Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Mahmood Fiaz

Haji Sahib Vaccinevi

مجھ سے مسلمان قوم کے قیامت تک باقی رہنے کی کوئی ایک وجہ پوچھی جائے تو بغیر سوچے میرا جواب ہو گا، مسلمانوں کا جذبہ تولید۔ جس کو عربوں نے کثرت ازدواج سے، ہندوستان کے مسلمانوں نے کثرت اولاد سے تاریخ کے صفحات پر امر کر دیا ہے۔ پچھلے دنوں کسی نے امریکا میں مسلمانوں کی بڑھتی تعداد پر فخر کا اظہار کیا کہ وہاں کے لوگ تیزی سے مسلمان ہو رہے ہیں۔

ریسرچ پر پتہ چلا سالانہ پورے امریکا میں ایک لاکھ سے بھی کم لوگ تبلیغ سے مسلمان ہو رہے ہیں، جبکہ پیدائشی مسلمانوں والا طریقہ اب بھی ہر سال دنیا میں پورا نیویارک بھر کے مسلمان (پیدا) کر رہا ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے سنتا آیا ہوں کہ پولیو ویکسین سے دشمن ہماری تعداد کم کرنا چاہتا ہے۔ آج تین نسلیں اپنے سامنے پیدا ہوتے اور کھیت کھلیانوں اور ویرانوں میں انسانوں کے جنگل اگتے دیکھ کر مجھے تو پولیو ویکسین کا عمل الٹ لگنے لگا ہے۔

ویسے پولیو ویکسین ہو یا کورونا ویکسین، مسلمانوں کے جذبہ تولید کو کسی دوا سے روکنا ممکن نہیں۔ دعا سے تو ویسے بھی ہم صرف بڑھوتری کا کام لیتے ہیں۔ البتہ مولوی و مفتی حضرات مسلمانوں کی اس کمزوری کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں، جو بات مسلمان کسی دلیل سے نہیں مانتا، وہ نکاح منسوخ ہونے کے خطرے پر مان جاتا ہے۔

کورونا ویکسین کی حالیہ مہم میں بھی ہمارے ستر سالہ "جوان" بھی اس وجہ سے ویکسین لگوانے نہیں جا رہے کہ اس کے بعد، افواہوں کے مطابق، وہ امت میں اضافے کے فرائض منصبی سے معذور ہو سکتے ہیں۔ ان کے جذبے سے واقعی لگتا ہے کہ دیوار پر لکھا سچ واقعی سچ ہے کہ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ حالانکہ میرا اندازہ ہے کہ مرد کبھی بور نہیں ہوتا۔

میرے ایک دوست کے مطابق مسلمان امت مسلمہ کی تعداد میں اضافے سے زیادہ طریقہ کار میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں اپنے دوست سے اتفاق نہیں کرتا۔ طریقہ کار میں ریسرچ اور جدت انگریز کی مرہون منت ہے، مسلمان بیچارا تو محض تعدد ازدواج سے سمجھتا ہے کہ ایک لڈو سے چار لڈو زیادہ میٹھے ہوتے ہوں گے۔ جبکہ انگریز نے ایک ہی زوج سے متعدد سے آگے کا کام لے رکھا ہے۔

میرا دوست میری دلیل نہ مانے تو میں اسے کسی پیٹو کو کھاتے دیکھنے کا مشورہ دیتا ہوں، جو مرغی پر مرغی پیٹ میں اتار رہا ہوتا ہے اور پھر کسی شریف آدمی کو بوفے ڈنر کے ذائقے انجوائے کرتے دیکھنے کا کہتا ہوں۔ سمجھدار آدمی اتنے اشارے پر سمجھ ہی جاتا ہے۔ میں ویکسین لگوا کر گھر پہنچا تو ایک دوست کا فون آیا، حال احوال پوچھ کر رازدارانہ کہنے لگا، ویسے وہ والی بات تو افواہ ہی ہے نا؟

میں نے پوچھا کونسی بات، امت کی تعداد والی؟ میں نے کہا۔ اب اس کا پتہ کیسے چلے؟ اس بیگم سے تعداد پوری ہو چکی ہے (بچے دو ہی اچھے) اور دوسری بیگم کے لیے کورونا ہی گھر سے نکلنے نہیں دے رہا، کہ کوئی بندوبست کریں۔ اب ویکسین کے بعد باہر آیا جایا کریں گے۔ دوست کی مایوسی بھری آواز آئی، ہن کیہ فیدہ؟ لگتا ہے اس نے افواہوں کو زیادہ سچ سمجھ لیا ہے۔

ویکسین کی سلفیوں سے تنگ آ کر یار لوگ کہہ رہے ہیں کہ ویکسین لگوانے کی جگہ تبدیل کر دی جائے۔ لگتا ہے جو ایسا کہہ رہے ہیں انہوں نے ویکسین لگوائی ہی نہیں۔ میں نے لگوائی ہے۔ پانچواں دن ہے، بازو کی سوجن اور درد باقی ہے، اور اس کروٹ سویا بھی نہیں جا رہا۔ اب بدلی ہوئی جگہ کا حساب آپ خود لگا لیں، یہ نہ ہو آپ تشریف رکھنے کے لائق بھی نہ رہیں، بچے پیدا کرنا تو دور کی بات ہے۔

Check Also

Magarmach Admi

By Azhar Hussain Bhatti