Tuesday, 28 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Liberal Left

Liberal Left

لبرل لیفٹ

یہ بات صاف کر لینی چاہیے کہ جسے عموماً "لبرل لیفٹ" کہا جاتا ہے، وہ خود کوئی یکساں یا یک رنگ نظریہ نہیں۔ اس میں اصلاح پسند سوشل ڈیموکریٹس سے لے کر این جی او ازم تک مختلف رجحانات شامل ہوتے ہیں۔ مگر مارکسی نظریۂ سیاست کی روشنی میں اس کے چند ساختی کمزور پہلو بار بار سامنے آتے ہیں۔

ساخت کی بجائے اخلاقیات پر انحصار کرتی ہے لبرل لیفٹ اکثر سیاست کو "اچھے لوگ بمقابلہ برے لوگ" کے فریم میں دیکھتی ہے۔ اس کے ہاں "کرپٹ اشرافیہ"، "بری قیادت"، "خراب حکمرانی" جیسے بیانیے غالب ہوتے ہیں جبکہ سوشلسٹ نظریے کے مطابق مسئلہ افراد نہیں بلکہ پیداواری رشتے اور طبقاتی ساخت ہے۔

یہ اخلاقی تنقید، نظام کو چیلنج کرنے کے بجائے اسے "بہتر بنانے" تک محدود رہتی ہے۔

طبقاتی جدوجہد کی جگہ نمائندگی کی سیاست لے لیتی ہے۔ لبرل لیفٹ کی سیاست اکثر "representation" یعنی نمائندگی کے گرد گھومتی ہے: خواتین، اقلیتوں، نوجوانوں کی نمائندگی۔ پارلیمنٹ میں بہتر چہرے۔

یہ سب اہم ہیں، مگر جب یہ طبقاتی سوال کو پیچھے دھکیل دیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ: استحصالی نظام برقرار رہتا ہے، صرف اس کا چہرہ بدل جاتا ہے۔

لبرل لیفٹ سیاست کا ریاست کے کردار پر سادہ اعتماد کرنا اس سیاست کے کھوکھلے پن کا پول کھول دیتی ہے۔

لبرل لیفٹ اکثر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ ریاست ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جسے اصلاحات کے ذریعے "عوامی" بنایا جا سکتا ہے۔ جبکہ ریاست بذاتِ خود ایک طبقاتی آلہ (instrument of class rule) ہے۔ لہٰذا محض پالیسی اصلاحات سے اس کا کردار بنیادی طور پر تبدیل نہیں ہوتا۔

لبرل لیفٹ کا بڑا حصہ سرمایہ داری کو ختم کرنے کے بجائے "ریگولیٹ" کرنا چاہتا ہے۔ اسے "انسانی چہرہ" دینا چاہتا جیسے ویلفیئر اسٹیٹ، کارپوریٹ احتساب، بہتر ٹیکس نظام۔

یہاں سوال یہ ہے کیا استحصال پر مبنی نظام کو "انصاف پسند" بنایا جا سکتا ہے؟ لبرل لیفٹ اکثر سامراج کو خارجہ پالیسی یا جنگوں تک محدود کر دیتی ہے۔ جبکہ سامراج سرمایہ داری کا عالمی مرحلہ ہے جو معیشت، سیاست اور ثقافت سب میں سرایت کیے ہوتا ہےاسی لیے لبرل لیفٹ بسا اوقات: عالمی سرمایہ کے ڈھانچوں کو چیلنج نہیں کرتا۔ بلکہ ان کے اندر "اصلاح" چاہتا ہے۔ لبرل لیفٹ کا ایک بڑا حصہ این جی او کلچر سے جڑا ہوتا ہے، اس کے اثرات یہ ہیں کہ یہ جدوجہد کو "پروجیکٹس" میں بدل دیتا ہے۔

یہ انقلابی سیاست کو "advocacy" تک محدود کر دیتا ہے۔ پھر فنڈنگ کے مطابق بیانیہ تشکیل دیتا ہےیوں سیاست ایک پیشہ ورانہ سرگرمی بن جاتی ہے، نہ کہ عوامی تحریک۔ یہ سیاست ثقافت، روایت، یا "قومی مزاج" کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔

مادی حالات، پیداوار اور طبقاتی رشتوں کو بنیاد بناتی ہے۔ لبرل لیفٹ دانشور مسائل کی جڑیں غلط جگہ تلاش کرتے ہیں تو حل بھی سطحی رہتے ہیں۔ لبرل لیفٹ کے ہاں انقلابی سبجیکٹ کی غیر موجودگی ہے۔ سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ لبرل لیفٹ کے پاس کوئی واضح "انقلابی قوت" نہیں ہوتی۔ مارکسزم میں یہ کردار مزدور طبقہ ادا کرتا ہے مگر لبرل لیفٹ سیاست متوسط طبقے، سول سوسائٹی یا "شعور یافتہ افراد" پر انحصار کرتی ہے جو اکثر خود اسی نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔

لبرل لیفٹ کی سیاست کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ نظام کے اندر رہ کر انصاف تلاش کرتی ہے، جبکہ مارکسزم نظام کی بنیادوں کو بدلنے کی بات کرتا ہے۔ یہ تضاد اسے ایک ایسے مقام پر لے آتا ہے جہاں وہ تنقید تو کرتی ہے مگر تبدیلی کی انقلابی سمت فراہم نہیں نہیں کرتی۔

Check Also

Liberal Left

By Muhammad Aamir Hussaini