Mojuda Jang, Shia Sunni Aur Millat e Islamia Ka Siasi Mustaqbil
موجودہ جنگ، شیعہ سنی اور ملت اسلامیہ کا سیاسی مستقبل

امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے ساتھ ہی شیعہ سنی بھی شروع ہوگیا ہے اور جنگ پر صرف سیاسی تبصرہ اور تجزیہ ممکن نہ رہا۔ سیاسی تبصرے اور تجزیے میں تھوڑی بہت معروضیت کو باقی رکھنا ممکن ہوتا ہے لیکن شیعہ سنی تناظر میں اس جنگ پر کوئی بات کرنا ہی ممکن نہیں کیونکہ شیعہ سنی صرف اس جنگ تک محدود یا اس سے متعلق نہیں ہے۔ یہ روگ پرانا ہے اور اس پر گفتگو، مکالمے اور مناظرے کے اسالیب بھی قدیم سے چلے آتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ اس جنگ کے موقع پر شیعہ سنی کرنا بالکل ہی بے محل ہے کیونکہ اس سے نہ شیعہ سنی مسئلے پر کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ جنگ ہی کا کوئی سیاسی اور عصری فہم حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی سرمائے اور طاقت کے عالمی نظام کی حرکیات کا کچھ اندازہ ہو پاتا ہے۔ یہ بات کہنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انقلاب کے بعد سے ایران کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے بہت سے پہلو قابل اعتراض ہیں اور خاص طور پر لبنان، شام اور عراق میں سنیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی مذہبی یا سیاسی بنیادوں پر تصویب ممکن نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی دیانت داری سے یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ صدام حسین کے عراق اور بحرین میں شیعوں پر جس جبر کو روا رکھا گیا اس کا بھی کوئی جواز نہیں۔
شیعہ سنی ہماری تہذیب، مذہب اور علم کی ایسی فالٹ لائن ہے جو بارودی سرنگ کی طرح ہے اور اس کا تاریخی بوجھ روند دینے والا ہے۔ لیکن تہذیبیں اور علم کی بڑی روایتیں ایسے ہی بوجھ کے ساتھ تاریخ کا سفر طے کرتی اور زندہ رہتی ہیں۔ میں نے شیعہ سنی مسئلے کی سیاسی settlement کی بات کی تھی۔ اس پر جناب مولانا عمار خان ناصر کا تبصرہ برمحل ہے کہ عقیدے اور سیاسی عمل کو زیادہ دیر الگ الگ رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ میں ان کے ارشاد سے متفق ہوں۔ اس کا حل یہ ہے کہ عقیدے کے شیعہ سنی مسائل پر مناظرے اور مکالمے پر پابندی ہو اور اس کو کلام کے دائرے میں منتقل کر دیا جائے اور اس کی توسیط کے علمی اور صرف کتابی ذرائع استعمال کیے جائیں۔ اس کے لیے ایک ایسی علمی مجلس بنائی جا سکتی ہے جس میں مختلف المسالک لوگ شامل ہوں اور جس میں ارباب اختیار اپنی ذمہ داری کے لحاظ سے تفوق رکھتے ہوں۔
یہاں شیعہ سنی کے حوالے سے ایک نوعی تبدیلی کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ برصغیر میں شیعہ سنی مسئلے کا عروج اٹھارھویں صدی میں ہوا تھا۔ اس زمانے کی سیاسی کشمکش اور علمی مناقشوں میں سنیوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی۔ انیسویں صدی کے آغاز سے شیعہ سنی مسئلے کی نوعیت شیعہ وہابی ہوگئی تھی اور بچارے سنی تاریخ کے پچھواڑے میں نئے سلوک و عرفان کی پینک میں پڑے سنی سنی کھیلتے رہتے ہیں۔ کلاسیکل شیعہ سنی مناقشوں میں کئی ایسے میادین ہیں جو overlapping ہیں اور گفتگو کی بنیاد فراہم کرتے چلے آئے ہیں۔
شیعہ سنی کی نوعیت شیعہ وہابی ہونے سے دونوں مسالک میں مشترک میادین بہت ہی کم رہ گئے ہیں اور باہمی مناقشات بالکل ہی دشمنی میں بدل گئے ہیں۔ بیسیویں صدی میں وہابیوں کو استعماری سرپرستی حاصل ہونے اور پیٹرو ڈالر کی کمک سے وہابی سنی مناقشے بھی اتنے ہی virulent ہو گئے ہیں جیسے کہ شیعہ سنی ہوا کرتے تھے۔ مسلمانوں کے درمیان اب تو مذہبی مسالک اور غیرمذہبی علوم میں کوئی ایسے مشترک میادین ہی موجود نہیں رہے جہاں کسی مکالمے کا امکان باقی رہ گیا ہو۔ اسی باعث مسلمانوں کے مابین علمی اور مذہبی مباحث free for all کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں اور تقریباً ہر شعبے میں مکالمے کا امکان ہی معدوم ہوگیا ہے۔
جہاں تک موجودہ جنگ کا تعلق ہے اس کا سیاسی تناظر بہت واضح ہے۔ ابراہیمی معاہدات تاریخ کے جس رخ کی نشاندہی کر رہے تھے وہ جنگ عظیم اول کے بعد مشرق وسطیٰ میں مغربی استعمار کے حتمی اور مستقل غلبے کا اعلامیہ تھے۔ امریکہ نے اپنے سفارتخانے کو 2018ء میں بیت المقدس میں منتقل کیا تھا اور دو سال بعد ابراہیمی معاہدات کا بھی اعلان ہوگیا تھا۔ لیکن 7 اکتوبر سنہ 2023ء کے حملوں سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال اچانک تبدیل ہوگئی۔ امریکی استعمار کے نزدیک سفارت خانے کی منتقلی اور ابراہیمی معاہدات کا مطلب مزاحمت کا خاتمہ تھا۔ لیکن یہ اندازے مکمل طور پر غلط ثابت ہوئے۔
ایران پر حملہ سات اکتوبر کے خلاف ردِ عمل کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مسلم دنیا آغاز استعمار سے مزاحمت کرتی چلی آئی ہے۔ لیکن کئی دہائیوں سے سنی دنیا امریکہ اور مغرب کے غلبے میں رہنے کے لیے اپنا فکر و عمل بھی مکمل طور پر تبدیل کر چکی ہے اور وہ اپنے مذہب کی بھی تشکیل نو کر چکے ہیں۔ سنی دنیا میں فکر و عمل کے ایسے سوتے بھی باقی نہیں رہے جو مغرب کے خلاف مزاحمت کو کوئی اساس فراہم کر سکیں۔ عالمی جنوب میں ایران کی مثال last man standing کی ہے۔ ایسی مزاحمت اگر لاطینی امریکہ، افریقہ یا مشرق بعید کے بھی کسی ملک میں سامنے آئے تو اس کا ساتھ دینا انسانی ضمیر کا معاملہ ہے، یہ شیعہ وہابی یا شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے۔ جس علمی، مذہبی اور سیاسی تناظر میں یہ شیعہ سنی مسئلہ ہے اس میں ہم سنیوں کے ساتھ ہیں، لیکن اس میں مسئلہ یہ ہے جدیدیت اور ڈالر کے زیراثر سنیوں کی اکثریت اب وہابی ہوگئی ہے۔
وہابیوں کا ساتھ دینے سے بہتر ہے کہ آدمی شیعوں اور وہابیوں دونوں سے معافی مانگ لے اور سیدھا سیدھا امریکہ کے ساتھ ہو جائے اور کورنش بجا لائے۔ یاد رہے کہ خادمین کے ڈالر کوئی زیادہ امریکی نہیں ہوتے اور نہ براستہ خادمین انھیں کوئی تبرک حاصل ہو جاتا ہے۔ ڈالر ڈالر ہی ہوتے ہیں اور ان کی عنایت راست ہو تو اہلِ بصیرت کہتے ہیں کہ زیادہ صائب ہوتے ہیں۔

