Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Kalami Ahya Ya Naya Ilm Ul Kalam?

Kalami Ahya Ya Naya Ilm Ul Kalam?

کلامی احیا یا نیا علم الکلام؟

کلاسیکل علم الکلام کی روایت کو برصغیر میں انیسویں صدی کے آغاز میں جن بڑی تحدیوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کی طرف میں نے بارہا توجہ دلائی ہے لیکن نام نہاد احیائی متکلمین میری گزارشات کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھتے۔ اعادے کے طور پر عرض ہے کہ:

(1) انیسویں صدی کے بالکل آغاز میں دہلی پر برطانوی استعمار کا قبضہ ہوگیا اور مغل بادشاہ انگریزوں کا وظیفہ خوار بن گیا۔ اس سے قبل بادشاہ مرہٹوں کا وظیفہ خوار بھی رہ چکا تھا لیکن اس وقت دارالحرب کا "فتویٰ" نہیں دیا گیا تھا جبکہ انگریزوں کے غلبے کے ساتھ ہی ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا "فتوی" جاری کر دیا گیا اور اس میں ربیٰ کا ذکر موجود اور جہاد کا ذکر محذوف تھا۔

ہماری اصول فقہ کی روایت کے جو آثار باقی رہ گئے تھے وہ کسی حد تک اس فتویٰ میں ظاہر ہوئے تھے۔ اس فتوے پر آج تک بحث جاری ہے جس کی علمی اور مذہبی سطح ازحد افسوسناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ نئی تاریخ کے مظاہر کی تفہیم اور ان میں مسلم اجتماعی عمل کی رہنمائی کے لیے ہماری معقولات میں کیا سیاسی تصورات سامنے آئے اور اجتماعی عمل کی رہنمائی اور سیاست شرعیہ کے قیام کے لیے کون سے شرعی اور فقہی احکام باقی رہ گئے ہیں؟

(2) انیسویں صدی کے شروع میں مسلم تہذیبی انہدام اور علمی خلا کے ماحول میں شاہ اسماعیل دہلوی کی کتاب "منصب امامت" میں وہابی خوارج کا نیا سیاسی منشور سامنے آیا۔ سوال یہ ہے کہ اس منشور کے عقلی ہونے کی نوعیت کیا ہے اور شریعت سے اس منشور کی کیا نسبتیں ہیں؟ یہ مسئلہ صوابدیدی ہرمینیات کی دھونس سے حل ہونے والا نہیں ہے۔

(3) انیسویں صدی کے اوائل ہی میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدۂ توحید کو وہابی خارجیت کی طرف سے بڑے چیلنج کا سامنا ہوا۔ علم الکلام کا خاص دائرہ عقیدے کو درپیش تحدیوں سے نمٹنا ہے۔ ایسے کون سے وسائل ہیں جن کے ذریعے سے ہم یہ جان سکیں کہ اس معرکے میں کلاسیکل علم الکلام کی روایت کا کیا حشر ہوا؟ اور کیا اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ کہیں باقی بھی رہا ہے اور اس کا علمی بیان کیا ہے؟

(4) ہماری معقولات میں استعمار پر کیا کلام کیا گیا ہے اور وہ کون سے علوم ہیں جن میں استعماری جدیدیت کی تفہیم کو سامنے لایا گیا ہے؟

(5) جنگ ستاون کے بعد جدید تعلیم پر مسلم اہل علم میں ایک عظیم مناقشہ واقع ہوا۔ اس میں ہماری روایتی معقولات کے وسائل سے آقائے سرسید کے موقف کو رد کرنے میں کیا کوئی کام کی بات سامنے لائی جا سکی؟

(6) بیسویں صدی کے اوائل میں روایتی معقولات کے وسائل سے نیوٹن کے نظریات اور حرکت زمین کو رد کیا گیا۔ کیا رد علم الکلام ہوا یا نیوٹن کی فزکس؟

مائل بہ تکفیر متکلم عظیم جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد مغل جس علم الکلام کے احیا کا جھنڈا اٹھائے پھرتے ہیں میں نے حالیہ تاریخ میں اس کے کارہائے نمایاں کا اوپر انتہائی مختصر ذکر کیا ہے۔ جس علم الکلام کو تاریخ کی قوتوں نے روند ڈالا اور نئے علوم کی باد سموم نے ہلاکت کی نیند سلا دیا اور مسلم معاشرہ اور تاریخ اس کی تدفین بھی مکمل کر چکے، کیا اس کا احیا ممکن ہے؟ یہ احیا نہیں ہے مسلم شعور و عمل پر شبخون کی نئی تیاری ہے۔

ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں۔ ہماری گزارش ہے کہ دینی ہدایت کے ہوتے ہوئے ہمیں مذہبی "مفکرین" یا کسی فکری نظام کی ضرورت نہیں ہے۔ کلاسیکل علم الکلام اور اصول فقہ افکار کا کوئی نظام نہیں تھے بلکہ ایسی عقلیت کا اظہار تھے جو ہدایت کی مؤید تھی۔ عین اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ہمیں اس وقت غزالیائی عقلیت کی بازیافت کی ضرورت ہے۔

Check Also

Do Qisam Ke Log

By Rauf Klasra