Tuesday, 14 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Maqoolat Aur Mazhab

Maqoolat Aur Mazhab

معقولات اور مذہب

اگر احباب میں سے کسی صاحب نے قادیانی کذاب کی کتاب "اسلامی اصول کی فلاسفی" ذرا دھیان سے پڑھی ہو تو یہ جاننا مشکل نہیں رہتا کہ معقولات کی خرابی کے احوال میں عقیدۂ توحید، عقیدۂ رسالت، شریعت اور تصوف وغیرہ سلامت نہیں رہتے۔ خود تجدد بھی انسانی عقل، تعقل اور عقلیت کے تحول سے پیدا ہوتا ہے۔ علمی روایتوں میں معقولات کی پرورش سے اس بنیادی ترین تہذیبی ذمہ داری کو پورا کرنا مقصود ہوتا ہے کہ عقل کے اپنے پیدا کردہ نظام استدلال میں رہتے ہوئے عقل کے خود اپنے بارے میں، معلوم اور علم کے بارے میں مواقف کو درست اور ثقہ (valid) رکھا جا سکے۔

سادہ لفظوں میں اگر کسی معاشرے کی علمی روایت عقل کی تہذیب اور تعیین نہ کر سکے تو اس میں علوم اور مذہب دونوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ معقولات کے خاتمے سے، علوم میں عقل کا وظیفہ اور جائز دائرہ کار رسمی طور پر باقی نہیں رہتا اور وہ مذہب میں گھس جاتی ہے اور مذہب بطور ہدایت اور الوہی کلام اپنی اصل پر قائم نہیں سکتا۔ مائل بہ تکفیر متکلم عظیم جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد مغل جن معقولات کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں وہ اساساً اور نوعاً وہی ہیں جس کا قادیانی کذاب نے اپنی کتابوں میں پرچار کیا ہے۔

مجھے کبھی بھی یہ شک نہیں رہا کہ ان کی معقولات مسلم ذہن پر شب خون کی حیثیت رکھتی ہیں اور اب پروفیسر صاحب کا فکری مینڈھا آنکھوں پر عقل کی پٹی باندھ کر، ایک کلامی اور ایک فلسفیانہ سینگ لگا کر حریم نبوت میں نقب لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ نبوت ایک فلسفیانہ اور علمیاتی (epistemological) مسئلہ ہے اور حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کی ذات پاک خود اپنی نبوت کی دلیل نہیں بن سکتی جب تک وہ پہلے اللہ تعالیٰ کے وجود پر کوئی عقلی دلیل نہ لے کر آئیں۔

عقلی دلائل تو حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کی بعثت مبارکہ سے پہلے یونانی فلسفے میں سامنے آئے تھے اور نبیؑ نے اپنے مخاطبین پر کوئی منطقی، فلسفیانہ یا کلامی دلیل پیش نہیں کی، بلکہ صدر اول میں فلسفیانہ مباحث اور علم کلام کے خلاف ہمارے اسلافی اساطین کا ردِ عمل موجود ہے۔ اگر حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام یا صحابہ کرام سے کوئی منطقی اور فلسفیانہ دلیل منقول ہو تو پروفیسر صاحب کو چاہیے کہ پیش کریں۔ پروفیسر صاحب کا موقف یہ ہے کہ نبوت اور وجود باری نقلی دلیل سے ثابت نہیں ہو سکتے، ان کے لیے عقلی دلیل کی ضرورت ہے اور جس کے لیے وہ ارسطوئی منطق میں متداول دلیل حدوث کا جھنڈا اٹھا کر چل پڑے ہیں۔

پروفیسر صاحب نعوذ باللہ یہ کہتے ہیں کہ اگر نبی آ کر نبوت کا دعویٰ کرے اور کسی عقلی دلیل سے اس خدا کو ثابت نہ کرے جس کا وہ نبی بن کر آیا ہے تو یہ سرکولر ریزننگ (دوری دلیل) ہوگی۔ اٹھارھویں صدی کے بعد سے ہمارے ہاں معقولات اور تعبیرات کے بھیس میں جتنے بھی علوم سامنے آئے ہیں ان کا واحد مقصد حریم نبوت میں نقب لگانے کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ کوئی مسلمان دین کی نئی تعبیر کی طرف پیشرفت کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام سے اپنے تعلق کو تبدیل نہ کر لے اور دین میں آپ کے مقام کو ازسر نو متعین نہ کر لے۔

پروفیسر صاحب ایمانؤئل کانٹ کی پیروی میں اب نبوت کی critique سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کانٹ کے طعنے ہمیں دیتے ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ جہاں فلسفے کی بات کرنی ہوتی ہے وہ کلام شروع کر دیتے ہیں اور جہاں کلام کی بات آتی ہے تو وہ فلسفہ شروع کر دیتے ہیں اور پتہ ان کو دونوں کا نہیں ہے۔ اپنی چار اپریل کی ایک پوسٹ میں فرماتے ہیں:

"کوئی ایسا صحیح الدماغ شخص ہو سکتا ہے جو یہ کہے کہ "محمد (ﷺ) خدا کے پیغمبر ہیں" اس بات کی سچائی علمی و منطقی طور پر اس دعوے کی سچائی سے مقدم ہے کہ "خدا کا وجود ہے؟" کیا کوئی شخص ہم آھنگی کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں فلاں کو خدا کا پیغمبر تو مانتا ہوں لیکن میں خدا کو نہیں مانتا؟ یا وہ کہے کہ میں فلاں کے خدا کا پیغمبر ہونے کی سچائی کی تصدیق پہلے کرتا ہوں اور پھر اسی شخص کے کہنے سے خدا کے وجود کی سچائی کی تصدیق کرتا ہوں؟ اگر ایسا ممکن نہیں اور بالکل نہیں تو بھلا "خدا کے وجود" کی سچائی کا ثبوت "محمد (ﷺ) خدا کے پیغمبر ہیں" کی سچائی کے بعد ان کی خبر سے کیسے آ سکتا ہے؟"

پروفیسر صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ نعوذ باللہ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کو اللہ تعالیٰ کے نبی کی حیثیت سے خود منطقی دلیل کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کے دعوی نبوت کی "علمی اور منطقی" سچائی مابعد ہے اور "خدا کا وجود ہے؟" کے دعوے کی "علمی اور منطقی" سچائی اس دعوے سے ماقبل ہے۔ پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ "ایسا ممکن نہیں" کہ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کے دعوی نبوت سے نبوت کی سچائی ظاہر ہو جائے اور وجود باری بھی ثابت ہو جائے۔ ان کے نزدیک یہ سرکلر ریزننگ ہے۔ اس لیے پہلے نبی علیہ الصلٰوۃ و السلام کو وجودی باری کے لیے کوئی منطقی اور فلسفیانہ دلیل دینی ہوگی۔ انھوں نے صاف کہا ہے کہ نبوت اور وجود باری نقلی دلیل سے ثابت ہی نہیں ہوتے، ان کے لیے عقلی دلیل کی ضرورت ہے اور جس عقل کا وہ یہاں ذکر کر رہے ہیں وہ ان کا اپنا بنایا ہوا کوئی ڈھکوسلا ہے کیونکہ اس سے مراد وہ انسانی عقل نہیں ہے جو یونانی فلسفے اور علم الکلام میں اپنے مظاہر اور حاصلات رکھتی ہے۔

جب فلسفے کی بات ہو تو وہ علم الکلام بڑبڑانا شروع کر دیتے ہیں اور جب علم الکلام کی بات ہو تو علمیات (epistemology) بگھارنا شروع کرتے ہیں اور پھر اپنے فلسفے اور علم الکلام کا ملیدہ پوت کر وہ مذہب پر نقب لگانے چل پڑتے ہیں۔ عقل کو مذہب پر ایسی سبقت سے فلاسفہ، معتزلی اور حکما بالکل بے خبر تھے کیونکہ انھوں نے (نعوذ باللہ) حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کو متکلم کے طور پر پیش نہیں کیا۔

Check Also

Deadlock Ke Peeche Chupi Hikmat e Amli

By Muhammad Umar Shahzad