Saturday, 28 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. MA Tabassum
  4. Atai Ya Atai Aur Sufia Ya Soofi?

Atai Ya Atai Aur Sufia Ya Soofi?

عطائی یا اتائی اور صوفیہ یا صوفی؟

وہ ایک بوڑھا خطاط جس کا نام ایس نازہے۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑا جرم "قتل" نہیں ہے، بلکہ کسی لفظ کے ہجے بگاڑ دینا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ جب آپ کسی لفظ کی شکل بدل دیتے ہیں، تو آپ اصل میں اس کے پیچھے چھپی ہزار سالہ تہذیب کا چہرہ مسخ کر دیتے ہیں۔ ایس ناز اکثر کہا کرتے، بیٹا! اگر تم نے "خالق" کے نقطے بدل دیے تو تم مخلوق کی توہین کرو گے اور اگر تم نے "محبت" کا میم چھوٹا کر دیا تو تم نفرت کے بیج بو دو گے۔ ہمیں تب ان کی بات سمجھ نہیں آئی، مگر وقت کے تھپیڑوں نے ثابت کر دیا کہ لفظ صرف آوازیں نہیں ہوتے، یہ حقیقت کی بنیاد ہوتے ہیں۔

گزشتہ دنوں نشتر ٹاؤن پریس کلب میں ایک دلچسپ مگر سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ ایک نوجوان صحافی دوست بڑی تندہی سے ایک خبر تیار کر رہا تھا۔ اس نے جوشِ تحریر میں ایک بستی کا نام "صوفیہ آباد" لکھ دیا۔ پاس ہی ہمارے سینئر، منجھے ہوئے صحافی اور لفظوں کے نبض شناس عبدالستار عاجز صاحب تشریف فرما تھے۔ ان کی عقابی نظریں خبر پر پڑیں تو وہ بے اختیار مسکرا دیے۔ انہوں نے کمالِ شفقت سے نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ایک ایسی بات کہی جو آج کے دور میں نایاب ہے۔ عاجز صاحب نے فرمایا، برخوردار! یہ صوفیہ آباد نہیں، صوفی آباد ہے۔ ایک "ہ" کا اضافہ کرکے تم نے اس بستی کا پورا شجرہ نسب ہی بدل دیا ہے۔

یہ محض ایک لفظ کی درستی نہیں تھی، یہ ایک پوری نسل کی تربیت تھی۔ عبدالستار عاجز صاحب جیسے لوگ اب اس پیشے میں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ وہ جانتے ہیں کہ "صوفیہ" (Sophia) یونانی لفظ ہے جس کا مطلب "دانش" یا "حکمت" ہے، جبکہ "صوفی" وہ درویش منش انسان ہے جو تصوف کی راہ کا راہی ہو۔ جب ہم نادانستگی میں صوفی کو صوفیہ بنا دیتے ہیں، تو ہم ایک مقامی روایت کو اٹھا کر اجنبی فلسفے کی گود میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ وہ باریک بینی ہے جو صرف تجربے کی بھٹی میں تپ کر آتی ہے۔

مگر جنابِ والا! المیہ صرف "صوفی اور صوفیہ" تک محدود نہیں۔ ہمارا اصل رونا تو "عطائی" اور"اتائی" کا ہے۔ آپ کبھی پاکستان کے کسی بھی شہر کے داخلی راستے پر کھڑے ہو جائیں، آپ کو دیواروں پر "عطائی ڈاکٹروں سے بچیں" کے اشتہارات نظر آئیں گے۔ یہاں سے ہماری جہالت کا وہ سفر شروع ہوتا ہے جس نے ہمیں آج اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔ اردو دان طبقہ برسوں سے اس بحث میں الجھا ہے کہ یہ لفظ عین سے ہے یا الف سے؟

حقیقت یہ ہے کہ "عطائی" (عین کے ساتھ) وہ ہوتا ہے جسے قدرت کی طرف سے کوئی ہنر "عطا" کیا گیا ہو۔ یہ ایک مثبت لفظ ہے۔ لیکن ہم نے اسے ایک ایسے شخص کے لیے وقف کر دیا ہے جو انسانی زندگیوں سے کھیلتا ہے۔ مستند لغت کے مطابق وہ شخص جو کسی فن یا ہنر کو باقاعدہ سیکھے بغیر، محض سرسری مطالعے یا ادھورے تجربے کی بنیاد پر ماہر بن بیٹھے، اسے"اَتائی" (الف کے ساتھ) کہتے ہیں۔ یہ لفظ ہندی الاصل ہے اور اس کا مفہوم "اناڑی" یا "خود ساختہ ماہر" ہے۔

آج ہمارا پورا معاشرہ "اتائی دانش" کی لپیٹ میں ہے۔ آپ سوشل میڈیا کھولیں، آپ کو وہاں ہزاروں ایسے اتائی ملیں گے جو معیشت، سیاست، مذہب اور طب پر اس اعتماد سے گفتگو کر رہے ہوتے ہیں کہ ارسطو اور افلاطون بھی قبروں میں تلملا اٹھتے ہوں گے۔ یہ اتائی دانشور ایک منٹ میں کینسر کا علاج "ادرک کے قہوے" سے بتا دیتے ہیں اور دوسرے ہی منٹ میں آئی ایم ایف کے قرضوں کا حل"مرغی پال اسکیم" میں ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ انہیں "عطائی اور اتائی" کا فرق معلوم نہیں، مگر یہ قوم کی تقدیر کے فیصلے سنانے بیٹھ جاتے ہیں۔

عبدالستار عاجز صاحب نے جب اس نوجوان کی اصلاح کی، تو دراصل وہ ہمیں ایک بڑے خطرے سے آگاہ کر رہے تھے۔ وہ خطرہ ہے "سطحیت" کا۔ ہم نے گہرائی میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے استاد کی شاگردی اختیار کرنا عیب سمجھ لیا ہے۔ آج کا نوجوان سمجھتا ہے کہ گوگل (Google) اس کا سب سے بڑا استاد ہے، مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ گوگل معلومات تو دے سکتا ہے، "ادراک" نہیں دے سکتا۔ ادراک عبدالستار عاجز جیسے اساتذہ کی صحبت میں بیٹھ کر ملتا ہے۔ وہ اساتذہ جو آپ کو بتاتے ہیں کہ ایک زبر یا زیر کی غلطی سے "محرم" کیسے "مجرم" بن جاتا ہے۔

آپ کبھی غور کیجیے، ہمارے ہسپتال اتائیوں سے بھرے پڑے ہیں، ہماری کچہریاں ایسے وکیلوں سے اٹی پڑی ہیں جنہیں قانون کی ابجد معلوم نہیں اور ہمارے ٹاک شوز ایسے تجزیہ نگاروں کی آماجگاہ بن چکے ہیں جو صرف اونچی آواز کو دلیل سمجھتے ہیں۔ یہ سب "اتائی" ہیں۔ انہوں نے فن سیکھا نہیں، اسے اغوا کیا ہے اور جب کسی معاشرے میں اتائیوں کی تعداد عطائیوں (صاحبِ ہنر لوگوں) سے بڑھ جائے، تو وہاں عبدالستار عاجز اور ایس ناز جیسے لوگوں کی خاموشی ایک قومی المیہ بن جاتی ہے۔

جنابِ والا! قومیں تب نہیں مرتیں جب ان کے پاس وسائل ختم ہو جائیں، قومیں تب مرتی ہیں جب ان کے پاس "لفظ" مر جائیں۔ جب سچ اور جھوٹ، صوفی اور صوفیہ اور عطائی و اتائی کے درمیان تمیز ختم ہو جائے، تو سمجھ لیں کہ ہم نے فکری خودکشی کر لی ہے۔ ہم ایک ایسی ڈھلوان پر کھڑے ہیں جہاں ہر شخص مسیحا بنا بیٹھا ہے مگر کسی کے پاس شفا نہیں۔

آج ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی جڑوں کی طرف لوٹیں۔ ہم اپنے بچوں کو سکھائیں کہ لغت کی اہمیت کیا ہے۔ ہم انہیں بتائیں کہ عبدالستار عاجز صاحب نے جو "ہ" کی درستی کی تھی، وہ دراصل ہماری تہذیب کی درستی تھی۔ اگر ہم نے آج بھی ان "اتائیوں" کا پیچھا نہ چھوڑا، اگر ہم نے آج بھی ماہر اور اناڑی کے درمیان لکیر نہ کھینچی، تو کل تاریخ کے اوراق میں ہمارا نام بھی ایک "املا کی غلطی" کی طرح مٹا دیا جائے گا۔

یاد رکھیے! جس کے پاس "عطا" نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ "اتائی" بن کر دوسروں کی زندگیوں اور لفظوں سے کھیلتا ہے۔ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم عاجز صاحب جیسی پارسائی اور ایس ناز جیسی بصیرت اختیار کرنا چاہتے ہیں یا ان اتائیوں کی بھیڑ میں گم ہونا چاہتے ہیں جنہوں نے سچ کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔ وقت کم ہے اور سفر طویل، مگر کیا ہم تیار ہیں؟ شاید ابھی نہیں، یا شاید کبھی نہیں۔

Check Also

Online Dunya Aur Tanhai Ke Gunah

By Amir Mohammad Kalwar