Thursday, 05 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Taleem, Ilm Aur Mutala e Matan

Taleem, Ilm Aur Mutala e Matan

تعلیم، علم اور مطالعۂ متن

مولانا حافظ محمد ایوب دہلویؒ حسن و قبح پر اپنی ایک گفتگو میں فرماتے ہیں کہ "انسان کا غور اگر صحیح ہو تو صحیح نتیجہ پر پہنچتا ہے۔ استادوں سے سن کر یا کتابوں سے دیکھ کر کوئی عقیدہ کر لیا ہے تو وہ لچر ہو جائے گا"۔

ہماری روایت میں تعلیم کا بنیادی مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ عقلی اور مذہبی علوم کے لیے ضروری استعدادیں اگلی نسلوں تک منتقل کی جائیں۔ پرانے درس نظامی کے نصاب پر شمہ بھر غور سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس میں علوم آلیہ کا بہت غلبہ تھا اور ان کا مقصد معقولات کو ضروری فکری بنیادیں فراہم کرنا رہا ہے۔ علوم آلیہ کو آلاتی اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ فی نفسہٖ مقصود نہیں ہوتے بلکہ کسی مقصود کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ علوم آلیہ کا تعلق بالعموم دقائق (technical aspects of knowledge) سے ہوتا ہے، حقائق سے نہیں ہوتا۔ علوم آلیہ انسانی ذہن اور حقائق کے مابین شرائطِ عقل پر ثقہ اور مستدل نسبتوں کے قیام کے لیے پڑھائے جاتے رہے ہیں۔ لیکن علوم آلیہ کی تدریس سے اگر "غور" کا ملکہ ختم ہو جائے تو معاملہ ہی معکوس ہوگیا اور ساری تعلیمی سرگرمی ہی بے سود ہوگئی۔

مولاناؒ "غور" سے مراد thinking لے رہے ہیں۔ یعنی "غور" عقل کا وظیفہ ہے اور تحتانی علوم آلیہ غور میں ادراک و اظہار کی خطا سے بچنے کے اسالیب سے متعارف کراتے ہیں۔ میرے نزدیک "غور" سے عین وہی عقلی سرگرمی مراد ہے جسے آج کل تنقیدی خوض (critical thinking) کہا جاتا ہے اور غور و خوض تقریباً ہم معنی استعمال ہوتے ہیں۔ علوم آلیہ تشکیل ذہن اور عقل کی فعلیت کو بحال اور باقی رکھنے کے اسالیب ہیں اور تعلیم میں تدریسِ کتب کا یہی مقصود رہا ہے۔ اصول دین/ علم الکلام اور اصول فقہ ہماری معقولات ہیں اور علوم آلیہ ان کی تحتانی بنیادوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔

علوم آلیہ کا دوسرا بڑا مقصد ہمارے روایتی کلچر میں مطالعے کو ground فراہم کرنا ہے۔ متن امر، معانی، پیکرات اور تصورات کا حامل ہوتا ہے۔ مطالعۂ متن کسی بھی کلچر اور روایت علم کی بنیادی ترین سرگرمی ہوتی ہے۔ یعنی مطالعۂ متن ہر کلچر کی مستقل سرگرمی ہے اور اس کا مقصود و مطلوب معلومیت، تفہیم، مراد، کشف اور حضور ہوتا ہے، اس لیے اس کو مضبوط پایوں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص تاریخی حالات میں، کسی تہذیب کے بنیادی متون اور بالخصوص مذہبی متون انسانوں کے مختلف گروہوں کی طرف سے عقل و شعور کی جارحانہ پیش قدمی کا ہدف بن سکتے ہیں۔

خوارج کی قراتِ قرآن اور متن خواندگی کی بابت حضرت علیؓ کا قول اسی امر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ متن کے معنی کا تحفط صرف ایسے ذرائع سے ممکن ہے جو عقلی ہوں اور نفس مذہب سے خارج میں ہوں۔ مطالعۂ متن کلچر اور تہذیب کی معقولات میں grounded ہوتا ہے اور ان بنیادوں کے بغیر قرات متن ممکن نہیں رہتی۔ ایسی صورت میں متن کی خواندگی اور تفہیم کے ذرائع خارج از تہذیب قوتوں کو منتقل ہو جاتے ہیں اور متن لوٹ کا مال بن کر رہ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں علوم آلیہ کا خاتمہ مرگ عقل کی وجہ سے ہوا اور جس کا نتیجہ تجدد، مابعدالطبیعات اور جدید باطنیت کی صورت میں ظاہر ہوا۔

درس و تدریس میں طالب علم کی ذہنی اور اخلاقی خود مختاری فعال نہیں ہوتی کیونکہ وہ ابھی حصول کے مرحلے میں ہوتا ہے جبکہ مطالعۂ کتب اور مطالعۂ متن میں بنیادی چیز قاری کی ذہنی اور اخلاقی خود مختاری ہوتی ہے۔ انسان کی یہی خودمختاری "غور و خوض" کی بنیاد ہے۔ معقولات کے تحتانی علوم آلیہ کی عدم موجودگی میں مطالعۂ متن ایک free for all سرگرمی کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور متن پر خارج از تہذیب و روایت یورشی قوتیں اس میں کوئی قابل دفاع معنی باقی نہیں رہنے دیتیں اور نہ دفاعی وسائل و اسالیب بچ پاتے ہیں۔ مطالعۂ متن میں علوم آلیہ دفاعی وسائل اور اسالیب کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مطالعۂ متن میں ایک بہت بڑا مسئلہ خود تاریخ، اس کی خون آشامی اور تیز تر حرکت کی وجہ سے سے پیدا ہو جاتا ہے۔ کلچر اور تعلیم کے فعال وسائل و ذرائع سے تاریخ انسانی شعور کی سب سے بڑی صورت گر ہے۔ ایسی صورت میں قدیم سے منتقل ہونے والے مذہب اور طرز زندگی سے انسانی شعور کی نسبتوں پر دباؤ پیدا ہو جاتا ہے اور چونکہ اس دباؤ کی نوعیت عقلی ہوتی ہے اس لیے اس کو صرف عقلی ذرائع سے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، معقولات تاریخ کے روبرو انسانی عقل کی حریت اور آزاد فعلیت کی برقراری یا بازیافت کا واحد ذریعہ بن جاتے ہیں۔ محصور، مفتوح اور محاصرے میں آئی ہوئی عقل تجدد، مابعدالطبیعات اور جدید باطنیت میں پناہ ڈھونڈتی ہے۔

آج کی دنیا میں ٹکنالوجی کا سوال اٹھائے بغیر مطالعۂ متن پر کوئی بامعنی بات نہیں کی جا سکتی۔ میکانکی ٹکنالوجی انسانی اعضا و جوارح سے متعلق تھی جبکہ ڈجیٹل ٹکنالوجی براہ راست انسانی شعور سے متعلق ہے۔ دونوں صورتوں میں، یعنی میکانکی ٹکنالوجی کے انسانی اعضا و جوارح سے تعلق اور ڈجیٹل ٹکنالوجی کے انسانی شعور سے تعلق پر مسلم ذہن کوئی بامعنی سوال اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ ہمارے شعور، علوم، کلچر اور معاشرے میں ان اہم ترین موضوعات پر علمی بات کرنے کی کوئی space ہی کبھی پیدا نہیں ہو سکی۔

ٹکنالوجی فطرت شمشیرِ اور فطرتِ قلم پر مکمل ترین غلبہ حاصل کر چکی ہے، اس لیے مسلم شعور اور معقولات کی روایت میں رہتے ہوئے ٹکنالوجی، پاور اور علم کے سوالات کو ازسر نو اڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈجیٹل ٹکنالوجی اپنے غیرمعمولی وسائل سے متن کو ڈیٹا میں بدلنے، زبان کو یک پرتی بنانے اور لفظ کی total restructuring میں مکمل طور پر کامیاب ہو چکی ہے۔ سادہ لفظوں میں، ڈجیٹل ٹکنالوجی نامیاتی انسانی زبان کو مشینی استعمال کے لیے بھوسہ بنانے کا عمل مکمل کر چکی ہے۔ ایسی صورت حال میں مطالعۂ متن کے ایسے اسالیب کی ضرورت ہے جو کلاسیکل متون کے محتوائے معنی کا تحفظ اور استمرار ممکن بنا سکیں۔

Check Also

Washington Post Ki Mutnaza Khabar Ka Pas e Parda Sach

By Amir Khakwani