Monday, 23 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Komal Shahzadi
  4. Taleem Yafta Aurat Se Khofzada Aur Complex Ka Shikar Muashra

Taleem Yafta Aurat Se Khofzada Aur Complex Ka Shikar Muashra

تعلیم یافتہ عورت سے خوف زدہ اور کمپلیکس کا شکار معاشرہ

یہ ہمارے سماج کا ایک المیہ بھی ہے اور سچائی بھی کہ ہم ترقی، تعلیم اور شعور کی باتیں تو بڑے فخر سے کرتے ہیں، مگر جب یہی شعور ایک عورت کے وجود میں ڈھل کر ہمارے سامنے آتا ہے تو ہم اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ، باہمت عورت محض ایک فرد نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک فکر، ایک سوال اور ایک تبدیلی کی علامت ہوتی ہے اور یہی علامت اس معاشرے کے لیے خوف کا باعث بن جاتی ہے جو صدیوں سے جمود اور یکطرفہ طاقت کے نظام پر قائم ہے۔

یہ خوف دراصل عورت کی ذات سے نہیں بلکہ اس کے اندر پیدا ہونے والے شعور سے ہوتا ہے۔ جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو وہ صرف کتابی علم نہیں سیکھتی بلکہ وہ اپنے حقوق، اپنی حیثیت اور اپنی قدر کو پہچاننے لگتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتی ہے کہ زندگی کے فیصلے صرف اس پر مسلط نہیں کیے جا سکتے بلکہ اسے بھی اپنی رائے دینے اور اپنی راہ چننے کا حق حاصل ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سے معاشرے کی بے چینی شروع ہوتی ہے۔

ایسا معاشرہ جو مردانہ بالادستی کو اپنی بنیاد سمجھتا ہو، وہاں عورت کی خودمختاری ایک چیلنج بن جاتی ہے۔ باہمت عورت جب سوال اٹھاتی ہے، چاہے وہ تعلیم کے حق پر ہو، شادی کے فیصلے پر ہو یا اپنے کیریئر کے انتخاب پر، تو اسے باغی، نافرمان یا "حد سے بڑھنے والی" قرار دے دیا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ الفاظ اس معاشرے کے خوف کی ترجمانی کرتے ہیں، جو اپنی پرانی روایات کے ٹوٹنے سے ڈرتا ہے۔

ہمارے ہاں ایک اور پہلو بھی بہت گہرا ہے اور وہ ہے "عزت" کا تصور۔ عورت کو اکثر خاندان کی عزت کے ساتھ اس طرح جوڑ دیا جاتا ہے کہ اس کی ہر سانس، ہر قدم اور ہر فیصلہ اسی پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ اس کی تعلیم کو بھی اس حد تک قبول کیا جاتا ہے جہاں تک وہ خاموشی اور فرمانبرداری کے دائرے میں رہے۔ جیسے ہی وہ اس دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے، اسے روکنے کے لیے سماجی دباؤ، تنقید اور کبھی کبھار کردار کشی جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔

تعلیم یافتہ اور باہمت عورت اس نظام کو اس لیے بھی خوفزدہ کرتی ہے کیونکہ وہ صرف اپنی زندگی نہیں بدلتی بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثال بن جاتی ہے۔ وہ دوسری عورتوں کو یہ حوصلہ دیتی ہے کہ وہ بھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں، اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کریں اور اپنی شناخت خود بنائیں۔ یہی اجتماعی بیداری اس معاشرے کے لیے سب سے بڑا خطرہ محسوس ہوتی ہے جو عورت کو محدود دائرے میں رکھ کر خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔

لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے، جو امید اور روشنی سے بھرا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک تعلیم یافتہ اور باہمت عورت معاشرے کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتی ہے۔ وہ ایک باشعور ماں، ایک ذمہ دار شہری اور ایک باصلاحیت پیشہ ور کے طور پر اپنی خدمات انجام دیتی ہے۔ وہ نئی نسلوں کو صرف علم ہی نہیں دیتی بلکہ انہیں خودداری، انصاف اور برابری کا درس بھی دیتی ہے۔ ایسے افراد پر مشتمل معاشرہ ہی دراصل ترقی یافتہ اور متوازن ہوتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ذہنوں میں موجود اس غیر محسوس خوف کو پہچانیں اور اس کا تجزیہ کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت کی آزادی اور خودمختاری کسی کے لیے خطرہ نہیں بلکہ پورے سماج کے لیے ایک موقع ہے، ترقی کا، بہتری کا اور توازن کا۔ جب ہم عورت کو اس کا جائز مقام دیں گے، اس کے فیصلوں کا احترام کریں گے اور اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کریں گے، تب ہی ہم ایک حقیقی معنوں میں مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکیں گے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خوف ہمیشہ اندھیرے سے جڑا ہوتا ہے، جبکہ تعلیم اور شعور روشنی کی علامت ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ، باہمت عورت دراصل اسی روشنی کا استعارہ ہے اور روشنی سے ڈرنے کے بجائے اسے اپنانا ہی ہمارے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔

اکیسویں صدی کی باشعور عورت تعلیم یافتہ اور باشعور عورت نہ کسی کی غلام بنتی ہے اور نہ ہی کسی کے کنٹرولنگ رویّے یا ڈکٹیٹرشپ کو قبول کرتی ہے۔ وہ اپنی ذات کی پہچان رکھتی ہے، اپنی عزتِ نفس کو سمجھتی ہے اور جانتی ہے کہ رشتے برابری، احترام اور اعتماد سے قائم ہوتے ہیں، جبر، خوف یا حکم چلانے سے نہیں۔

اکیسویں صدی کی عورت وہ ہے جو یہ شعور رکھتی ہے کہ عزت لینا نہیں بلکہ دینا اور کمانا ہوتا ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہے کہ اگر اسے عزت دی جائے گی تو وہ بھی پورے وقار کے ساتھ عزت لوٹائے گی، لیکن جہاں اس کی خودداری کو مجروح کیا جائے گا وہاں وہ خاموش رہنے کے بجائے اپنے حق میں آواز بلند کرے گی۔ اس کے لیے رشتہ وہی قابلِ قبول ہے جس میں اس کی شخصیت کو تسلیم کیا جائے، نہ کہ اسے محض تابع/ روبوٹ بنانے کی کوشش کی جائے۔

یہ عورت اپنے حقوق سے بخوبی واقف ہے۔ وہ جانتی ہے کہ تعلیم، رائے، انتخاب اور خودمختاری اس کے بنیادی حقوق ہیں۔ اب وہ زمانہ گزر چکا ہے جب عورت کو بھیڑ بکری کی طرح سمجھ کر اس کے فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں دے دیے جاتے تھے۔ آج کی عورت نہ صرف اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا چاہتی ہے بلکہ ان فیصلوں کی ذمہ داری اٹھانے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔

باشعور عورت جذباتی کمزوری نہیں بلکہ فکری مضبوطی کی علامت ہے۔ وہ اپنے خاندان، اپنے پیشے اور اپنے معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرتی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ذات کو بھی نظر انداز نہیں کرتی۔ وہ قربانی دیتی ہے مگر اپنی شناخت کھو کر نہیں، بلکہ اپنی پہچان برقرار رکھتے ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسی عورت سے وہی معاشرہ یا فرد خوفزدہ ہوتا ہے جو برابری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کیونکہ باشعور عورت سوال کرتی ہے، دلیل دیتی ہے اور اندھی تقلید کے بجائے شعور کی راہ اختیار کرتی ہے۔ یہی خصوصیات اسے مضبوط بناتی ہیں اور یہی خصوصیات کمزور سوچ رکھنے والوں کے لیے چیلنج بن جاتی ہیں۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ عورت کو دبانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ آج کی عورت باشعور ہے، خوددار ہے اور اپنے مقام سے آگاہ ہے۔ اسے جتنا دبانے کی کوشش کی جائے گی، وہ اتنی ہی مضبوط ہو کر سامنے آئے گی۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسے اس کا حق دیا جائے، اس کی عزت کی جائے اور اسے ایک مکمل انسان کے طور پر قبول کیا جائے، کیونکہ ایک صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرہ اسی سوچ کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔

Check Also

Akhbar Beeni

By Amir Mohammad Kalwar