Jang Ke Harbi Maqasid
جنگ کے حربی مقاصد

جنگ کا آغاز ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اہم قائدین کی شہادت سے ہوا۔ ایران نے نہ صرف قیادت کے خلا کو کم سے کم وقت میں پر کر لیا بلکہ اپنی جنگی کاروائیوں کو بھی جاری رکھا۔ سپریم لیڈر کی شہادت پر ایران کے اندر جس طرح کا ردِ عمل سامنے آیا ہے وہ امریکی اور اسرائیلی توقعات کے بالکل برعکس ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ استعماری طاقتیں پہلے ہی حملے میں اپنا بنیادی تزویراتی (tactical) ہدف حاصل کرنے میں یقیناً کامیاب رہی ہیں۔ لیکن استعماری طاقتوں کی یہ خوش فہمی تو وقتی طور پر ختم ہوگئی ہے کہ وہ فضائی حملوں اور میزائلوں کے ذریعے ایران میں کوئی رجیم چینج ممکن بنا سکتے ہیں یا پروپیگنڈے کے ذریعے اقتدار پر قبضے کے لیے عوام کو اکسا کر مظاہروں پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ ایرانی عوام کی بہت بڑی اکثریت موجودہ حکومت کے ساتھ ہے۔ گریٹر اسرائیل کے قیام کا ایجنڈا بھی موجودہ حالات میں محض ایک خواب ہی ہے جس کے پورا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایرانی اور علاقائی سطح پر عوام کا جو رد عمل سامنے آیا ہے اس سے بھی استعماری اور غاصب قوتوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مزاحمت میں اضافے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
جہاں تک جنگ سے وابستہ امریکی اور اسرائیلی حربی مقاصد کا تعلق ہے وہ پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ صرف دورمار حملوں سے ان کا حصول ممکن نہیں۔ صہیونی لابی کے شدید دباؤ کے تحت جنگ میں امریکی شمولیت کے باوجود، اسرائیل کے حربی (strategic) مقاصد کا پورا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ صدر ٹرمپ افغانستان سے شرمناک امریکی فرار کا خود ذکر کر چکا ہے۔ جس طرح کے جنگ مخالف اور امریکہ اول کے ایجنڈے پر وہ منتخب ہو کر آیا ہے ایک طویل جنگ اس کے لیے سنگین مسائل کھڑے کر سکتی ہے۔ حالیہ دہائیوں میں عراق اور افغانستان میں امریکی حربی ناکامی تاریخ کا حصہ ہے اور ایران میں بھی ان کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں ہے۔ جنگ میں ایران کا شدید نقصان ہونا فطری بات ہے کیونکہ جنگوں میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ لیکن حالات کا جو رخ بنتا نظر آ رہا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ "مشرق وسطیٰ کی تنظیم نو" اب ایران کی بجائے عربوں کی قیمت پر ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی نئی قیادت سے مذاکرات کرنے کی بات کی ہے جو اسرائیل کے ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس کا سبب نئی قیادت نہیں بلکہ ایران میں سپریم لیڈر کی شہادت پر عوامی ردِ عمل، ایرانی قوم کی یک جہتی اور فوری رجیم چینج کے امکان کا خاتمہ ہے۔ اسرائیل ایران کی مکمل تباہی تک جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ رجیم چینج میں دلچسپی رکھتا تھا اور اس کا امکان معدوم ہونے کی وجہ سے اس نے مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔ اگر امریکہ جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف آتا ہے تو یہ ایران کی بڑی فتح ہوگی اور اسرائیل کے لیے ایک بھیانک خواب۔ سپریم لیڈر کی شہادت سے اس امر کا امکان بھی پیدا ہوگیا ہے کہ ایران روس اور چین سے بھاری عسکری امداد قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائے اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ایٹمی پالیسی بھی تبدیل کر لے۔ ایران نے چین اور خاص طور پر روس کی طرف سے بھاری عسکری امداد اور سیکورٹی کو بہتر بنانے کی پیشکش کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔

