Jang Bandi: Akhir e Shab Ke Shab Gazeeda Sahar?
جنگ بندی: آخرِ شب کہ شب گزیدہ سحر؟

انقلاب اور جنگ تاریخ کے نہایت بڑے واقعات میں ہیں اور سیاسی معاشی طاقت کے نظام کو بدل دیتے ہیں۔ انسانی معاشروں میں سیاسی معاشی طاقت کے نظام بہت زیادہ دیرپا ہوتے ہیں اور ان میں جذری تبدیلی صرف انقلاب اور جنگ سے ہی واقع ہوتی ہے۔ جب تک طاقت کے ساتھ تصورات کی حرکیات کو شامل نہ رکھا جائے تو تاریخ کو صرف واقعات سے نہیں سمھجا جا سکتا۔ موجودہ جنگ اور جنگ بندی کوئی واقعات نہیں ہیں بلکہ تاریخ کی کوکھ میں پلنے والے ایک رجحان کا عملی ظہور ہیں۔
1) موجودہ جنگ اصلاً 7 اکتوبر سنہ 2023ء کے فلسطینی حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال کا تسلسل ہے۔ ایران پر مسلط کردہ جنگ کا مقصد عرب اور مسلم دنیا میں ابھرتی ہوئی مزاحمت کے منبع تک پہنچنا تھا جو ایران ہے۔ ابھی تک امریکی استعمار کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ اپنا کوئی بھی بنیادی ہدف حاصل نہیں کر پائی۔
2) ایرانی انقلاب کو اگر thesis (تصور) مان لیا جائے تو ظاہر ہے کہ اس کا anti-thesis (ردِ تصور) امریکی استعمار تھا۔ اسلامی انقلاب سے ایرانی عوام نے اپنی تہذیبی آزادی کی طرف جست کی تھی اور اس کے لیے انھوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ تصور اور ردِ تصور کی پنجہ آزمائی انقلاب کے بعد سے جاری تھی اور ان کا فعال ٹکراؤ ناگزیر تھا۔ موجودہ جنگ میں ایرانی انقلاب کے بنیادی تصور کی سینچائی لہو سے ہوگئی ہے اور وہ اپنی منزل مراد کو پہنچ گیا ہے۔ ایران نے رسم شبیری سے جس طرح اپنے بنیادی سیاسی تصور کو سربلند رکھا ہے اور اس کے لیے جس دلاوری، جانثاری اور حمیت کا مظاہرہ کیا ہے وہ گزشتہ پانچ سو سال کی استعماری تاریخ میں ایک بہت بڑا واقعہ ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ تاریخ میں اس کے عواقب سامنے نہ آئیں۔ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں یہ آخر شب کے اندھیرے نہیں ہیں بلکہ شب گزیدہ سحر کی ٹمٹماتی روشنیاں ہیں۔
3) تیسری اہم چیز جس کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ سات اکتوبر کے واقعے پر میں نے عرض کیا تھا کہ یہ عرب ایجنسی کی تاریخ میں واپسی ہے۔ ایران کی کارکردگی سے اب اس پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی ہے کہ سات اکتوبر کے بعد سے حالیہ جنگ تک ہم تاریخ میں مسلم ایجنسی کی واپسی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ بالکل ویسی ہی صورت حال ہے جس کی طرف اقبالؒ نے اشارہ فرمایا تھا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاست برصغیر کے مسلمانوں میں آرزوئے جہانبانی کی واپسی ہے۔ موجودہ صورت حال کی تفہیم میں اگر پاکستان کے رول کو بھی شامل رکھا جائے تو وہ خاکہ مکمل ہو جاتا ہے جس کی طرف میں یہاں اشارہ کر رہا ہوں۔
4) مشرق وسطیٰ اور عالمی حالات کی موجودہ صورت حال کے ایک اہم ترین پہلو کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے۔ تاریخ کے ایک انتہائی کانٹے کے لمحے میں بھارت اپنی سیاسی ایجنسی سے جس طرح محروم ہوا ہے اور عالمی منظرنامے میں جس طرح ایک عضو معطل بن کر رہ گیا ہے وہ برصغیر کے مستقبل کے حوالے سے بہت گہرے مضمرات کا حامل ہے۔ بھارتی ایجنسی کا انہدام اس کے اجتماعی سیاسی ارادے کے شدید اضمحلال پر دلالت کرتا ہے۔ میری رائے میں اس نے بھارت کے داخلی استحکام اور اجتماعی سالمیت پر بنیادی نوعیت کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں جو آگے چل کر خطرناک نتائج کے حامل ہو سکتے ہیں۔ مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ بتدریج بھارت کا اپنا بوجھ اس سے فزوں تر ہوتا چلا جائے گا۔
5) گزشتہ دو سو سال میں سنی اسلام کا خاتمہ کرنے بعد وہابیت غیر شیعہ ملت اسلامیہ میں عقیدے اور سیاسی عمل کا واحد معرّف (definer) بن چکی تھی۔ ہمارے اہل علم کو اس کی کبھی خبر نہیں ہوئی کیونکہ برطانوی اور امریکی استعمار کے زیر اثر وہ وہابیت کی طرف اپنی گزرگامی (transition) پر کبھی مطلع نہ ہو سکے، اگرچہ اہل سنت و الجماعت کی طرف سے کچھ نحیف سی آوازیں ہمیشہ موجود رہی ہیں۔ ہمیں بہرحال امریکی صدر ٹرمپ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ انھوں نے اپنی پہلی صدارت میں بھی اس کا واشگاف اعلان کیا تھا اور اب تو اس نے کوئی پردہ نہیں رکھا کہ وہابیت کا اصل مقصد استعمار کے سامنے سجدہ ریزی اور امریکی صدور کی گاف لیسی رہی ہے۔ اپنے آغاز ہی سے وہابیت استعمار کے روبرو اصل میں یہی فریضہ ادا کرنے میں مستعد رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کشف حقیقت (المشہور مغلئی factive state) کے بعد بھی اہل علم کے لیے اس کو ماننا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ ڈالر اور ریال کی کشفی چمک زیادہ بڑے تاریخی مؤثر کے طور پر کام کرتی ہے۔ موجودہ جنگ کے بعد وہابیت پر قائم سیاسی ساختوں کے انہدام کا امکان بہت زیادہ قوی ہوگیا ہے۔
6) موجودہ جنگ میں ایران نے پانچ سو سال بعد آبنائے ہرمز پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا ہے اور اس امر کا امکان کم ہے کہ اسے قوت سے واگزار کرایا جا سکے۔
7) جس طرح جنگ عظیم دوم اس لیے لڑی گئی تھی کہ جنگ عظیم اول میں وجہ نزاع بنیادی سیاسی معاشی مسائل حل نہیں ہو سکے تھے۔ اسی طرح جن قوتوں نے ایران پر جنگ مسلط کی تھی ان کا تو کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا، الٹا آبنائے ہرمز بھی ہاتھ سے جاتی رہی۔ ابھی عبور دریائے خوں کا سفر تمام نہیں ہوا، اس لیے موجودہ جنگ بندی سے کوئی زیادہ توقعات نہیں لگائی جاسکتیں۔

