Sunday, 29 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Komal Shahzadi
  4. PHD Aur Old Ka Almiya

PHD Aur Old Ka Almiya

پی ایچ ڈی اور "اولڈ" کا المیہ

معاشرہ آج بھی عجیب زاویے سے سوچتا ہے: جب کسی نوجوان نے اپنی ماسٹرز یا پی ایچ ڈی مکمل کر لی، تو اکثر سن سنائی باتیں اور پرانے تصورات فوراً سر اٹھا لیتے ہیں۔ لوگ فرض کر لیتے ہیں کہ پی ایچ ڈی کا حامل شخص عمر میں بڑا ہوگا، یا شاید عملی زندگی سے دور، سنجیدہ اور "بوڑھا" محسوس ہوگا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

چھبیس سال کی عمر میں بھی نوجوان آج اپنی ڈگری مکمل کرنے کا فن رکھتے ہیں اور علم کی دنیا میں قدم رکھتے ہی نئے افق تلاش کر لیتے ہیں۔ وہ تحقیق، تجزیہ اور تخلیق میں اتنی ہی توانائی رکھتے ہیں جتنی کوئی کم عمر یا تجربہ کار شخص۔ مگر سماجی کلیشے اور سن سنائی کہانیاں انہیں غیر حقیقت پسندانہ تصورات کی زنجیروں میں باندھ دیتے ہیں۔

یہ سوچ زیادہ تر کم پڑھے یا محدود تعلیمی پس منظر والے طبقے میں پائی جاتی ہے، جو ذاتی مشاہدے کی بجائے افواہوں اور پرانی روایات پر اعتماد کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان علمی ہستیوں کی صلاحیت، جوش اور تخلیقی توانائی اکثر نظرانداز کی جاتی ہے۔ ایسے معاشرتی رویے نہ صرف علمی ہستیوں کے حوصلے کو توڑ دیتے ہیں بلکہ معاشرتی ترقی کو بھی محدود کرتے ہیں۔

یہ ایک المیہ ہے۔ المیہ اس لیے کہ علم، جسے ہم عزت اور ترقی کی علامت سمجھتے ہیں، اسے عمر یا ظاہری تاثرات کے ساتھ جوڑ کر بے وقعت بنا دیا جاتا ہے۔ سن سنائی باتیں، معاشرتی مفروضے اور پرانے تصورات نوجوان علمی ہستیوں کی جدت، توانائی اور جوش کو چھپا دیتے ہیں اور کبھی کبھی ان کی حوصلہ شکنی بھی کر دیتے ہیں۔

پی ایچ ڈی صرف ایک تعلیمی یا تحقیقی سفر ہے، نہ کہ عمر یا سن کی نشانی۔ یہ علم کی لگن، سوچ کی وسعت اور تجسس کی علامت ہے۔ اس کی قدر اسی وقت ممکن ہے جب ہم تعصبات کو توڑیں، سماجی رکاوٹوں کو نظرانداز کریں اور نوجوان محققین کی محنت اور قابلیت کو ان کے اصل مقام پر دیکھیں۔

علم کی عزت کرنے والا معاشرہ ہی حقیقی ترقی کی طرف بڑھتا ہے اور نوجوان محققین کی توانائی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ انہیں عمر کے پیمانے یا سنجیدگی کے پرانے کلیشوں سے ماپا نہیں جا سکتا۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم علم اور صلاحیت کی قیمت کو پہچانیں، سن سنائی باتوں کی نہیں۔

نوجوان پی ایچ ڈی ہولڈرز صرف اپنی عمر کی نہیں، بلکہ اپنے علم، سوچ اور محنت کی روشنی سے معاشرے کو روشن کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے تجسس، تحقیق اور تخلیقی سوچ کے ذریعے سماج کو نئی راہیں دکھاتے ہیں۔ وہ خود مثال ہیں کہ محنت، لگن اور علم کی طاقت کسی عمر یا ظاہری تصور سے محدود نہیں۔

سماج کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تعصبات پر نظر ڈالے اور علم کی قدر کو صرف تجربے یا عمر سے نہ جوڑے۔ بقول مفکر سیدرتھارتھ پرابھو:

"جس نے سیکھنا چھوڑ دیا وہ بوڑھا ہے، چاہے اس کی عمر صرف بیس سال ہی کیوں نہ ہو"۔

نوجوان محققین کی صلاحیتیں، ان کا جوش اور ان کی تخلیقی توانائی معاشرتی ترقی کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کے کام کو اس کے اصل معیار پر پہچاننا ہر معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

یہی حقیقی المیہ ہے، علم، جدت اور نوجوانی کی توانائی کے درمیان چھپی ہوئی روشنی، جو پرانے سماجی تصورات اور سنی سنائی باتوں کے اندھیروں میں دب جاتی ہے۔ اگر ہم اسے پہچانیں اور اس کی قدر کریں، تو نہ صرف علمی قابلیت کی ترقی ممکن ہوگی بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔ بقول ڈاکٹر عبدالقدیر خان:

"تعلیم اور تحقیق وہ خزانہ ہیں جو کسی بھی عمر میں انسان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں"۔

یہ قول نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی کے لیے بہت موزوں ہے۔ آخرمیں ایسے لوگوں کو دلی سلام جو پی ایچ ڈی والوں کو اولڈ یابڑی عمر کا بزرگ سمجھتے ہیں۔ اپنی کم معیاری سوچ سے کچھ توسوچنے کا ہنررکھتے ہیں۔ دلی سلام ایسے لوگوں کو واقعی واجب ہے، کیونکہ اگر وہ تھوڑی سی عقل یا کھلی سوچ کا مظاہرہ کرتے تو شاید یہ غیر منطقی تعصبات نہ اپناتے۔۔

Check Also

Nojawan, Driving License Aur Helmet Ki Ahmiyat

By Nouman Ali Bhatti