Tuesday, 17 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. MA Tabassum
  4. Nigheban Card, Ghareeb Awam Ke Liye Maryam Nawaz Ka Tohfa

Nigheban Card, Ghareeb Awam Ke Liye Maryam Nawaz Ka Tohfa

نگہبان کارڈ، غریب عوام کے لئے مریم نواز کا تحفہ

پنجاب میں رمضان کی آمد سے کچھ ہفتے پہلے جب یہ خبر سامنے آئی کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے "نگہبان کارڈ" اور رمضان ریلیف پیکیج کے ذریعے 42 لاکھ مستحق خاندانوں کو دس ہزار روپے نقد امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے تو غریب گھرانوں میں ایک غیر مرئی سی آسانی کی لہر دوڑ گئی۔ مہنگائی کے اس کڑے موسم میں جب آٹے، گھی، دال، سبزی اور ادویات تک کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں، ایسے میں ریاست کا کمزور طبقے کی طرف دستِ شفقت بڑھانا یقیناً قابلِ ستائش امر ہے۔

"نگہبان کارڈ" بظاہر ایک کارڈ ہے، مگر درحقیقت یہ اُن کروڑوں دلوں کی ترجمانی کرتا ہے جو برسوں سے کسی ایسے نظام کے منتظر تھے جو انہیں صرف وقتی راشن تھیلا نہیں، بلکہ باوقار اور منظم ریاستی سرپرستی کا احساس دے۔ پنجاب حکومت کے اعلان کے مطابق اس کارڈ کے ذریعے نہ صرف رمضان میں دس ہزار روپے کی خطیر نقد امداد دی جائے گی بلکہ اسے ایک مستقل فلاحی میکانزم کی شکل دینے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس کے تحت آئندہ بھی بنیادی ضروریات اور نقد معاونت اسی منظم چینل سے پہنچائی جائے گی۔

یہاں یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان میں ماضی کے بیشتر فلاحی منصوبے "موسمی سیاست" کا شکار رہے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہو یا احساس پروگرام، انہوں نے غریبوں کی فوری ضرورت تو کسی حد تک پوری کی، مگر انہیں مستقل معاشی خود کفالت کی شاہراہ پر ڈالنے میں مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکے۔ مریم نواز شریف جب "نگہبان کارڈ" کو ایک وسیع تر سماجی تحفظ کے فریم ورک کے طور پر پیش کرتی ہیں تو وہ دراصل اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں کہ اب خیرات نہیں، حق اور عزت کے ساتھ مدد ملے۔

مریم نواز کی سیاست کا ایک نمایاں زاویہ ان کا عوامی رجحان اور فلاحی بیانیہ ہے۔ بطور وزیرِ اعلیٰ، انہوں نے مختصر مدت میں معذور افراد کے لئے "ہمّت کارڈ"، خواتین کے لئے مختلف باوقار سکیمیں، اجتماعی شادیوں اور سوشل ویلفیئر کے کئی نئے ماڈل متعارف کروائے، جن میں مالی امداد کے ساتھ ساتھ سماجی شمولیت اور عزتِ نفس کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا۔ "نگہبان کارڈ" اسی سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے، جس کے ذریعے رمضان کے تقدس کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے اور عوامی ریلیف کو بھی۔

رمضان نگہبان پیکیج کے تحت مستحق گھرانوں کو نہ صرف نقد رقم دی جائے گی، بلکہ کارڈ کے ذریعے بنیادی اشیائے خورونوش کی خریداری، اے ٹی ایم اور برانچ لیس بینکنگ کے ذریعے رقوم کی فراہمی اور مخصوص دکانداروں کے نیٹ ورک کا قیام بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ بینک آف پنجاب اور ون لنک کے پلیٹ فارم کو بروئے کار لاتے ہوئے کارڈ ہولڈرز کے لئے رقم نکالنے اور خریداری کا عمل زیادہ سے زیادہ سہل بنایا گیا ہے، تاکہ مستحقین کو لائنوں اور دفتر در دفتر خوار ہونے کی اذیت سے بچایا جا سکے۔

یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ نگہبان کارڈ کی تقسیم نادرا کے ڈیٹا، ضلعی انتظامیہ اور ڈیجیٹل ویریفیکیشن کے نظام کے تحت کی جارہی ہے، تاکہ جعلی اندراجات، سیاسی سفارش اور دفتری بدعنوانی کے دروازے کم سے کم کھلیں۔ اگر واقعی شفافیت اس سطح پر برقرار رکھی گئی جس کا عندیہ سرکاری سطح پر دیا جا رہا ہے تو یہ منصوبہ مستقبل میں پنجاب کے سماجی تحفظ کے نقشے کو یکسر بدل سکتا ہے۔ تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

سوال یہ ہے کہ کیا نگہبان کارڈ واقعی ایک مستقل سماجی ریاست کی مضبوط اینٹ ثابت ہوگا یا محض رمضان کی نسبت سے ایک وقتی ریلیف اسکیم بن کر رہ جائے گا؟ اگر دس ہزار روپے کی یہ امداد ایک مربوط پالیسی کا حصہ بنے، جس کے ساتھ تعلیم، صحت، روزگار اور ہنر مندی کے مواقع جوڑے جائیں، تو یہ کارڈ غریب گھرانوں کو محض سہارا نہیں بلکہ خود کفالت کی سیڑھی دے سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ محض ایک نئے نام کے ساتھ نقد امداد کے روایتی فارمولے پر قائم رہا تو پھر اس کے اثرات وقتی تو ہوں گے، انقلابی نہیں۔

سیاسی سطح پر دیکھا جائے تو یہ کارڈ مریم نواز کی قیادت کو ایک فلاحی اور نرم دل حکمران کے طور پر پیش کرتا ہے، جو صرف ترقیاتی منصوبوں یا انفراسٹرکچر کی سیاست نہیں بلکہ "ریاستِ نگہبان" کے تصور کو بھی عملاً پروان چڑھانا چاہتی ہیں۔ ان کے حامی اس اقدام کو "نئے سماجی عمرانی معاہدے" کی طرف قدم قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے "فلاحی پاپولزم" سے تعبیر کرتے ہیں۔ مگر عام آدمی کی نظر میں تعریف اور تنقید سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس کے چولہے میں آگ جلتی ہے یا نہیں، اس کے بچوں کی فیس اور دوائی کا بندوبست ہوتا ہے یا نہیں۔

پنجاب کے دور دراز گاؤں میں رہنے والا مزدور، جنوبی پنجاب کی کچی آبادی میں رہنے والی بیوہ، یا شہر کے نواح میں ریڑی لگا کر گھر چلانے والا محنت کش اگر رمضان میں اس کارڈ کے ذریعے باوقار طریقے سے راشن اور نقد امداد حاصل کر سکے تو یہی اس منصوبے کی اصل کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر فیلڈ افسران کی سستی، بیوروکریسی کی روایتی رکاوٹیں اور بیچ کے "ٹھیکیدار" اس نظام پر قابض ہو گئے تو"نگہبان" کا یہ کارڈ خود نگہبانی کا محتاج ہو جائے گا۔

دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں "ویلفیئر اسٹیٹ" کے تصور کو اسی وقت قبولیت ملی جب ریاست نے کمزور طبقوں کی مدد کو خیرات نہیں بلکہ حق تسلیم کیا اور اس حق کو سیاسی نعرے کے بجائے قانونی و ادارہ جاتی ڈھانچے میں پرو دیا۔ اگر مریم نواز پنجاب میں "نگہبان کارڈ" سمیت اپنے دیگر سماجی پروگراموں کو اسی سمت لے جانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ محض ایک صوبائی اقدام نہیں رہے گا بلکہ پورے پاکستان کے لئے ایک نئے سماجی ماڈل کا نقط آغاز بن سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ "نگہبان کارڈ" اپنے اندر دو امکانات لئے ہوئے ہے: ایک، وقتی ریلیف کا کارڈ، جو رمضان گزرنے کے ساتھ ہی سیاسی نعروں کی گرد میں گم ہو جائے، دوسرا، ایک ایسے مستقل فلاحی نظام کی بنیاد، جو غریب شہری کو یہ احساس دے کہ ریاست صرف حاکم نہیں، اس کی حقیقی نگہبان بھی ہے۔ فیصلہ وقت اور عملداری کرے گی، مگر فی الحال بھوک سے نڈھال گھرانوں کے لئے یہ کارڈ واقعی ایک قیمتی تحفہ محسوس ہو رہا ہے بشرطیکہ یہ تحفہ کاغذ سے نکل کر عوام کی جھونپڑیوں تک پہنچ سکے۔

Check Also

Wo Waqia Jo Kitab Mein Nahi

By Javed Chaudhry