Sunday, 06 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Masjid Wazir Khan, Jinnat Aur Shahdara Ki Pari

Masjid Wazir Khan, Jinnat Aur Shahdara Ki Pari

مسجد وزریر خان، جنات اور شاہدرہ کی پری

آپ نے لنچ کیا ہے۔ نہیں، خوشی اس قدر زیادہ ہے کہ بھوک کا احساس ہی نہیں۔ اچھا، ٹھیک ہے۔ میں بریانی لے رہی ہوں، آپ مسجد وزیر خان کے مرکزی دروازے پر آجائیں۔ ہماری پہلی ملاقات ہے۔ اس سے پہلے دو چار بار مل چکے ہیں۔ لاہور اب ویسا نہیں رہا جیسا کبھی ہوا کرتا تھا۔ گھر سے باہر قدم رکھتے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا پاکستان بازاروں میں اُمنڈ آیا ہے۔ لوگ ہی لوگ، رش ہی رش گویا کرکٹ کے میدان میں پھسل پڑے ہوں۔

گلیاں، بازار، سڑکیں، دکانیں، ہوٹلز، پارکیں، ہسپتال ماسوا مساجد کے جہاں چلے جائیں ایک ہجوم دکھائی دیتا ہے جیسے سبھی کو بس یہی آنا تھا۔ شاہ عالم مارکیٹ سے مسجد وزیر خان تک جاتے ایک گھنٹہ لگ گیا۔ پاؤں دھرنے کی جگہ نہیں، موٹرسائیکل کیسے گزر سکے۔ ایک جگہ موٹر بائیک پارک کرکے غالباً دو کلو میٹر پیدل چلتے مسجد وزیر خان کے مرکزی دروازے پر پہنچ گئے۔ سنگل نہ آنے کی وجہ سے باہم رابطہ ممکن نہ تھا۔

مسجد وزیر خان بازار سے سات آٹھ فٹ نشیب میں چلی گئی ہے۔ لاہور میں عمارتوں کی اونچائی کے لیے اتنی مٹی پڑ چکی ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق لاہور کی اصل سطح زمین سے لاہور اب پچیس فٹ اوپر چلا آیا ہے۔ مسجد وزیر خان شہر لاہور میں دہلی دروازہ، چوک رنگ محل اور موچی دروازہ سے تقریباً ایک فرلانگ کی دوری پر واقع ہے۔ یہ مسجد نقش ونگار میں کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

علم الدین انصاری جو عام طور پر نواب وزیر خان کے نام سے جانے جاتے ہیں سلطنت مغلیہ کے عہد شاہجہانی میں لاہور شہر کے گورنر تھے اور یہ مسجد انھیں کے نام سے منسوب ہے۔ مسجد کی بیرونی جانب ایک وسیع سرائے ہے جسے چوک وزیر خان کہا جاتا ہے۔ چوک کے تین محرابی دروازے ہیں۔

اول مشرقی جانب "چٹا دروازہ"، دوم شمالی جانب "راجا دینا ناتھ" کی حویلی سے منسلک دروازہ، سوم "شمالی زینے کا نزدیکی دروازہ"۔ مسجد کے مینار 107 فٹ اونچے ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر دسمبر 1641ء میں سات سال کی مدت میں پایۂ تکمیل کو پہنچی۔ مسجد وزیر خان سلطنت مغلیہ کے عہد میں تعمیر کی جانے والی اب تک کی نفیس مسجد ہے جو بادشاہی مسجد کی تعمیر سے 32 سال قبل (یعنی 1641ء میں) تعمیر کی گئی۔

مسجد کے مرکزی دروازے پر شاہدرہ کی پری نے ہمارا استقبال کیا۔ بغیر شرمائے اور لجائے ہم دونوں مسجد کے احاطے میں اُترتی سیڑھیوں پر زینہ زینہ اُترتے ہوئے ایک دوسرے کو کن انکھیوں سے دیکھ رہے تھے۔ سہ پہر کا وقت تھا، خال خال سیاح موجود تھے۔ چھوٹے بچے صحن میں کھیل رہے تھے۔ ایک انگریزی خاتون ترجمان کے ساتھ مسجد کے محدود، احاطہ میں فوٹو شوٹ کروا رہی تھی جس کے لمبے سلکی بالوں میں غضب کی مغربیت فراواں تھی۔ ایک ایرانی لڑکی مسجد کے مرکزی دروازے پر کندہ فارسی اشعار پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک افغانی نوجوان سلیفی بنانے کی غرض سے عقب سے گزرنی والی خوبرو لڑکی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کی تگ و دو کر ہا تھا۔

ایک سفید بلی میاؤں میاؤں کرتی ہماری طرف آئی اور سامنے والے بنچ پر آرام سے بیٹھ گئی جیسے یہ اس کا تخِت شاہی ہے جہاں سے اسے کوئی اُٹھا نہیں سکتا۔ شاہدرہ کی پری کو ہم نے ایک نظر دیکھا۔ غضب کا حُسن ڈھاٹیں مارتے سمندر کی مانند، بہار دکھا رہا تھا۔ کن انکھیوں سے مزید دیکھنے کی کوشش میں ہماری نگاہ پکڑی گئی، آنکھیں چار ہونے پر ہم دونوں مسکرا دئیے۔

شاہدرہ کی پری نے پٹاری باکس کھولا۔ مسجد وزیر خان کے مرکزی دروازے سے متصل "لاہور بریانی" کا ذائقہ شہر بھر میں مشہور ہے۔ بریانی یوں فروخت ہوتی ہے جیسے لنگر بٹتا ہے۔ چکن کا بڑا سا ٹکرا، ساتھ رائتہ، سلاد اور زردہ کا چھوٹا سا، ڈبہ۔ پری نے ہمارے سامنے ایک باکس رکھا اور دوسرے میں اپنے حصے کی بریانی علیحدہ کرکے بسم اللہ پڑھا۔

بھوک بہت لگی تھی تاہم ملنے کی خوشی نے بھوک کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ اب جو مل بیٹھے تو بھوک نے انگڑائی لی۔ ہم بریانی پر ٹوٹ پڑے، کھانسی کا غوطہ لگا تو پانی مانگا۔ پانی تو پری نے عجلت میں لیا نہیں تھا، ہمیں اکیلا چھوڑ کر جانے والی بھی نہیں تھی۔ سو، ہم نے چکن کے ٹکڑے سے ایک قاش لے کر غوطے کو بہلایا۔ اپنے حصے کی بریانی کھانے کے بعد پری کے حصے والی بریانی بھی مروتاً ہمیں کھانا پڑی، اس لیے کہ پریاں کھانا سونگھا کرتی ہیں۔

پانی نہ ہونے کی وجہ سے بریانی حلق سے نیچے اُتارنے میں خاصی دُشواری ہوئی لیکن ہم کھائے چلے گئے حتیٰ کہ زردہ کی ڈیبہ جو ہم چپکے سے بیگ میں ڈالنے کا سوچ رہے تھے وہ بھی نوالہ نوالہ کرکے مجبوراً کھانا پڑا۔ پری نے کہا، ہم نے آپ کی بہت آزمائش لی، حالاں کہ یوں آپ کو مشکل میں ڈالنے کا ہرگز، ارادہ نہیں تھا۔

ہم مسکرا دئیے کہ اس موقع پر سوائے مسکراہٹ کے مہمان کیا کر سکتا ہے۔ لاہور کے دل میں پوتر جگہ پر بیٹھ کر خوبصورت پری کے ہاتھ سے اپنی پسند کی نعمت نوش کرنے کا موقع خوشی قسمتی سے ملتا ہے۔ پانچ چھے برس کی ایک بچی دور کھڑی ہم دونوں کو گھور رہی تھی۔ میں نے پری سے کہا، یہ پٹھانی لگتی ہے، شکل و صورت سے بھکاری نہیں لگتی لیکن اس کی عادات بتارہی ہیں کہ یہ بھکارن ہے۔

پری نے بچی کو پیار سے پاس بلایا، بیس روپے دئیے۔ وہ پیسے لے کر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ کھانے سے فراغت کے بعد باہم گفتگو کا بہانہ تراشنے کی غرض سے سامنے سے گزرنے والے سیاحوں کو دیکھنے لگے۔ ایک چھوٹا سا بچہ ہمارے پاس بوٹی کے لالچ میں بیٹھی بلی کو دیکھ کر دوڑا آیا۔ لڑکا بڑا شرارتی تھا، اُس نے بلی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر گود میں اُٹھا لیا۔ بالکل بھی ڈرا نہیں، بچےکی والدہ سیڑھیوں پر کھڑی کہتی رہی کہ نا، پکڑو، کاٹ لے گی، چھوڑ دو، ادھر آجاؤ۔ لیکن وہ باز نہ آیا، اُس نے بلی کو پہلے گود میں رکھا، پھر کندھوں پر اُٹھا لیا، بلی بھاری تھی اور بچہ چھوٹا، بلی نیچے گر گئی اور پاس بیٹھے سبھی یہ منظر دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میں نے پری سے کہا۔ یہ بچہ بڑا ہو کر بلیوں کو یونہی کندھوں پر اُٹھائے گا، پری جملے میں چھپی لطیف رمز کو سمجھ کر مسکرا دی۔ بچے کی ماں نے قریب آکر بلی کو اپنے بیٹے سے رہائی دلوائی۔

اِتنا قریب بیٹھنے کے باوجود ہمت نہ تھی کہ ایک دوسرے کو آنکھ بھر کر دیکھ لیں۔ بغیر دیکھے کوئی گھنٹہ بھر مسجد کے احاطے میں بیٹھے رہے۔ نیم خاموشی، دُھندلکے کا عالم، آتے جاتے سیاحوں کے قدموں کی چاپ، درختوں کا سبزہ، اشیاء بیچنے والوں کے دلچسپ جملوں کی تکرار اور مسجد کے میناروں کی پوشیدہ تاریخی ہیبت نے مل جل کر ایسا سماں پیدا کیا کہ یہاں سے اُٹھنے کو من نہیں چاہتا تھا۔ ایک دو بار پری سے کہا کہ اب ہمیں چلنا چاہیے لیکن وہ جیسے کسی سحرا نگیز منظر میں کھوئی ہوئی تھی۔ ہم نے کھنکھار کر پری کو چلنے کا اشارہ کیا۔ جانے کیوں اس وقت ناصر کاظمی کا یہ شعر یاد آیا:

آو چُپ کی زبان میں ناصرؔ
اِتنی باتیں کریں کہ تھک جائیں

شعر سُن کر پری مسکرادی، ہم بھی مسکرا کر دیوار سے ٹیک لگا کر پاؤں پسار بیٹھے کہ اب یہی کے ہو رہتے ہیں۔ وہ بچی جسے پری نے بیس روپے دئیے تھے، اچانک کہیں سے نمودار ہوئی، ہمیں ہاتھ آگے کرنے کا اشارہ کیا۔ ہم نے ہاتھ آگے بڑھا دئیے، بچی نے دو، دو ٹافیاں ہمارے ہاتھ پر رکھ دیں اور مسکرا کر اُلٹے قدموں دوڑ گئی۔ ہم حیران رہ گئے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ یہ بچی تھی یا کسی پری کا بچہ تھا۔

شاہدرہ کی پری نے کہا کہ اس مسجد میں عشاء کے بعد کوئی نہیں آتا، یہاں جنات رہتے ہیں۔ میں نے کہا، جنات سے ہماری دوستی ہے، ایک زمانہ تھا جب ہمیں جنات دیکھنے کا بہت شوق تھا، اس شوق نے ہمیں بہت رُسوا کیا۔ جنات کی اسیری اور قربت کے لیے ہزاروں کلو میٹر سفر کیا اور سینکڑوں عالموں، فاضلوں اور سحر کاروں کو ملےلیکن کہیں سے کوئی ذریعہ جنات کی قربت کا میسر نہ آسکا۔

مدت گزری، شیخورہ میں ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا وہاں ایک مرد، ادھیڑ عمر خاتون کے ساتھ سیر کرنے آتا تھا۔ یہ دونوں پُر اسَرار قسم کی شخصیات تھیں، ان کی حرکات و سکنات دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے پاس کچھ ہے جو بظاہر عیاں نہیں ہے۔ رفتہ رفتہ تعارف ہوا تو پتہ چلا کہ معمر خاتون پر جنات کی حاضری ہوتی ہے۔ ہماری تو خوشی سے باچھیں کھل گئیں۔ پورے پروٹوکول کے ساتھ انھیں فیکٹری میں مدعو کیا، چائے وائے پلاکر جنات سے وابستہ خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے بھی جنات کی حاضری کروانی ہے اور ان سے بہت سی باتیں کرنی ہیں۔

ملاقات کے بعد اس جوڑے سے ایسا قرب بڑھا کہ پھر جنات بھی دیکھے اور جنات سے متعلقہ پُر اسرار کیفیات و معاملات سے آگہی بھی ہوئی۔ یہ ایک دلچسپ قصہ ہے کسی اور کالم میں اس کا ذکر کریں گے۔ جنات کا ذکر سُن کر پری نے کہا، مجھے جنات سے ڈر لگتا ہے، ہمیں یہاں سے اُٹھ جانا چاہیے۔ ہم نے کہا، ایک جن تو آپ کے ساتھ بھی رب تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، کیا اس سے آپ کو خوف محسوس نہیں ہوتا۔

پری گھبرا گئی، سراسیمہ ہو کر کہنے لگی، ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسا ہی ہے، ہمارے ساتھ رب تعالیٰ نے ایک جن پیدا کیا ہے جو ہمارے ساتھ رہتا ہے اور ہماری موت سے اس کی موت ہوگی۔ جنات کا علم رکھنے والے اور جنات سے کام لینے والے اسی جن یعنی "امرد" کو قیل کر ہمارے متعلق معلومات لے کر، اپنے تجربے او ر علم کی بنا پر سائلوں کی تحلیل نفسی کرکے انھیں لوٹتے ہیں۔ یہ بھی ایک قصہ ہے، اس پر مزید کبھی لکھوں گا۔

پری نے کہا۔ چائے پیئں گے، ضرور۔ چائے، کتاب اور پریوں کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہے۔ پری مسکرا دی۔ مسجد کی بیرونی دیوار سے متصل مارکیٹ کے کونے میں ایک کنواں جو کبھی اس مسجد میں نمازیوں کے لیے پانی کا ذریعہ تھا، کے قریب چائے کی دکان میں چلے گئے جہاں لکڑی کے بنچ اس طرح رکھے تھے کہ کوشش کے باوجود کوئی ان پر بیٹھ نہ سکے۔ لاہور میں دو تین برس سے پٹھانوں نے چائے کے کاروبار پر قبضہ کر رکھا ہے۔ پٹھانوں کے پاس چائے بنانےکا کوئی خاص فارمولا ہے، ایک دفعہ چائے پینے والا دوبارہ کسی اور دکان سے چائے نہیں پئیے گا۔

لاہور میں جگہ جگہ "کوئٹہ چائے اینڈ پراٹھا شاپ" کھلتی جارہی ہیں۔ لاہور میں کم و بیش ہزاروں کی تعداد میں چائے کی دکانیں کھل چکی ہیں۔ دوست بتاتے ہیں، پٹھانوں نے بڑے شہروں میں چائے کا، کاروبار شروع نہیں کیا بلکہ پورے پاکستان میں ان کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ان دکانوں میں چوبیس گھنٹے چائے بنتی ہے اور پینے والوں کا جمِ غفیر کرسیوں پر بیٹھا سیاست و مذہب و معاشرت پر رائے زنی کرتا رہتا ہے۔ ان کے پالک، مولی، گوبی، کچن وغیرہ کے پراٹھے بہت بُرے ہوتے ہیں جبکہ سادہ بلوں والا پراٹھا بہت مزے کا ہوتا ہے۔

پری کے ساتھ فقط چائے نوشِ جان کی۔ پراٹھا، اس لیے نہیں کھایا کہ بریانی کا ذائقہ غارت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ ملاقات ایسی تھی جسے نہ ڈیٹ کہا جاسکتا ہے اور نہ چوری چھپے گھر سے فرار ہو کر ملنے والا جذباتی فلمی سین۔ ایک عجیب سا احساس اس ملاقات میں محسوس ہوا اور یہ کہ عمر کے ایک خاص حصے میں جب انسان ذر امیچور یعنی سیانا ہو جاتا ہے تب ملنے کی خواہش تو ہوتی ہے لیکن ملنے کی خواہش میں وہ جذباتی پن نہیں ہوتا جو ٹین ایج میں سر چڑھ کر بول رہا ہوتا ہے۔

دہلی دروازے سے گزر کر کوتوالی پہنچے تو ہم نے اپنی اپنی راہ لی۔ لاہور شہر کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہاں نفسانفسی کا عالم ہے، کوئی کیا کر رہا ہے، کسی کو کوئی غرض نہیں، ہر شخص اپنے آپ میں غرق ہے۔ ہر ایک کو اپنی پڑی ہے، ایک دوسرے کے معاملات سے اس قدر بے نیاز ہیں جیسے کوئی واسطہ ہی نہیں۔

لاہور پہلے ایسا نہیں ہوا کرتا تھا۔ چند برس پہلے تک گلی محلے میں آنے جانے والوں پر نظر رکھی جاتی تھی۔ اوٹ پٹانگ حرکت کرنے یا آوازہ کسنے پر گوشمالی ہو جاتی تھی۔ ناواقف کوچوں سے گزرتے ہوئے دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے، کسی کی نظر نہ پڑ جائے۔ یوں سمجھیے کہ لاہور بے وفا ہوگیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ لاہور میں پاکستان بھر سے نقل مکانی کرکے آباد ہونے والوں کی کثرت ہے جو روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے۔ لاہور کا اپنا کلچر اور انفرادیت تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

لاہور کی آبادی کا یہ عالم ہے کہ 2023 کے مطابق لاہور کی آبادی 23 ملین تھی جو اب 26 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ لاہور میں پریوں، جنوں کے خاندانوں کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نئے نئے پرستان بنتے جا رہے ہیں۔ لاہور جیسا بھی ہے، رہے گا لاہور ہی۔ اس شہر سے محبت کا دعویٰ ہر وہ شخص کرتا ہے جو یہاں چند دن گزار گیا۔

ناصر کاظمی نے کیا خوب کہا ہے:

شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو

لاہور کےبارے میں ایک پنجابی مقولہ مشہور ہے کہ "جنھے لاہور نئی دیکھیا، اُ و، جنمیاں ای نئیں"۔۔

ڈاکٹر فخر عباس نے بجا کہا ہے:

یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے

ہم شاعر ضرور ہیں لیکن غزل کم کہتے ہیں، نظم کہنے کا شغل جاری ہے۔ شاہدرہ کی پری سے ملاقات کا احوال نثری انداز میں آپ نے ملاحظہ کر لیا۔ مذکورہ ملاقات کے جملہ احساسات کو نظمیہ انداز میں یوں قلمبند کرنے کی کوشش کی ہے۔

شاہدرہ کی الھڑ مُٹیار
دل ہم پہ ہار بیٹھی ہے

سب کچھ نثار بیٹھی ہے
اِسے کون سمجھائے

اور بتلائے
محبت ایثار مانگتی ہے

محبت خراج چاہتی ہے
محبت جدائی کی اسیر ہے

محبت وصل کی تحقیر ہے
محبت کے مفہوم سے نکل

محبت کی مسند سے اُٹھ
محبت کے طلسم سے رہا ہو جا

مری ہو جا

Check Also

Kya Hum Sache Aashiq Hain

By Arslan Aziz