Eman Aur Ilm
ایمان اور علم

ہو سکتا ہے کہ کسی کے لیے میرا نام لے کر بات کرنا کسر شان کا معاملہ ہو، لیکن متکلم عظیم جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد مغل کا نام لینا میں ویسے ہی سعادت خیال کرتا ہوں۔ ان کا ارشاد ہے کہ میں تضلیل، تحقیر اور تضحیک کرتا ہوں۔ تضلیل سے تو میں بالکل بری ہوں۔ یہ ان کی غلط فہمی ہے اور اگر کہنے کی اجازت ہو تو الزام ہے جو اصلاً ان کی آموختہ طبعی سے پیدا ہوا ہے۔ میں طنز ضرور کرتا ہوں لیکن وہ تضحیک یا تحقیر کے لیے نہیں ہوتی، ہمیشہ جِلا آور ہوتی ہے، یعنی کبھی کبھی میں طنزِ جالی میں طبع آزمائی کر لیتا ہوں، کیونکہ مشق سخن کا ہنر نہیں آتا۔
پروفیسر صاحب مابعد الطبیعاتی متون کے افراطِ آموختہ کی پینَک میں ایسے ارشادات فرما جاتے ہیں کہ بات کرنی پڑتی ہے۔ کچھ دن قبل، مولانا عمار خان ناصر صاحب نے "ایمان اور انسانی شعور کا باہمی تعلق" کے زیر عنوان ایک تحریر میں چند ایک سوالات اٹھائے تھے جسے پروفیسر صاحب نے "پرابلمیٹک" قرار دیتے ہوئے تبصرہ کیا اور کہا کہ "ایمان علم ہی کا نام ہے"۔ اس پر سانول عباسی صاحب نے استفسار کیا کہ "حضور کیا واقعی ایمان علم کا نام ہے؟" اس پر پروفیسر صاحب نے جواب دیا کہ "تو اور کیا جہل کا نام ہے یا تقلید کا؟"
اپنی برہمی کو ذرا مفصل کرتے ہوئے انھوں نے ایک مختصر تحریر بھی تحریر فرمائی جس میں لکھتے ہیں کہ "بدقسمتی سے ہمارے یہاں فاسد خیالات اتنے عام ہو گئے ہیں کہ جب کہا جائے کہ ایمان علم ہی کو کہتے ہیں تو لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ کیا ایمان بھی واقعی علم ہے؟ ارے بھائی ایمان اگر علم نہیں ہے تو کیا جہل ہے اور یا تقلید (imitation or blind following) ہے؟ بعض لوگوں نے علم، مابعد الطبعیات اور ایمان کے الگ الگ قلعے تعمیر کئے ہوئے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَالُمَلَائِكَةُ وَأُولُو الُعِلُمِ (اللہ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی)"۔
سانول صاحب کے ایمان کے علم ہونے کے سوال پر الزامی جواب دینا کہ کیا وہ جہل ہے؟ خود ایمان اور علم سے مطلق ناواقفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہم پروفیسر صاحب کے موقف کو مان لیتے ہیں کہ:
"ایمان علم ہے"۔
اور اس پر عرض کرتے ہیں کہ: "فزکس علم ہے"۔
تو وہ کیا فرمائیں گے؟ اب یا تو ایک ہی اصول سے دونوں justify ہوں گے یا دونوں نہیں ہوں گے یا دونوں کے لیے الگ الگ اصول وضع کرنے ہوں گے۔ یعنی کوئی ایسا اصول اور دلیل نہیں لائی جا سکتی کہ جس سے دونوں کا ایک ہی اصول پر مطلق "علم" ہونا ثابت ہو جائے۔ یہاں سوال علم اور جہالت کے موازنے پر نہیں ہے، بلکہ ماہیت علم پر ہو رہا ہے اور پروفیسر صاحب اتنی سادہ بات کو بھی نہیں سمجھتے۔
پروفیسر صاحب کا حال تو یہ ہے کہ ان کے نزدیک علم کے مابینی امتیازات کا ذکر بھی "فاسد خیالات" میں آتا ہے کیونکہ وہ (سائنسی) علم، (اٹکل آرا) مابعدالطبیعات اور (ہدایتی) ایمان کو ایک ہی سطح پر رکھ کر دیکھتے ہیں اور ان میں بھی ادراکِ امتیازات کی استعداد نہیں رکھتے۔ پروفیسر صاحب نے کلاسیکل علم الکلام کے ہر موقف کو نہ صرف غلط سمجھا ہے بلکہ مغربی علوم کی تفہیم بھی درست نہیں۔ بندہ پروفیسر ہو اور آموختہ میں پھنس جائے تو یہی کچھ باقی رہ جاتا ہے کیونکہ عموماً پروفیسر حضرات عقل کی خود آگاہ فعلیت (reflexive activity) سے بالکل ہی محروم ہوتے ہیں۔
عصر حاضر میں قانون یا فقہ کی بات کرنا اور پاور کر زیربحث نہ لانا اور علم کی بات کرنا اور عقل کی ماہیت و فعلیت کو موضوع نہ بنانا حد درجے کی علمی اور فکری بددیانتی ہے۔ ان کا دنیا اور معاشرے کا تصور بھی کلاس روم کے سانچے میں ڈھلا ہوتا ہے جہاں ان کا "علم" ایک طرف ہی بہتا ہے۔ تعلیم کا بہاؤ یک طرفہ ہوتا ہے جبکہ عقلی علم تو مکالماتی اور جدلیاتی ہی ہو سکتا ہے۔ پروفیسر صاحب ایسی متنی "عقل" کے علمبردار ہیں جو جہالت کو عام کرتی ہے۔ وہ علم میں اب اتنی ترقی کر چکے ہیں کہ فزیکل اور میٹا فزیکل کی تقسیم کو بھی غیرضروری قرار دیتے ہیں۔ وہ بنیادیں جن پر انسانوں کے مابین علمی مکالمہ ممکن ہوتا ہے وہ ان کو ڈھانے میں صبح و شام مصروف رہتے ہیں۔
انھیں آج کل علمی گفتگو کرنے میں کافی دشواری ہو رہی ہے۔ ان کے آموختہ کی تخمیر کے عمل میں کچھ خرابی کی وجہ سے دخانات کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ چند دردمند اہل فکرنے اس بابت مجھ سے رابطہ کیا ہے، لیکن میں نے انھیں مولانا عمار خان ناصر صاحب سے رابطہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔

