Saturday, 25 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Moqadus Habiba
  4. Qos o Qazah Ke Saaye Talay

Qos o Qazah Ke Saaye Talay

قوس قزح کے سائے تلے

حنا ٹریک پر دوڑتے دوڑتے رکی، قریب ہی ایک بنچ پر بیٹھ کر خود کو نارمل کرتے ہوئے پانی پیا۔ بچے پارک میں کھیل رہے تھے۔ آسمان قدرے صاف تھا۔ سورج کی ہلکی میٹھی نارنجی روشنی جامن کے درختوں کے پتوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے مشرق میں آدھی قوس قزح آسمان پر کمان کی طرح نکلی ہوئی تھی جس میں مختلف خوبصورت رنگ تھے سرخ، نارنجی، پیلا، سبز، نیلا، نیلگوں (Indigo) اوربینگنیرنگ شامل تھے۔ قوس قزح کے خوبصورت رنگ دیکھ کر اس کا لمحے بھر کو دل چاہا کہ وہ "ڈریگن ٹیلز" کی طرح اس پر سلائیڈ لے۔

مغرب میں سورج ڈوب رہا تھا چڑیوں کا جھنڈ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنے آشیانے میں جانے کی تیاریاں کررہا تھا۔ اس نے دائیں جانب گردن گھمائی، دور افق پر تنے سفید بادل پہاڑوں کی مانند لگ رہے تھے اور ان کے آگے تیرتے سرمئی، نیلے، ارغوانی اور سرخی مائل بادل یوں گمان ہوتے تھے جیسے ان پہاڑوں پر چھوٹے چھوٹے گھر آباد ہوں۔ وہ مسکرا دی، مگر پھر اس کا دل بھر آیا۔ سچ ہی تو ہے، بارش بھی بہت زیادہ برس جانے کے بعد آخر کار تھم جاتی ہے، ٹھہر جاتی ہے۔۔ مگر زمین پر اپنے نشانات چھوڑ جاتی ہے، بالکل کسی انسان کی یاد کی طرح۔

وہ اس دنیا کے بہترین مصور کے شاہکار دیکھنے میں غرق تھی۔ اس نے اپنا یوگا میٹ اٹھایا جوگرز اتارے ننگے پاؤں گھاس پر چلتے ہوئے میٹ بچھایا اور آنکھیں بند کرکے میڈیٹیشن کرنے لگی۔ اس کے کانوں میں آواز گونج رہی تھی۔ ٹن۔۔ ٹن۔۔ سائیکل کی۔۔ بچوں کی مسکراہٹوں کی۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کی۔۔ ہوا کے باعث جھومتے ہوئے درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ کی۔ وہ خود کو محسوس کررہی تھی بہت ہلکا۔۔ آزاد پنچھی کی طرح۔۔ جو بادلوں سے اونچی اڑان اڑ رہی تھی۔ کہ اچانک اس کے ماتھے پر بل پڑنا شروع ہوگے۔ یک دم اندھرا چھا گیا۔ وہ تاریک چاندنی رات میں گم ہوچکی تھی۔

اپنے آشیانے سے دور۔۔ مضطرب۔۔ تنہا۔۔ اس کے پروں پر جسے کسی نے زور سے خنجر سے مارا ہو۔ اس کے پروں سے خون رس رہا تھا۔ وہ خود کا بھاری وجود اٹھائے راستہ تلاش کررہی تھی اس کی منزل کہاں تھی؟ کتنی دور تھی؟ کسے معلوم تھا؟ وہ تھک کر ایک چٹان پر بیٹھ گئی۔ ہر طرف وحشت تھی، جنگلی درندوں کی آواز، بدروحوں جیسی۔ طوفان کی آواز۔۔ اس نے اپنا زخمی "پر" زمند پر رکھا اور اسے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔۔ قریب۔۔ کوئی اس کے قریب آرہا تھا۔۔ کون اس کی تنہائی میں مداخلت کرنے کی جرات کررہا تھا۔ کچھ رکا تھا۔۔ کوئی رکا تھا۔۔ کون رکا تھا۔۔

اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ اس کے عقب میں اس ایک بچہ گھٹنوں کے بل اداس بیٹھا تھا۔ وہ مسکرائی وہ تھا۔ موسی اس کا وہ اسٹوڈنٹ تھا جسے پڑھائی مشکل ہی نہں ے ناممکن لگتی تھی۔ آج اس کا میرے ساتھ پہلا دن تھا۔ وہ اس پتھر کی طرح تھا جسے تراش کر خوبصورت اور خوشبودار بنانا میرا کام تھا۔ جسے زندگی کے خوبصورت سفر میں ہار ماننا نہیں سفر کو انجوائے کرنا سکھانا تھا۔ وہ آٹھ سال کا ہوچکا تھا اسے لکھنا پڑھنا کچھ نہیں آتا تھا۔ البتہ ڈیجٹل دنیا سے وہ خوب واقف تھا۔ وہ ڈپریشن میں تھا۔ ہم صرف بچوں کی جسمانی نشوونما پر توجہ دیتے ہیں نفسیاتی یا ذہنی نشوونما کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ وہ بیگ لیے اپنی معصومیت بڑی نگاہوں سے حنا کودیکھ رہا تھا۔ حنا نے بیگ سے کینوس نکلا، پینٹ برش، خطاطی کے اوزار، ششیے کی بوتل، گلاس، کریون کالرز اور ساتھ ہی ساتھ ایک تصویر۔ ایک اڈھیر عمر بوڑھی خاتون کی تصویر تھی جن کے چہرے پر زمانے بھر کی تھکن تھی وہ خوبصورت طریقے سے کینوس پراپنا جہاں اتار رہی تھیں۔

اس نے تجسس بڑے انداز سے مجھ سے پوچھا:

ٹیچر یہ کون ہیں؟ یہ۔۔ آہ۔۔ یہ۔۔ میری رابرٹسن موسز ہیں۔

میری رابرٹسن موسز۔۔ یہ اتنی بوڑھی سی پینٹ کیوں کررہی ہیں؟ اس نے تصویر کی طرف اشارہ کیا۔

کیونکہ سیکھنے کی کوئی قید نہیں ہوتی موسی!

اپنے خواب، اپنے شوق پورے کرنے کی عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔۔ پتا ہے موسی ان کی عمر 1930ء میں 70 سال کی تھی۔ انہوں نے یہ ثابت کیا تھا کہ عمر صرف ایک "عدد" ہے خواب کبھی پرانے نہیں ہوتے۔

اس کے چہرے پر کہی رنگ آئے اور کہی رنگ گے پھر لوگوں کو کیسے معلوم ہوا ان کا؟ کسی نے کچھ کہا نہیں؟

حنا بے ساختہ مسکرائی اور کہنے لگی:

وہ ایک کسان کی بیوی تھیں۔ دن بھر کھیتوں میں کام کرتیں، بچوں کی دیکھ بھال اور رات کو سلائی کیا کرتی تھیں۔ ان کے چہرے پر میک آپ نہیں تھا زمانے بھر کی تھکن تھی، ہاتھوں سے کھاد کی بدبو آتی تھی۔ ان کا گھر کوئی محل نہیں تھا۔ انہیں گٹھیا کی بیماری تھی۔ انہوں نے اپنا ہنر پینٹ برش کے ذریعے اپنے تخلیقی دیے کو جلائے رکھا۔

اس کی مخملی آنکھیں حنا پر ٹھہر گئیں۔ وہ کینوس پر ڈوبتے سورج کی آخری لالی اتار رہی تھی۔ پھر کسی پرانے بڑھائی کی طرح پینٹ برش کو بڑی اپنائیت سے کان کے پچھے رکھا۔

اس نے متجسس انداز میں پوچھا پھر کیا ہوا؟ حنا نے گہری سانس لی اور بولی:

وہ اپنی پنٹنگز فارمیسی میں فروخت کے لے رکھتی تھی۔ ایک دن 1938ء میں۔ کالڈ کی نظر ان پنٹنگز پر پڑیں اور ان تصاویر کو خرید لیا۔ 1939ء میوزیم آف ماڈرن آرٹ میں ان کی پنٹنگز کی نمائش ہوئی۔

"حنا کی کوشش رنگ لائی اور اس کے دل کا اندھیرا امید کے چراغ سے منور ہوگیا۔ موسیٰ کے ہاتھ میں لرزش تھی جب اس نے برش اٹھایا، لیکن جیسے ہی اس نے قوسِ قزح کے رنگ بکھیرے، اس کی رنگینیوں کے سائے تلے اسے دور کہیں امید کی ایک موہوم سی کرن مسکراتی ہوئی نظر آئی"۔

فن اور تخلیق کسی محل، خوبصورت چہرے یا آسائشوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ روح کی آواز ہوتے ہیں جو بدترین حالات میں بھی مسکرا کر باہر نکل آتی ہے۔

Check Also

Sarfaraz Shah Sahab Aur Unki Nai Kitab Afkar e Faqeer

By Amir Khakwani