Monday, 23 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Jab Pakistan Ki Taraqi Ka Khwab Chakna Choor Hua

Jab Pakistan Ki Taraqi Ka Khwab Chakna Choor Hua

جب پاکستان کی ترقی کا خواب چکنا چور ہوا

پاکستان میں دسمبر 1988ء میں سارک تنظیم کی کانفرنس ہوئی۔ اس میں ہندوستان میں برسراقتدار کانگریس کے وزیراعظم راجیو گاندھی بھی تشریف لائے۔ اس موقعہ پر پاکستانی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے راجیو گاندھی سے ایک خصوصی ملاقات کی۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف پراکسی لڑائیاں لڑنے کی بجائے تنازعات کو بات چیت کے زریعے حل کریں گے۔

دونوں وزرائے اعظم کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستان ہندوستانی پنجاب میں جاری "سکھ انسرجنسی" اور "کشمیر میں جاری مسلح جہاد" کو مدد فراہم نہیں کرے گا جبکہ جواب میں بھارت سیاچین گلیشئیر سے اپنی افواج کو واپس بلائے گا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہیں کریں گے۔ دونوں ممالک تجارت، عوام میں روابط کو فروغ دینے کے لیے ویزہ پراسس میں نرمی کرتے ہوئے بتدریج ویزے کی شرط کو ختم کردیں گے۔ ریل اور سڑک کے راستے تجارت اور سفر کو آسان بنانے کے لیے انفراسٹرکچر کو وسعت دی جائے گی۔ ٹریڈ ٹرانزٹ اور عام سفر کو ممکن بنانے کے لیے اٹاری کے علاوہ مونا باو کھوکھرا آباد، امروکہ بھٹنڈہ ریل و سٹرک سیکشن کو کھولا جائے گا۔ اس طرح سے سارک ممالک پر مشتمل یورپی یونین طرز کا بلاک بنایا جائے گا۔

دیکھا جائے تو یہ جنوبی ایشیا میں امن، ترقی کا زبردست انقلابی روڈ میپ تھا۔ لیکن امن و ترقی کے اس روڈ میپ میں پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ کی جنرل ضیاء الحق کے دور میں تشکیل پانے والی تزویراتی گہرائی کی پالیسی آگئی جس کے تحت پاکستان کو ایک ڈیپ سیکورٹی سٹیٹ میں بدلا جا رہا تھا۔ پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ ایک طرف تو انڈین کنٹرول جموں و کشمیر میں پاکستانی کنٹرول والے کشمیر میں جہادی تربیت کے بیس کیمپ بناکر ایک طاقتور گوریلا وار شروع کیے ہوئے تھی تو دوسری طرف یہ انڈین پنجاب میں سکھ بنیاد پرستوں کی جانب سے جاری انسرجنسی کو تیز کرنے اور وہاں برسر پیکار سکھ گوریلا تنظیموں اور دھڑوں کو پوری مدد فراہم کر رہی تھی۔ اسے مکمل یقین تھا کہ انڈین پنجاب میں سکھ انسرجنسی آزاد خالصتان اور انڈین کنٹرول جموں و کشمیر کو بھارت سے الگ کرکے پاکستان کے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

اس پالیسی کے منصوبہ سازوں کو یہ بھی یقین تھا کہ یہ خود ہندوستان میں مسلمانوں کے اندر ایسے بڑے پیمانے پر جہادی گروپ پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کرلیں گے جو بھارت کو توڑنے کے عمل میں ممد و معاون ثابت ہوں گے۔ یہ بھارت کے جنوبی ہندوستان میں 31 اضلاع میں چل رہی نکسل باڑی گروپوں سے چین کی مدد سے روابط پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ افغانستان کو اپنے ماتحت جہادیوں کے زریعے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی کوششوں میں بھی مصروف تھے۔ اس کے لیے پورے پاکستان میں ایک بہت بڑا جہادی نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔ پاکستان کی جماعت اسلامی، دیوبندی اور سلفی مدارس اور ان کی نمائندہ سیاسی و مذھبی تنظیموں کی مدد اور ان کی سرپرستی کا کاروبار بھی ملٹری اسٹبلشمنٹ زور و شور سے چلا رہی تھی۔

روس ٹوٹتا دیکھا ہے۔ اب بھارت ٹوٹتا دیکھیں گے

پاکستان کا اردو پرنٹ میڈیا، اس کے جغادری مہان صحافی، سرکاری ٹی وی و ریڈیو کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جہادی رسائل و جرائد اور دیگر لٹریچر اس تزویراتی گہرائی کی پالیسی کو عوام میں مقبول بنانے میں مصروف تھا۔

بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت جو آزاد اراکین، فاٹا کے اراکین اور ایم کیو ایم کی مدد سے وفاق میں حکومت بنانے کے قابل ہوئی تھی اس کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی ڈیپ سٹیٹ پالیسی کو لیپٹ دینے کی یہ کوشش بہت بڑی جرات اور بادی النظر میں ایک مہم جوئی کی حثیت رکھتی تھی۔

بے نظیر بھٹو اور راجیو گاندھی کا امن روڈ میپ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے سپر انجن ثابت ہوسکتا تھا۔ لیکن اس امن روڈ میپ کو فوجی جنتا نے "پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری" کے لیے بہت بڑا خطرہ بناکر پیش کرنا شروع کردیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی، بے نظیر بھٹو اور اس کی حکومت کا بدترین میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیا۔ پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد کی صوبائی حکومت جو پہلے دن سے پیپلزپارٹی کو صوبائی انتخابات میں زبردست دھاندلی کرکے اور آزاد حثیت میں کامیاب ہونے والے اراکین کی شمولیت کی مدد سے بنائی گئی تھی کی قیادت میں نواز شریف کو وفاق سے مکمل محاز آرائی اور جنگ کی صورت میں لا کھڑا کیا گیا۔ سندھ میں سندھی اور اردو اسپیکنگ مہاجر آبادی کے درمیان لسانی فسادات اور تشدد کو خوب ہوا دی گئی۔ کراچی کا امن تباہ و برباد کردیا گیا۔ صوبہ خیبرپختون خوا میں سوات کے اندر نفاذ شریعت محمدی کی مسلح تحریک کھڑی کردی گئی۔ پنجاب اور کراچی میں شیعہ-دیوبندی فرقہ وارانہ لڑائی کو اور منظم کیا گیا۔ مذھبی جماعتوں کے زریعے عورت کی حکمرانی نامنظور تحریک کو شروع کیا گیا۔ پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت کے خلاف بلاسفیمی کارڈ بھی ساتھ ہی کھیلا گیا اور اخبارات کے زریعے یہ پروپیگنڈا عام کیا گیا کہ وہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے جا رہی ہے۔ پنجاب کی مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں بے نظیر حکومت کے خلاف قرارداد مذمت پاس کی گئیں۔

پنجاب کے طول و ارض میں دیکھتے ہی دیکھتے ہر دیوار پر "کافر کافر شیعہ کافر" کی وال چاکنگ نظر آنے لگی۔ پنجاب حکومت نے سپاہ صحابہ پاکستان کو اینٹی شیعہ تحریک چلانے، جلسے جلوس کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی۔

ایک طرف دایاں بازو پی پی پی کی حکومت کے خلاف شدید ترین مہم چلا رہا تھا تو دوسری طرف بظاہر سیکولر اور لبرل نظر آنے والے انگریزی پریس اور اردو پرنٹ میڈیا میں پی پی پی کے خلاف کرپشن، ککس بیک، کمیشن کی کہانیاں شایع ہونا شروع ہوئیں۔ پی پی پی کی معاشی پالیسیوں اور گورننس کو بدترین بناکر پیش کیا جانے لگا۔ اس سب کے پیچھے پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کا دماغ کام کر رہا تھا خو یہ چاہتی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معمول پر نہ آئیں اور اس کی تزویراتی گہرائی کی پالیسیوں کو رول بیک نہ کیا جائے۔

ان ہی دنوں پرنٹ میڈیا میں یہ پروپیگنڈا بھی تیز ہوا کہ بے نظیر بھٹو پاکستان کا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنا چاہتی ہیں اور وہ امریکی ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔

فوجی اسٹبلشمنٹ نے پورا زور لگایا کہ پی پی پی پی کی حکومت عدم اعتماد لاکر ختم کردی جائے۔ ایم کیو ایم کو اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت سے الگ بھی کیا گیا۔ یہ منصوبہ جب کامیاب نہ ہوا تو ایوان صدر کے زریعے آٹھویں ترمیم کی رو سے حاصل اسمبلیاں توڑنے جیسا آمرانہ قانون استعمال کیا گیا اور بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی۔

یوں جنوبی ایشیا میں امن اور ترقی کا روڈ میپ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔ سارک ممالک پر مشتمل تجارتی بلاک کے قیام کا منصوبہ بھی ختم ہوگیا۔

پاکستان کی فوجی جنتا نے ڈیپ سٹیٹ پالیسی کی خاطر ملک کو فرقہ وارانہ، لسانی و نسلی لڑائیوں کی دلدل میں دھنسا دیا۔

فوجی جنتا کی ڈیپ اسٹیٹ پالیسی ہندوستانی پنجاب کو خالصتان تو کیا بنا پاتی وہاں انسرجنسی کو بھی جاری نہ رکھ سکی۔ آنے والے سالوں میں اسے جہاد کشمیر کی فلم بھی ڈبے میں بند کرنا پڑی۔ افغانستان خانہ جنگی سے تباہ ہوا اور اب وہاں پاکستان کے پیدا کردہ افغان طالبان پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے میں بقول فوجی جنتا سب سے بڑے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے راستے ڈیپ سٹیٹ پالیسی کے زریعے وسط ایشیا کے سترہ مسلم ممالک تجارتی راہداری کے قیام کی خیالی پلاو بھی کبھی پک نہ سکی۔ پاکستان معاشی طور پر ڈیفالٹ ہونے کے دہانے پہنچا اور آج تک معاشی تباہی و بربادی کا یہ سفر جاری و ساری ہے جس کا خمیازہ اس ملک کے عوام بھگت رہے ہیں۔

پاکستان کو سیکورٹی سٹیٹ میں بدلنے اور کرائے کے جہادیوں کو بہت بڑا اثاثہ بتانے والی فوجی جنتا بلوچستان اور کے پی کے میں بالترتیب 16 ویں بار اور چھٹی بار انسرجنسی سے نمٹنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ اس دوران ایک لاکھ پچھتر ہزار کے قریب پاکستانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بڑے پیمانے پر داخلی مہاجرت، بے گھری، بے دخلی جیسے عذاب اسے الگ سے بھگتنا پڑے ہیں۔ فوجی جنتا کا آج بھی اصرار ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کو مذاق بناکر، طلباء یونین اور مزدور ٹریڈ یونین پہ پابندی لگا کر، مقبول سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کو غدار ڈکلئیر کرکے کٹھ پتلی سسٹم کے زریعے پاکستان چلا سکتی ہے۔ بطور ادارہ یہ خود کسی جواب دہی کا ذمہ دار نہیں سمجھتی اور نہ ہی اپنے ماضی کے عہدے داروں کو احتساب کے کہٹرے میں کھڑا کرنا چاہتی ہے جبکہ حاضر سروس قیادت بارے تو یہ سوال اٹھانا ہی غداری اور ملک کی سلامتی کے خلاف سازش کرنے کے مترادف ہے۔

Check Also

Youm e Pakistan Se Difa e Pakistan Tak

By Shahid Nasim Chaudhry