی جاسکتی ہے۔ یہ مسلم لیگ کے ان رہنماؤں کو ایک تنبیہ بھی ہوسکتی ہے جو جو مکمل تابع داری اور اطاعت کی پالیسی کو ریورس گئیر پر لگانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت جنتا مسلم لیگ نواز سے کچھ اور زیادہ تابعداری دکھانے اور کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کی خواہش رکھتی ہے۔

وزیراعظم کی تبدیلی کی افواہوں میں یونہی شدت نہیں آئی تھی۔ فوجی وردی سے کہیں زیادہ تھری پیس سوٹ زیب تن کرنے والے فیلڈ مارشل اس وقت موجود چیلنج میں امریکی صدر ٹرمپ، سعودی حکمران شاہی خاندان، روسی صدر اور چینی انتظامیہ سے بھی کافی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کی قیادت کے بھی ان بین الاقوامی طاقت کے مراکز کے اندر اپنے رابطے اور تعلقات ہیں خاص طور پر زرداری کے۔ حکمران طبقات کے اپنے اندر تضادات اور تقسیم بڑے نازک موڑ پر کھڑی ہے۔

روف کلاسرا جس tugs of war کو محض زرداری اور فیلڈ مارشل کے درمیان دکھانے اور ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ ہوسکتا ہے tips of the iceberg سے نیچے مزید گہرائی میں جانے کی ممانعت ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ دباؤ سے آگے ریڈ لائن کراس کرنے کی جرات کرے گی یا یہ فلم بھی ماضی کی اس جیسی دیگر فلموں کی طرح ڈبے میں بند ہوجائے گی۔ آنے والے دنوں میں پیپلزپارٹی سندھ کے کئی وزراء نشانے پر آئیں اور ان کے ذریعے اصل نشانہ زرداری ہوں گے۔

Check Also

Dehshat Gardon Ki Muzammat Ghair Mashroot Karen

By Amir Khakwani