Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Komal Shahzadi
  4. Wo Aurtein Jin Ki Awaz Nahi Suni Gayi

Wo Aurtein Jin Ki Awaz Nahi Suni Gayi

وہ عورتیں جن کی آواز نہیں سنی گئی

دنیا ہر سال مارچ کے مہینے میں عورت کے احترام اور اس کی جدوجہد کو یاد کرتی ہے۔ تقاریب منعقد ہوتی ہیں، مبارک باد کے پیغامات لکھے جاتے ہیں اور عورت کی عظمت کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔ مگر اس سب کے درمیان ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے۔ وہ حقیقت جو بہت سی عورتوں کی زندگی میں خوشیوں سے زیادہ درد کی صورت میں نظر آتی ہے۔ اس لیے مارچ کا مہینہ صرف جشن کا نہیں بلکہ سوچنے اور خود احتسابی کا مہینہ بھی ہونا چاہیے۔

ہمارے معاشرے میں عورت کی زندگی اکثر ایسی کہانی بن جاتی ہے جس میں آزمائشیں زیادہ اور آسانیاں کم ہوتی ہیں۔ کہیں اسے اپنی شناخت کے لیے لڑنا پڑتا ہے اور کہیں اسے اپنے بنیادی حق کے لیے بھی دلیل دینی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کی جدوجہد صرف اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ہوتی ہے۔

یہ مارچ اُن عورتوں کے نام ہے جن کے چہروں کو تیزاب سے جھلسا دیا گیا۔ وہ چہرے جو کبھی مسکراہٹ سے روشن تھے مگر کسی کی نفرت اور انا نے ان کی زندگی بدل دی۔ مگر حیرت یہ ہے کہ ان زخموں کے باوجود بہت سی عورتیں حوصلے کے ساتھ زندگی کا سفر جاری رکھتی ہیں۔ ان کا وجود ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل طاقت چہرے کی خوبصورتی میں نہیں بلکہ دل کی مضبوطی میں ہوتی ہے۔

یہ مارچ اُن عورتوں کے نام بھی ہے جن کی وراثتیں خاموشی سے کھا لی گئیں۔ بیٹی کو اکثر خاندان کی محبت کا دعویٰ تو ملتا ہے مگر حق کا حصہ نہیں۔ کاغذوں اور روایتوں کے درمیان اس کا حق کہیں گم ہو جاتا ہے۔ حالانکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عورت کو بھی وہی حق ملے جو کسی بیٹے کو ملتا ہے۔ مگر افسوس کہ بہت سی عورتیں آج بھی اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے سے ڈرتی ہیں۔

یہ مارچ اُن بیٹیوں کے نام بھی ہے جو پیدا ہوتے ہی کسی فیصلے کی نذر ہو جاتی ہیں۔ کبھی ان کی پیدائش کو طلاق کا سبب بنا دیا جاتا ہے اور کبھی ان کے وجود کو بدقسمتی کی علامت سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بیٹی کسی گھر کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی روشنی ہوتی ہے۔ مگر معاشرے کی پرانی سوچ اکثر اس روشنی کو پہچاننے میں دیر کر دیتی ہے۔

یہ مارچ اُن عورتوں کے نام بھی ہے جو مذہبی اور سماجی روایتوں کے بیچ پھنسی رہتی ہیں۔ کبھی چرچ کی روایتیں اور کبھی ملا کی تشریحات عورت کی زندگی کے گرد ایک ایسا حصار کھڑا کر دیتی ہیں جس میں اس کی آزادی اور اس کی شناخت محدود ہو جاتی ہے۔ حالانکہ کوئی بھی مذہب عورت کی عزت اور وقار کو کم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اصل مسئلہ وہ سوچ ہے جو مذہب کے نام پر عورت کے حق کو محدود کر دیتی ہے۔

اور یہ مارچ اُن عورتوں کے نام بھی ہے جن کے پاس سنانے کو بس کہانیاں ہیں۔ ایسی کہانیاں جن میں دکھ بھی ہے، صبر بھی اور امید کی ایک ہلکی سی روشنی بھی۔ یہ کہانیاں شاید کتابوں اور خبروں کا حصہ نہ بنیں مگر یہی کہانیاں معاشرے کی اصل تصویر ہوتی ہیں۔

مارچ ان تمام خواتین کے نام جن کے چہرے تیزاب سے رنگ دیے گئے، جن کی وراثتیں کھا لی گئیں، جو بیٹیاں جنتے ہی طلاق یافتہ ہوگئیں، چرچ اور ملا کی روایات میں پھنسی عورتوں کے نام اور ان تمام خواتین کے نام جن کے پاس سنانے کو بس کہانیاں ہیں۔

عورت دراصل صبر، حوصلے اور امید کا دوسرا نام ہے۔ وہ دکھ سہہ کر بھی زندگی کو آگے بڑھاتی ہے اور ٹوٹ کر بھی دوسروں کے لیے سہارا بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک مکمل دنیا ہے۔

اگر معاشرہ واقعی ترقی چاہتا ہے تو اسے عورت کو صرف مبارک باد نہیں بلکہ انصاف دینا ہوگا۔ کیونکہ جس معاشرے میں عورت محفوظ اور باوقار ہو، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں مہذب کہلا سکتا ہے۔ ہیپی ویمن ڈے۔۔ بقول اقبال

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

Happy Womens Day

Check Also

Aik Aham Sawal

By Amer Abbas