Pakistan Aur Taliban Ki Haliya Jharpon Ka Tashweesh Naak Pehlu
پاکستان اور طالبان کی حالیہ جھڑپوں کا تشویشناک پہلو

گزشتہ دنوں پاکستان اور افغانستان میں جنگی جھڑپیں ہوئیں جن میں دونوں طرف سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا اور بعض حلقوں کی طرف سے اسے ایک باقاعدہ جنگ قرار دیا گیا۔ اس کی عسکری نوعیت کے ٹیکنیکل معاملات کو ماہرین پر چھوڑتے ہوئے ہم اس جنگ کے ایک انتہائی تشویشناک پہلو کی طرف مختصراً توجہ دلانا چاہتے ہیں۔
گزارش ہے کہ قیام پاکستان سے فوراً پہلے برصغیر کا مسلم معاشرہ ایک انتہائی گہری اور شدید پولرائزیشن کا شکار ہوگیا تھا جس کا نظریاتی عنوان "دو قومی نظریے" اور "متحدہ قومیت کے نطریے" کی باہمی آویزش تھی۔ دو قومی نظریہ برصغیر کے مسلم معاشرے کے تاریخی تجربے کا اظہار تھا اور سیاسی طاقت کی طرف واپسی کی بنیاد فراہم کرتا تھا۔ اس نظریے کا بنیادی ترین مقصد جدیدیت اور استعمار کے پیدا کردہ طاقت کے جدید نظام میں سیاسی قوت پر اپنے دعوے کو عملاً قائم کرنے کا نظریاتی جواز فراہم کرنا تھا۔ دو قومی نظریہ مکمل طور ایجابی، رجائی اور برصغیر کے جدید مسلم معاشرے کی سیاسی امنگوں کا ترجمان تھا۔
دوسری طرف "متحدہ قومیت کا نظریہ" تحریک مجاہدین کے ترک شریعت کے آئینہ دار عقیدہ مرکز سیاسی تصورات کا تسلسل، مکمل طور پر سلبی، سیاسی طاقت پر مسلم دعوے کا نقیض، برصغیر میں ہندو غلبے کے لیے فعال اور مسلم معاشرہ دشمن تھا۔ برصغیر میں قائم جدید سیاسی و استعماری نظام اور مسلم معاشرے کی تاریخی حرکیات کا تقاضا یہی تھا کہ دو قومی نظریے کو سیاسی اقتدار حاصل ہو، جبکہ متحدہ قومیت کا نظریہ پاکستان منتقلی کے بعد، طاقت سے باہر رہ کر پاکستانی معاشرے کے سیاسی عمل پر مسلسل شبخون لگاتا رہے۔ لیکن اس پولرائزیشن اور نظریاتی آویزش کا ایک پہلو بہت زیادہ مثبت رہا ہے کہ فریقین کے باہمی اختلاف کی توسیط ہمیشہ سیاسی ذرائع سے ہوتی رہی ہے۔
اس توسیط کے صرف سیاسی رہنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے ایک نظریہ سیاسی اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب رہا جبکہ دوسرا نظریہ ہندو majoritarian نظام میں دم چھلے کے طور پر چپک کر بالآخر اپنی بدانجامی سے دوچار ہوا۔ معاشروں کی تاریخی اور سیاسی حرکیات سے باخبر اہل نظر اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ دو باہم مخالف نظریات کو اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں ان کے مابین سیاسی توسیط کے خاتمے کے امکانات تقریباً یقینی ہوتے ہیں۔
دو قومی نظریہ اور متحدہ قومیت کا نظریہ برصغیر کے مسلم معاشرے کی بہت گہری فالٹ لائن ہے جو اپنی توسیط میں اب تک ہمیشہ سیاسی رہی ہے۔ موجودہ جنگ نے اس سیاسی فالٹ لائن کو عسکری بنا دیا ہے۔ اس فالٹ لائن کا عسکری بن جانا پاکستان اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے بہت تشویشناک امکانات کا حامل ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے کی پیچیدگی لاینحل ہونے کا اندیشہ ہے۔
گزارش ہے کہ جو تہذیبی مسائل علم کے منطقے میں حل نہ ہو پائیں وہ تلوار سے بھی حل نہیں ہوتے۔ اس فالٹ لائن کی عسکریت سازی کے حوالے سے ایک تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کے قیام سے پہلے ہی متحدہ قومیت کا نظریہ جس کی قیادت ہمارے مذہبی علما کر رہے تھے خود تقسیم کا شکار ہوگیا اور علما کا ایک طبقہ مسلم لیگ کے ساتھ ہوگیا۔ ان علما کے ہاں اصل نظریے میں کوئی بنیادی تبدیلی واقع نہیں ہوئی اور ان کی حیثیت زیادہ تر مدخلی نوعیت کی تھی۔ ان علما کے سیاسی تصورات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کیونکہ ان کی مسلم لیگ میں شمولیت کا بنیادی سبب یہ تھا کہ اکثر علما نے سیاسی قائدین کی موجوگی میں علما کی سیاست میں شرکت سے اختلاف کیا۔ بعد میں یہی تقسیم اچھے طالبان اور برے طالبان کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
اس میں خوارج طالبان تحریک مجاہدین اور متحدہ قومیت کے اصل وارث تھے جبکہ افغان طالبان پر متحدہ قومیت کے حامل مدخلی علما کے اثرات زیادہ تھے۔ اقتدار میں آنے کے بعد یہ فطری بات تھی کہ متحدہ قومیت کا نظریہ اپنے اصل چہرے کے ساتھ سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ کابل میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد طالبان کی باہمی شناختوں کو الگ الگ رکھنا ممکن نہیں رہا، کیونکہ یہ تقسیم شروع سے ہی ابہام لیے ہوئے تھی۔ طالبان کی باہمی تقسیم نوعی نہیں تھی بلکہ درجاتی تھی۔ حصولِ اقتدار کے بعد اس درجاتی تقسیم کو قائم رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ موجودہ جنگ طالبان کی سیاسی شناخت میں consolidation کا منطقی نتیجہ ہے۔
یہاں اس امر کا اعادہ کرنا ضروری ہے کہ دو قومی نظریہ اور متحدہ قومیت کا نظریہ باہم یک نگر (mutually exclusive) ہیں اور ان کے مابین کوئی مشترک سیاسی علاقہ نہیں ہے، یعنی ان کے پاور کے تصورات ایک دوسرے سے مستقل آویزش میں ہیں۔ سیاسی توسیط اس وقت تک ممکن ہو سکتی تھی جب تک اقتدار ایک نظریے کی رسائی سے باہر ہو۔ اگر دو باہم یک نگر سیاسی نظریات اقتدار تک رسائی حاصل کر لیں تو ان کے درمیان سیاسی توسیط کے امکانات کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور عسکریت پسندی اور جنگ توسیط و تعامل کا واحد ذریعہ بن جاتی ہے۔ متحدہ قومیت کا نظریہ بنیادی طور پر تحریک مجاہدین کا وارث ہے۔ جیسا کہ میں اپنی ایک سابقہ تحریر میں عرض کر چکا ہوں کہ وہابیت بنیادی طور پر سنیت کے خلاف ظاہر والے ایک تحریک تھی اور وہ اسی کے خلاف برسرپیکار رہی ہے اور شیعت سے اس کی لڑائی ایرانی انقلاب کے مابعد شروع ہوئی تھی۔
یہ مرور ایام کی محض ایک ستم ظریفی ہے کہ آج کی ملت اسلامیہ کے موجودہ لمحۂ تاریخ میں وہابیت سنیت اور شیعت کے خلاف بیک وقت برسر پیکار ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے تہذیبی مسائل جو سمجھنے اور ان پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائے۔

