Thursday, 30 June 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Mahmood Fiaz/
  4. Pakistani Qaum Par Likha Aik Noha

Pakistani Qaum Par Likha Aik Noha

جو قوم اپنے اعضاء پر شرطیں لگانے لگے اس کا ایک عمران کیا ہزار عمران بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ عمران خان پر حالیہ مایوسی اور اس کی ٹیم کی نااہلی کی داستانیں اپنی جگہ، اس ملک کے مسائل کیا دنوں کی پیداوار ہیں کہ منٹوں میں حل کر لیے جائیں؟ اور اس پر یہ کہ ہم تماشا دیکھنے والی قوم ہیں۔ عرصے سے دیکھ اور لکھ رہا ہوں کہ ہم نے عمران خان کو تماشا بنا رکھا ہے۔

ہنستے ہیں، ٹھٹھے اڑاتے ہیں ایسے، جیسے وہ ہماری نہیں اپنی نسلوں کی لڑائی لڑ رہا ہو اور جو درحقیقت اپنی نسلوں کے لیے آپ کی نسلوں کا مستقبل عالمی ساہوکاروں کے پاس گروی رکھ چکے، ان کے حقوق کے لیے عدالتوں کے کچھ جج اور میڈیا کے تقریباً سبھی صحافی دن رات بین ڈال رہے ہیں۔ گروی رکھ چکے ہیں جناب گروی۔ اسحٰق ڈار جو اب پھر انٹرنیٹ پر ہمیں اکانومی پڑھا رہا ہے، اور سابقہ ادوار کی تمام حکومتوں نے ملک کو ایسے بیچا ہے کہ آپ اور میں سوچ کر بھی نہ سوچ سکیں۔

کھانے اور لوٹنے کے جتنے طریقے ہو سکتے تھے، یہ لوگ آزما چکے ہیں۔ سب کچھ بیچتے بیچتے پچھلی حکومت تک نوبت یہ آ گئی تھی کہ ایک کے ساتھ ایک فری دے رہے تھے۔ سڑکیں بنائی تو وہ گروی رکھ دیں، اور تو اور ہمارے نوادرات تک گروی رکھے جا چکے ہیں۔ اور یہ گروی وہ نہیں کہ خادم رضوی کی طرح ہم کہہ سکیں، چلو نٹھو (بھاگو) ہم نہیں دیتے۔ عالمی ساہوکار ایک لمحے میں آپکی گردن دبوچ لیں گے۔

جو اچھل اچھل کر کہہ رہے ہیں ان سے اکانومی سنبھالی نہیں جا رہی، وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے "اکانومی بم" کہاں کہاں چھپائے ہیں؟ اور جو اب بھی دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم اس ملک کی اکانومی چلا سکتے ہیں، وہ اس بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ وہ جانتے ہیں ابھی اس ملک میں کون کون سی چیز گروی رکھ کر قرضہ تیس سے ساٹھ ارب ڈالر کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ جن کی اسٹریٹیجی یہ ہو کہ دیہاڑی لگا کر بھاگنا ہے وہ کچھ بھی بیچ سکتے ہیں۔

اس قوم کے عام آدمی کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ کرائے کا مکان ہے تو جاتے ہوئے بلب بھی اتار کر لے جاؤ، یا جو ٹوٹتا پھوٹتا ہے پرواہ نہ کرو، کونسا تمہارا اپنا نقصان ہے؟ وہاں اس قوم کی اس "کریم" کا کیا حال ہو گا، جنہوں نے حرامخوری میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہو؟ دنیا جہاں کے طریقوں سے وہ مال بنانا، بنا کر لانچوں اور ایانوں کے ذریعے باہر بھیجنا، اور بھیج کر سرے اور ایون فیلڈ خریدنا جانتے ہوں، اور اس کے بعد بھی تحقیقات کے بعد اپنے تین تین وزیراعظم قربان کر کے بچ جاتے ہوں۔

ایسے میں ایک بندہ جو اگر چاہے تو ایک فلائیٹ پکڑے اور باہر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سکھ کی زندگی گزارے، وہ اگر اس ملک کے عوام کا مستقبل بدلنے کی بات کرتا ہے تو ہم نہ صرف اس کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں، بلکہ چھیڑ بنا لیتے ہیں، بدل کے وخا، بدل کے وخا؟ کیونکہ ہم خود تو بدلنا نہیں چاہتے۔

باقی کے دونوں کا احوال آپ جانتے ہیں۔ جو آج اسمبلی میں کاغذ لہرا لہرا کر اور ہاتھ نچا نچا کر عمران خان سے سوال کرتے ہیں، اس کو وعدے پورے نہ کرنے کے طعنے صرف دس مہینے میں دیتے ہیں، وہ خود قوم کو بتا چکے ہیں کہ جوش خطابت اس قوم کو احمق بنانے کا نام ہے، اور وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔ عمران خان سے ایک ایک رسید نکلوا کر تصدیق کرنے والوں نے اپنی باری کہہ دیا ہے کہ "حساب کتاب کی باتیں چھوڑو، آگے چلو"۔

پھر بھی یہ قوم عمران خان کا مذاق اڑائے تو کاتب تقدیر باقی ساری قوموں کو اس قوم کی جگ ہنسائی پر نہ لگائے تو کیا لکھے؟

عمران خان نے حکومت سنبھالی، تو ہم نے کیا کیا؟

اوورسیز سے اس کی امیدیں ٹوٹیں۔

بیورو کریسی نے دم سادھ لیا، جہاں موقع ملا چھرا گھونپنے لگے۔

کاروباری نے سرمایہ روک لیا۔

عدلیہ میں بیٹھی کالی بھیڑوں نے اپنا نمک حلال کرنا شروع کر دیا۔

مافیا، جو ہمارے ہی چھوٹے بڑے کاروباریوں سے بنے ہیں، نے موقع غنیمت جان کر بیڈ گورننس کا فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔

ڈالر بڑھا، جس کا تعلق امپورٹڈ اشیا سے ہے، ہم نے لوکل اجناس پر منافع خوری شروع کر دی۔

عمران خان کی حکومت میں ہزار خرابیاں سہی، مگر اس نے اپنی سمت تو وہی رکھی، جس کی اس نے بات کی تھی۔ اس کی ٹیم نا اہل ہو گی، مگر اس نے اپنے منشور کو جوش خطابت تو نہیں کہا، نہ ہی یہ کہا ہے کہ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔ اپنی تمام تر نا تجربہ کاری کے باوجود عمران خان آج بھی کرپشن کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہے۔ جو کہتے تھے وہ کرسی کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے، وہ اسی کرسی کو داؤ پر لگا کر بھی ان کرپٹ عناصر کو بے نقاب کرنا چاہتا ہے اور وہ کر رہا ہے۔

اکانومی درست کرنے کے لیے اس کو ہزار یو ٹرن بھی لینے پڑیں، آپ اس پر کرپشن کی بدگمانی نہیں کر سکتے۔ اس کے ہر قدم کے پیچھے ایک ہی سوچ ہے کہ یہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے۔ یہ قوم ان قرضوں کے بوجھ سے نکل آئے جو اگر مزید بڑھے تو اس قوم کا بچہ بچہ دہائیوں تک غلامی کرے گا اور عثمان بزدار جیسی احمقانہ ضد کے باوجود آپ پچھلے دس ماہ میں دسیوں ایسے اقدامات دیکھ سکتے ہیں جو عام آدمی کے لیے لانگ ٹرم سہولت کے لیے لیے گئے ہیں۔ اداروں کی تطہیر کا عمل بھی جاری ہے، اور نئے پراجیکٹس پر بھی کام ہو رہا ہے۔

یہ تینوں اقدام (کرپشن کے خلاف، اکانومی کی بڑھوتری، اور اداروں کی آزادی) اگر پھل لے آئے تو چند سالوں میں اس قوم کی حالت بدلنے لگے گی۔ مگر یہ قوم شغلیہ ہے۔ یہ اپنی ہی آنتوں پر شرطیں لگانے میں ماہر ہے۔ یہ بھانڈوں کے لطیفوں پر ووٹ دیتی ہے، اور ہنستی ہے، دیکھو دیکھو، عمران خان کامیاب ہوتا ہے یا نا کام؟ جبکہ اس قوم کو اپنے دور کی واحد آپشن نظر نہیں آ رہی کہ، کہ ایک مخلص حکمران ان سے مدد مانگ رہا ہے، ان ہی کے مستقبل کے لیے۔

سب مل جائیں، اور کوشش کریں اور اپنا اپنا حصہ اخلاص کے ساتھ ڈالیں، تو شائد ان کو اپنی اولادوں کا سنہرا مستقبل امریکا، کینیڈا کی بجائے پاکستان میں ہی مل جائے۔

Check Also

Hazrat Ayesha (1)

By Saleem Zaman