Kaghazi Karvai Aur Phd Scholar Ka Zehni Karb
کاغذی کاروائی اور پی ایچ ڈی اسکالر کا ذہنی کرب
یونیورسٹیوں کو علم، تحقیق اور تخلیق کے مراکز کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں سے معاشرے کے مستقبل کے رہنما، مفکر اور محقق تیار ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اکثر دیکھا گیا ہے کہ انہی علمی ایوانوں میں بعض اوقات طاقت، اختیار اور عہدے کو برتری، حکم چلانے اور تکبر کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ علم کے ایوانوں میں انسان نہیں بلکہ "نام کے فرعون" بیٹھے ہوں، جو اپنی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری کے ذریعے دوسروں کو اذیت پہنچاتے ہیں۔
پی ایچ ڈی کا سفر بذات خود ایک طویل اور کٹھن عمل ہے۔ یہ محض علمی محنت نہیں بلکہ صبر، استقامت اور ذہنی پختگی کا امتحان بھی ہے۔ ایک طالب علم جووقت اپنی تحقیق، مطالعہ اور علمی تنقید میں گزارتا ہے۔ ہر تجربہ، ہر تجزیہ اور ہر نتیجہ انسانی سوچ اور محنت کا آئینہ ہوتا ہے۔ لیکن تحقیق کے اس علمی دباؤ کے باوجود، میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میری پی ایچ ڈی کے تین سالہ سفرنے مجھے اتنا ذہنی اذیت میں نہیں ڈالا جتنا اس کے ساتھ جڑی کاغذی کاروائی نے آخر میں پہنچایا۔
کاغذی کاروائی ایک ایسا غیر مرئی بوجھ ہے جو محقق کے دماغ اور حوصلے کو مسلسل دباتا ہے۔ ایک سادہ دستخط، ایک رسمی منظوری یا ایک معمولی مرحلہ، جو بظاہر چند دنوں میں مکمل ہونا چاہیے، مہینوں تک التوا کا شکار رہتا ہے۔ کبھی ایک افسر دستیاب نہیں ہوتا، تو کبھی دوسرا افسر اپنی مصروفیات یا دیگر بہانوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ فائلیں ایک میز سے دوسری میز تک گردش کرتی رہتی ہیں اور محقق مسلسل انتظار، الجھن اور بے یقینی کا شکار رہتا ہے۔ فون پر رابطہ کرنے پر بظاہر خوش اخلاقی دکھائی جاتی ہے، وقتی تسلی دی جاتی ہے، لیکن عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔
یہ رویہ صرف ایک فرد کے حوصلے کو نہیں توڑتا بلکہ محقق کے اعتماد، عزت اور علمی وقار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ذہنی دباؤ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ کم حوصلے والے لوگ اس سفر کو نصف راہ میں چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ ہمت ہار کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علم کی اس مقدس منزل تک پہنچنا محض طاقتوروں اور مستقل مزاج لوگوں کے لیے ممکن ہے۔ لیکن وہ لوگ جو صبر، اصول اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں، بالآخر نہ صرف اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں بلکہ اس سفر میں اپنی شخصیت، قوت برداشت اور علمی صلاحیتوں کو بھی پختہ کرتے ہیں۔
میرے لیے یہ سب کچھ ایک آزمائش کی صورت اختیار کر گیا۔ میں نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران محنت، تحقیق اور علمی دباؤ کے تقاضوں کو برداشت کیا، لیکن کاغذی کاروائی کی غیر سنجیدگی نے مجھے ذہنی اذیت کے ایسے مقام تک پہنچا دیا جو کسی علمی دباؤ کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہر دن انتظار اور ہر دستخط کے لیے کشمکش، محقق کی روح اور حوصلے پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ یہ اذیت اتنی شدید ہوتی ہے کہ انسان خود سے سوال کرنے لگتا ہے کہ آخر اس نظام میں انصاف کہاں ہے؟ علم کی قدر کہاں ہے؟
ایسے حالات میں بہت سے لوگ جذبات کے بھنور میں پھنس کر زبانی بحث یا احتجاج کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن میں اس راستے کو مناسب نہیں سمجھتی۔ میرے نزدیک، معاملات کو اصول، انصاف اور قانون کے دائرے میں حل کرنا ہی صحیح راستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں زبانی کاروائی کے بجائے قانونی کاروائی کو ترجیح دیتی ہوں۔ قانونی راستہ نہ صرف ذاتی حق کو یقینی بناتا ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ محقق اور طالب علم نظام کی غیر سنجیدگی کے باوجود اصول، انصاف اور ذمہ داری پر قائم رہتا ہے۔
جامعات کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ محقق کا وقت، محنت اتنی ہی اہم ہے جتنی تحقیق کی قدر۔ انتظامی نظام کو شفاف، سادہ اور ذمہ دار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہر عہدے دار کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کے ایک دستخط یا ایک فیصلے میں کسی کی محنت، مستقبل اور اعتماد جڑا ہوتا ہے۔ جب تک جامعات میں جواب دہی، پیشہ ورانہ دیانت اور وقت کی پابندی کو فروغ نہیں دیا جائے گا، تب تک علم کے یہ مراکز اپنی حقیقی روح، وقار اور مقصد کو برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پی ایچ ڈی کا سفر محض علمی نہیں بلکہ صبر، حوصلے اور استقامت کا امتحان ہے۔ کم حوصلے والے شاید راستے میں ہار جائیں، مگر وہ جو اصول، محنت اور قانونی موقف پر قائم رہتے ہیں، وہ بالآخر مشکلات کے باوجود اپنی منزل تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کاغذی کاروائی نے مجھے تھکایا ضرور، لیکن اس نے یہ بھی سکھایا کہ علم کی حقیقی قدر صرف اصول، صبر اور انصاف کے ساتھ قائم رہ سکتی ہے۔

