Tuesday, 24 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Komal Shahzadi
  4. Ahle Qalam Conference 2026 Aur Shoaib Mirza Ka Kirdar

Ahle Qalam Conference 2026 Aur Shoaib Mirza Ka Kirdar

اہلِ قلم کانفرنس 2026 اور شعیب مرزا کا کردار

ادب محض لفظوں کا کھیل نہیں، یہ تہذیبوں کی تشکیل اور معاشروں کی تربیت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ جب قلم بیدار ہو جائے تو خاموش زمانے بھی بولنے لگتے ہیں۔ اسی بیداری کی علامت بن کر اہلِ قلم کانفرنس 2026 سامنے آئی۔ ایک ایسا اجتماع جہاں لفظوں کو وقار ملا اور اہلِ دانش کو اعتراف۔ یہ کانفرنس صرف ایک تقریب نہیں تھی بلکہ فکری ہم آہنگی کا مظہر تھی۔

ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے ادباء، شعرا اور محققین نے اپنی تخلیقات اور افکار پیش کیے۔ موضوعات میں قومی شعور، اخلاقی تربیت، نئی نسل کے مسائل اور ادبِ اطفال کی اہمیت نمایاں رہے۔ اس پلیٹ فارم نے ثابت کیا کہ جب قلم سچ لکھتا ہے تو معاشرہ سنجیدگی سے سننے لگتا ہے۔

اسی کانفرنس میں جن شخصیات نے توجہ حاصل کی، ان میں شعیب مرزا، ڈاکٹر امجد ثاقب، ڈاکٹر فضیلت بانو وغیرہ کا نام خاص طور پر نمایاں رہا۔ ادبِ اطفال کے میدان میں ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ بچوں کے لیے لکھنا دراصل مستقبل کے ذہنوں کی تعمیر کرنا ہے۔ یہ کام محض کہانیاں گھڑنے کا نہیں بلکہ کردار سازی کا ہے۔

ادبِ اطفال کو اکثر سنجیدہ ادب کے مقابلے میں کم اہم سمجھ لیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک بچے کی پہلی کہانی ہی اس کے شعور کی بنیاد رکھتی ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو عمارت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ یہی وہ شعور ہے جسے اہلِ قلم کانفرنس نے اجاگر کیا۔

شعیب مرزا اس پیغام کے نمائندہ بن کر سامنے آئے کہ ادب کی اصل طاقت تربیت ہے اور تربیت کی اصل منزل کردار سازی۔ ان کی کاوشیں اس امر کی دلیل ہیں کہ سچا قلم کار وہی ہے جو معاشرے کے سب سے حساس طبقے، بچوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے۔

یہ کانفرنس ہمیں یہ پیغام دے گئی کہ لفظ اگر ذمہ داری سے لکھے جائیں تو نسلوں کا مقدر بدل سکتے ہیں اور جب اہلِ قلم اکٹھے ہو جائیں تو فکری انقلاب کی بنیاد رکھ دیتے ہیں۔ مزید برآں کانفرنس کے پہلے سیشن کے بعد ہائی ٹی کا انتظام شاندار تھا۔ میزبانی کے فرائض باکمال انداز میں اداکیے گئے۔

دوسرے سیشن میں مختلف ادبی شخصیات کی عمدہ گفتگو سننے سے یوں محسوس ہواکہ یہ دن بہت کچھ سیکھا گیا۔ کانفرنس کے آخری سیشن میں شاندار کھانے کا انتظام تھااوراخوت یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ نے انتہائی نظم وضبط کے ساتھ کھانا تقسیم کیا جس سے اس ادارے کی تربیت نظرآئی۔ ایوارڈ کی تقسیم فردافردا ہر شخص میں کی گئی۔

آخر میں ایک شعر:

قلم کو بیچ نہ دینا ضمیر کے ہاتھوں
یہی تو روشنی دیتا ہے تاریک راتوں میں

اہلِ قلم کانفرنس 2026 نے ثابت کیا کہ ادب زندہ ہے، قلم بیدار ہے اور معاشرہ ابھی امید سے خالی۔۔

Check Also

Mazameen e Quran, Satarhvi Nimaz e Taraweeh

By Rizwan Ahmad Qazi