Thursday, 26 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Shia Islam, Sunni Islam Aur Jang e Iran

Shia Islam, Sunni Islam Aur Jang e Iran

شیعہ اسلام، سنی اسلام اور جنگ ایران

امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال، اس کے تاریخی پس منظر اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے کچھ مختصر گزارشات ضروری ہیں۔ اٹھارھویں صدی میں نادر شاہ افشار کے ہندوستان پر حملے کے بعد جو جو مباحث اور مناظرے سامنے آئے وہ شیعہ سنی تناظر میں تھے اور اس صدی کے خاتمے تک یہ مباحث سنی اسلام کی مداہنت پر منتج ہوئے اور مراکز تہذیب میں شیعت کا تقریباً مکمل غلبہ ہوگیا۔ اس مداہنت کے نتائج انیسویں صدی کے آغاز میں ظاہر ہوئے اور سنی اسلام کو داخلی طور پر ایک بڑی تقسیم کا سامنا ہوا۔ تحریک مجاہدین کی شکل میں وہابیت سنی اسلام کے لیے ایک بہت بڑے چیلنج کے طور پر ابھری۔

موجودہ صورت حال کے برعکس، آغاز میں وہابیت کا شیعہ اسلام سے کوئی بڑا جھگڑا نہیں تھا۔ وہابیت "اصلاح" کی آڑ میں بنیادی طور پر روایتی سنی اسلام کے خلاف ایک تحریک کے طور پر برسرپیکار ہوئی تھی۔ برصغیر کی مذہبی اور علمی روایت میں وہابیت دو چیزوں کی نمائندہ ہے: (1) نئی توحید اور روایتی عقیدے کا تحول، عین یہی "اصلاح" کی بنیاد تھی جس کے ذریعے روایتی سنی اسلام کو delegitimize کیا گیا۔ (2) عقیدے پر اساس رکھنے والے نئے سیاسی نظریات کا فروغ۔ تحریک مجاہدین برصغیر میں سیاست شرعیہ کے خاتمے اور سیاست عقیدہ کے ظہور کا اعلامیہ ہے۔

انیسویں صدی میں سنی اسلام کو وہابیت کے روبرو شکست فاش ہوئی اور ستاون کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد سنی اسلام مسلکی رسوم و مواقف، تصوف اور مزاروں میں پناہ گیر ہوگیا اور کوئی ایسا سیاسی نظریہ تاریخ میں باقی نہیں رہا جسے سنی اسلام کا موقف کہا جا سکتا ہو۔ بیسویں صدی سے وہابیت کی بتدریج عالمگیریت (globalization) کا آغاز ہوا، یہانتک کہ توحید اور سیاسی مواقف میں سنی اسلام تاریخ سے بالکل ہی بے دخل ہوگیا۔ بیسویں صدی کے مسلمانوں کی سماجی اور سیاسی طور پر فعال اکثریت میں متداول توحید اور سیاست کے تمام تر تصورات وہابیت سے ماخوذ ہیں۔ وہابیت کی عالمگیریت کو آگے چل کر مشرق وسطیٰ میں پیٹرو ڈالر سے بہت بڑی کمک فراہم ہوئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ دو سو سال میں مسلم سیاسی تصورات کی توسیط کا عنوان (rubric) جہاد رہا ہے۔ مسلم معاشروں میں وہابیت جہاد کا علم بلند کرتی ہے اور باطل سے مفاہمت کے لیے ایک "نئی اور صوابدیدی توحید" سے جواز تلاش کرتی ہے تاکہ نصرانیت اور یہودیت کے ساتھ مشترک بنیادیں کھڑی کی جا سکیں جیسا کہ ابراہامک ایکارڈز (Abrahamic Accords) میں سامنے آئیں۔ ان صدیوں میں برصغیر کے مسلمانوں میں جو بھی سیاسی تصورات متداول رہے ہیں ان میں دو قومی نظریے کے علاوہ سب کے سب وہابیت سے ماخوذ ہیں، اگرچہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی وہابیت قراردادِ مقاصد کی صورت میں وطن عزیز پر بڑا شب خون مارنے میں کامیاب رہی۔ میں اپنے ایک الگ مضمون میں ان سیاسی نظریات کی تفصیل عرض کروں گا۔

انقلاب ایران سنہ 1979ء کے بعد یہ صورت حال اچانک تبدیل ہوگئی اور وہابیت سنی اسلام پر اپنے ڈالری دباؤ کو برقرار رکھتے ہوئے شیعت کی طرف متوجہ ہوئی اور شیعت اور وہابیت میں ایک مخاصمت کی صورت حال پیدا ہوگئی جو تاحال جاری ہے۔ غزہ کے بعد سے سنی اور وہابی ریاستیں اور ان کے سیاسی نظریات جس طرح باطل کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور اپنی بقا کے لیے دریوزہ گر ہیں وہ تاریخ کے عجائبات میں سے ہے۔ سنی اسلام مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگی صورت حال میں اپنے کسی بھی سیاسی موقف کے حوالے سے غیر حاضر ہے۔ اس وقت شیعت، وہابیت اور تہذیبِ باطل کی ایک تکون ہے۔ جب جنگ چھڑ جائے تو مذہبی، لامذہبی نظریات کی بحث غیراہم ہو جاتی ہے کیونکہ نظریات فوراً عمل بن جاتے ہیں۔

پوری امت مسلمہ میں عام آدمی کو بھی یہ معلوم ہے کہ کون کس کے ساتھ ہے اور باطل تہذیب سے کون نبردآزما ہے۔ جنگ کا جو بھی نتیجہ نکلے، اس امر کا بہت واضح امکان نظر آ رہا ہے کہ وہابیت ایک سیاسی نظریے کے طور پر اپنی ساکھ باقی نہیں رکھ سکے گی اور مکمل طور پر منہدم ہو جائے گی۔ سنی اسلام سیاسی فکر اور سیاسی عمل کے طور پر ملت اسلامیہ سے تقریباً دو صدیوں سے بے دخل ہے۔

موجودہ جنگ کے خاتمے پر ملت اسلامیہ میں جو تہذیبی اور فکری خلا پیدا ہوگا اور جسے وہابیت نے نہایت مہارت کے ساتھ پر کر رکھا تھا، وہ بہت گہرا اور دور رس امکانات کا حامل ہوگا۔ میں یہ سوال اہلِ نظر پر چھوڑتا ہوں کہ وہ کون سی فکر ہوگی جو اس خلا کو پر کر سکے گی۔ شیعت بطور مذہب اور سیاسی فکر اس وقت رسم شبیری کی تکمیل میں ہے۔ ہر سیاسی انقلاب اپنی فکر کو میدانِ جنگ میں ثابت کرتا ہے۔ یہ جنگ ایرانی انقلاب کا لازمی اگلا مرحلہ ہے اور اگر ایٹمی ہتھیار استعمال نہ ہوئے تو اس جنگ میں ایرانی انقلاب اپنی فاتحانہ تشکیل نو کے امکانات پورے کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

Check Also

Kashti e Nooh, Gerald Ford Aur Call Of Nature

By Amir Mohammad Kalwar