Digital Dunya Ke Kirdar
ڈیجیٹل دنیا کے کردار
یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ انسان اب صرف اپنے گھر، محفل یا دفتر میں ہی نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل دنیا میں بھی جیتا ہے۔ یہاں الفاظ، کمنٹس اور ردِعمل انسان کی شخصیت کا وہ پہلو ظاہر کرتے ہیں جو اکثر حقیقی زندگی میں نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ آج اگر کسی مرد کی شرافت کو پرکھنا ہو تو لمبی گفتگو یا بڑے دعووں کی ضرورت نہیں، بس کسی عورت کی نامناسب ویڈیو کے کمنٹس پڑھ لیجیے، وہاں انسان کے کردار کی اصل تصویر نمایاں ہو جاتی ہے۔
معاشرے میں ہم اکثر ایسے مرد دیکھتے ہیں جو خود کو نہایت مہذب، باوقار اور بااخلاق ظاہر کرتے ہیں۔ گفتگو میں شائستگی کا لبادہ اوڑھے رکھتے ہیں اور اصولوں کی پاسداری کے دعوے بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب یہی لوگ سوشل میڈیا کے کمنٹس سیکشن میں آتے ہیں تو ان کے الفاظ کا رنگ بدل جاتا ہے۔ چند لمحوں کی وقتی خواہش یا سطحی تفریح کے لیے وہ ایسے جملے لکھ جاتے ہیں جو ان کے اپنے کردار کو بھی بے نقاب کر دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ شرافت کسی لباس، عہدے یا ظاہری انداز کا نام نہیں۔ شرافت دراصل انسان کی سوچ، نگاہ اور زبان میں ہوتی ہے۔ ایک باوقار مرد وہ ہوتا ہے جو اپنی نظر اور الفاظ دونوں کی حفاظت کرنا جانتا ہو۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کسی عورت کے بارے میں غیر مہذب الفاظ استعمال کرنا دراصل اس کی اپنی تربیت اور اخلاقی معیار کا اظہار ہے۔
سوشل میڈیا نے ایک عجیب نفسیات کو بھی جنم دیا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ گمنام ہیں، اس لیے ان کے الفاظ کا کوئی حساب نہیں ہوگا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انسان کا اصل کردار وہی ہوتا ہے جو وہ تنہائی میں ظاہر کرتا ہے، جب اس پر کوئی سماجی دباؤ نہیں ہوتا۔ کمنٹس کی چند سطریں اکثر اس تربیت کو بے نقاب کر دیتی ہیں جو برسوں میں پروان چڑھتی ہے۔ آپ سوشل میڈیا کی کسی ایپ کو کھول کردیکھ لیں مثلاََ کسی عورت کی بیہودہ ویڈیو تصویر کے نیچے مردحضرات کے کمنٹس چیک کیجیے۔ غلیظ ذہنیت کردار نمایاں ہوجاتا ہے۔ جیسے شریف مرد آپ کو ایسی جگہوں پر نہیں ملے گا ویسے شریف وباحیا عورت بھی ایسی حرکات ناپسند کرے گی۔ لچھے لفنگے ذہن آپ کو ایسی جگہوں پر ملیں گے۔ میں اکثر کہتی ہوں سلجھے ذہنوں کو لفنگے ذہن کبھی پسند نہیں آتے اسی طرح لفنگے ذہنوں کو سلجھے ذہن نامناسب لگیں گے جیسی سوچ ویسا معیار و ذہنیت۔۔ مثال کے طورپر بیہودہ بے حیا مرد کو شریف و باحیا عورت کم تر لگے گی۔ اسی طرح شریف مرد کو بے حیا و بیہودہ عورت زہر لگے گی۔ بات وہی کہ جیسی ذہنیت ویسا معیار کو انسان ترجیح دے گا۔۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض لوگ عورت کی کسی لغزش یا نامناسب ویڈیو کو بنیاد بنا کر اپنے لیے ہر حد پار کرنے کا جواز پیدا کر لیتے ہیں۔ مگر یہ سوچ بھی غلط ہے۔ کسی کی غلطی انسان کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ اپنی اخلاقی حدود بھی توڑ دے۔ کردار کی اصل عظمت یہی ہے کہ انسان دوسروں کی کمزوری کے باوجود اپنے اصولوں پر قائم رہے۔
ایک باشعور اور باوقار مرد ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ عورت چاہے کسی بھی حالت میں ہو، اس کے بارے میں غیر مہذب گفتگو کرنا دراصل اپنی شخصیت کو گرانے کے مترادف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مردانگی کا اصل حسن طاقت یا آواز کی بلندی میں نہیں بلکہ احترام، برداشت اور کردار کی پاکیزگی میں ہے۔
اردو ادب میں بھی کردار اور شرافت کی اسی حقیقت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل وقار اور بلند کردار آسانی سے پیدا نہیں ہوتے، بلکہ یہ طویل تربیت اور مضبوط اخلاقی بنیادوں سے وجود میں آتے ہیں۔
آج کے نوجوانوں کے لیے بھی یہ ایک اہم سبق ہے۔ سوشل میڈیا محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری شخصیت کا آئینہ بھی ہے۔ ہم جو لکھتے ہیں، جو دیکھتے ہیں اور جس انداز میں ردعمل دیتے ہیں، وہی ہماری اصل پہچان بن جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے الفاظ کو بھی اسی طرح سنوارے جیسے وہ اپنے لباس اور ظاہری انداز کو سنوارتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ شرافت دعووں سے نہیں بلکہ رویوں سے پہچانی جاتی ہے۔ ایک شریف مرد وہ نہیں جو صرف محفل میں اخلاق کی باتیں کرے، بلکہ وہ ہے جس کی نظر بھی پاکیزہ ہو، زبان بھی مہذب ہو اور کمنٹس بھی اس کے کردار کی گواہی دیں۔ کیونکہ انسان کی اصل پہچان وہی ہوتی ہے جو وہ دنیا کے سامنے نہیں بلکہ پردے کے پیچھے ظاہر کرتا ہے۔

