Nafrat Haar Gayi, Ummat Jaag Gayi
نفرت ہار گئی، امت جاگ اٹھی
یہ بھی تاریخ کا ایک عجیب باب ہے کہ جن قوتوں نے برسوں تک مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کی دیواریں کھڑی کرنے کی کوشش کی، وہ خود شاید اس بات کا اندازہ نہ کر سکیں کہ حقیقت کا سورج زیادہ دیر بادلوں میں چھپا نہیں رہتا۔ عشروں تک ہمارے معاشروں میں ایسے بیانیے پروان چڑھائے گئے جن کا حاصل صرف یہ تھا کہ مسلمان اپنی اصل جنگ بھول جائے اور اپنے ہی بھائی کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھنے لگے۔ منبروں، محفلوں، کتابچوں اور جلسوں میں ایسے موضوعات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی جن کا عام مسلمان کی روزمرہ زندگی اور امت کے اجتماعی مستقبل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ امت کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فلسطین، کشمیر، بوسنیا، عراق اور افغانستان کے مسائل سے زیادہ اپنے اردگرد بسنے والے دوسرے مسلمان کے عقیدے اور مسلک پر بحث کرنے لگی۔
یہ وہ دور تھا جب بعض حلقوں میں مسلمان کی پہچان اس کے کردار، علم، تقویٰ اور خدمت سے نہیں بلکہ اس کے مسلکی تعارف سے کی جانے لگی۔ لوگوں کو یوں محسوس کرایا گیا جیسے اسلام ایک عظیم دین نہیں بلکہ متحارب گروہوں کا مجموعہ ہے۔ نفرت کے اس بیج کو اتنی محنت سے سینچا گیا کہ بہت سے لوگ اسے اٹل حقیقت سمجھنے لگے۔ ایک پوری نسل نے آنکھ کھولی تو اس کے سامنے امتِ مسلمہ کا تصور نہیں بلکہ فرقوں کی تقسیم موجود تھی۔
مگر پھر حالات نے ایک ایسا رخ اختیار کیا جس نے برسوں سے قائم بہت سے تصورات کو ہلا کر رکھ دیا۔ جب ایران عالمی طاقتوں کے دباؤ، معاشی پابندیوں، سفارتی تنہائی اور عسکری خطرات کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم دکھائی دیا تو دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس منظر کو صرف سیاسی واقعہ نہیں سمجھا بلکہ ایک نفسیاتی تبدیلی کے طور پر بھی دیکھا۔ بہت سے لوگ جو برسوں مخصوص زاویوں سے چیزوں کو دیکھنے کے عادی ہو چکے تھے، انہوں نے پہلی مرتبہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ آخر وہ کون سا جذبہ ہے جو ایک قوم کو اتنے شدید دباؤ کے باوجود جھکنے نہیں دیتا۔
جب خطے میں کشیدگی بڑھی، جب حملے ہوئے، جب جوابی کارروائیاں ہوئیں اور جب جانوں کی قربانیاں سامنے آئیں تو امت مسلمہ کے مختلف طبقات میں ایک نئی سوچ جنم لینے لگی۔ پاکستان کے گاؤں کی بیٹھکوں سے لے کر بڑے شہروں کے علمی حلقوں تک، سوشل میڈیا کی بحثوں سے لے کر عام چائے خانوں تک ایک جملہ بار بار سنائی دینے لگا کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن جو قوتیں دنیا کی بڑی طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہیں، انہیں صرف فرقے کے چشمے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
شاید پہلی مرتبہ لاکھوں مسلمانوں نے محسوس کیا کہ دشمن کی نظر میں مسلمان صرف مسلمان ہے۔ میزائل جب گرتا ہے تو وہ مسلک نہیں پوچھتا، پابندی جب لگتی ہے تو وہ فقہی مکتبہ فکر نہیں دیکھتی اور جب کوئی طاقت کسی مسلم ملک کو نشانہ بناتی ہے تو اس کے نزدیک شیعہ اور سنی کی تفریق کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہی وہ احساس تھا جس نے بہت سے دلوں میں برسوں سے جمے تعصبات کو پگھلانا شروع کر دیا۔
یوں محسوس ہونے لگا کہ نفرت کا وہ بیج جسے دہائیوں تک مسلسل پانی دیا گیا تھا، اچانک بنجر زمین میں تبدیل ہوگیا ہے۔ وہ بیانیہ جو لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، خود اپنے بوجھ تلے دبنے لگا۔ نوجوان نسل نے سوال کرنا شروع کیا کہ اگر امت کے بڑے مسائل مشترک ہیں تو پھر ان کا حل بھی مشترک ہونا چاہیے۔ اگر دشمن مشترک ہے تو پھر مستقبل بھی مشترک ہونا چاہیے۔
آج صورت حال یہ ہے کہ بہت سے لوگ فرقے سے پہلے امت کو دیکھنے لگے ہیں۔ وہ سمجھنے لگے ہیں کہ تاریخ میں قوموں کی عزت ان کی باہمی لڑائیوں سے نہیں بلکہ ان کی اجتماعی قوت سے بنتی ہے۔ انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ مسلمان کا اصل سرمایہ اس کا ایمان، اس کی غیرت اور اس کی وحدت ہے، نہ کہ وہ دیواریں جو سیاسی مفادات اور وقتی مہمات کے تحت اس کے درمیان کھڑی کر دی گئی تھیں۔
وقت نے ثابت کیا ہے کہ نفرت کبھی مستقل بنیادوں پر قوموں کی رہنمائی نہیں کر سکتی۔ نفرت تقسیم تو پیدا کر سکتی ہے مگر عظمت نہیں، دشمنی شور تو پیدا کر سکتی ہے مگر تاریخ نہیں۔ تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اختلاف کے باوجود اپنے بڑے مقصد کو فراموش نہیں کرتیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ کے ایک بڑے طبقے کے ذہن میں یہ احساس پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو رہا ہے کہ مسلمان کی سب سے بڑی شناخت اس کا مسلک نہیں بلکہ اس کا اسلام ہے اور جب یہ شناخت زندہ ہو جاتی ہے تو باقی تمام تقسیمیں خود بخود اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔

