Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Mahmood Fiaz

Gorastan Ki Yaadein (9)

تم کیوں نہیں پیتے؟ کیرن نے میرے ہاتھ میں کوک کا گلاس دیکھ کر پوچھا۔ ہم یونیورسٹی ہاسٹل کے کچن میں کھانے کے بعد باتیں کر رہے تھے۔ باقی دو یونانی لڑکیاں، اور کیرن جو اسپین سے انگلینڈ پڑھنے آئی تھی، وائن کی چسکیاں لے رہی تھیں۔ اس لیے کے مسلمان شراب نہیں پیتے، رودوپی نے کیرن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ مگر مخمود (اسپیلنگ نہیں اسکا تلفظ ہی ایسا تھا) تو اتنا مذہبی نہیں ہے۔

یہ کیوں نہیں پیتا، کیرن نے اپنے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے پھر مجھے دیکھا۔ ہاں میں مذہبی تو نہیں ہوں میں نے کہا، مگر مجھے اپنے حواس میں رہنا پسند ہے۔ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ لو یہ کیا بات ہوئی بھلا، وائن سے کونسا نشہ ہوتا ہے۔ بس ایک دو گلاس ہی تو پیتے ہیں ہم دن میں کیرن کی بات میں وزن تھا۔ چونکہ مغرب میں ایک دوسرے کے زاتی خیالات (خاص طور پر مذہب و سیاست کے حوالے سے) پر زیادہ بات نہیں کی جاتی۔

اس لیے لڑکیوں نے مجھے بخش دیا۔ اس گفتگو کے چند ہفتے بعد ایک رات جب میں زرا دیر سے ہاسٹل واپس آیا تو کیرنؔ کو شدید نشے کی حالت میں اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے دیکھ کر رک گیا۔ اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور وہ چابی سے اپنا کمرہ کھولنے میں ناکام نظر آ رہی تھی، میں نے آگے بڑھ کر مدد کی آفر کی، اس نے میری طرف چابی بڑھائی تو خود میرے کاندھے سے جھول گئی۔

بمشکل، ایک ہاتھ سے اسکو سنبھالتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے چابی لگائی اور کمرے کا دروازہ کھول کر کیرن کو سہارا دے کر اسکے بیڈ کی طرف لے کر چلا کہ کیرن کو ابکائی آئی اور وہ نشے کے باوجود کمرے میں موجود باتھ روم کے فرش تک پہنچنے میں کامیاب ہو پائی۔ ابکائی کے بعد میں نے اسکو بیڈ تک پہنچنے میں مدد کی اور دروازہ بند کر کے اپنے کمرے میں آگیا۔

اگلے روز کیرن کو کچن میں دیکھا تو وہ مسکرا رہی تھی، رات جو تم نے میری مدد کی اس کے لیے شکریہ، میں نے ہنستے ہوئے کہا، تمہارا شکریہ، اس روز تم نے ایک سوال کیا تھا، مگر میں کوئی پراپر جواب نہیں دے سکا۔ کل رات اس سوال کا جواب تم نے خود ہی دے دیا۔ کیرن نے کہا، کونسا سوال اور کونسا جواب میں نے کہا، تم نے پوچھا تھا کہ تم شراب کیوں نہیں پیتے، اور میں نے بتایا تھا کہ تاکہ میں حواس میں رہ سکوں۔

کل رات تمہیں نشے میں بے حال دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ شراب میں اپنا آپ کھو دینا کس قدر مشکل صورتحال ہوتی ہے۔ آپ کا جسم، آپ کا دماغ آپ کے اپنے قبضے ہی سے نکل جاتا ہے اور آپ دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ کیرن نے میرے جواب کی فلاسفی میں جائے بغیر، کسی اور انداز میں مجھے دیکھتے ہوئے ہنسی اچھالی، اور کہا، اچھا تو میں تمہارے رحم و کرم پر تھی۔

تو تم نے کونسا فائدہ اٹھا لیا، ہی ہی ہی۔ میں نے ہنسی کا جواب ہنسی سے دیتے ہوئے کہا، اس لیے کہ میں نے شراب نہیں پی ہوئی تھی۔ بی کاز آئی وازنٹ ڈرنک۔

Check Also

Charcoal Drawing

By Sana Shabir