Pakistan Bhi Kabhi Super Power Hoga
پاکستان بھی کبھی سپر پاور ہوگا

پاکستان بھی کبھی سپر پاور ہوگا
جب ہر ہاتھ میں قلم ہوگا
یہ کافی لمبی چوڑی نظم تھی جس کی صرف دو سطریں مجھے یاد رہ گئیں۔ مجھے بس اتنا یاد ہے کہ میرے ابو کو حیرت ہوئی کہ یہ اتنی سی عمر میں کوئی بچہ یہ کیسے لکھ سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ایک کوٹیشن بھی تھی کہ "زندگی کے نشیب و فراز میں اگر تم چٹان بننا چاہتے ہو تو قرآن کی طرف رجوع کرو"۔
ابو کو نظم کا تو تھوڑا بہت یقین آ گیا لیکن اس کوٹیشن کا بالکل یقین نہ آیا کہ اتنی بڑی بات ایک کم عمر بچی کیسے کہہ یا لکھ سکتی ہے۔ لیکن شاید یہ تر بیت یا اس ماحول کا ثر تھا جس میں میں پروان چڑھی، مجھے اس بات کا یقین تھا کہ اسلام کے نام پر قائم کئیے گئے اس ملک میں اللہ کا نظام قائم ہوگا۔ انتہائی نامساعد حالات جب لوگ پاکستان کے بارے میں طرح طرح کی بات کرتے تھے کہ اس ملک میں کچھ نہیں رکھا لیکن میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں کہ پوری عمر پاکستان سے باہر گزار کہ دو گز زمین کا ٹکرا دفن ہونے کے لئے پاکستان میں چاہیے۔
ابو پاکستان سے باہر گئے بھی تو سعودی عرب میں، صرف اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ سعودی عرب یورپ سے بہرحال بہتر ہے۔ ابو سعودی ارامکو میں انجئنئیر تھے اور ارامکو کی طرف سے ہم چاروں بہن بھائی پڑھنے کے لئے ارامکو کی طرف سے امریکہ جا سکتے تھے۔ ہماری ضد کی وجہ سے ایک دفعہ مان بھی گئے لیکن پھر انھوں نے یہ عارضی فیصلہ واپس لے لیا۔
ابو کہتے تھے کہ اسلام نہ تو پاکستان میں ہے نا سعودی عرب میں۔ لیکن یورپ سے بہرحال بہتر ہے۔ سودی عرب میں اللہ کا نظام چودہ سو سال پہلے قائم ہوا اور پا کستان میں دوبارہ خلافت راشدہ کے دور کی یاد تازہ ہوگئی، کل جب جنگ بندی کا اعلان ہوا اور آج جب اسلام آباد میں امریکی وفود اور ایرانی وفود جنگ بندی کے لئے پا کستان کی سر زمین میں موجود ہیں اور اسی عزت کا سہرا رب نے پاکستان کے سر رکھا اور دنیا میں جس طرح پاکستان کی عزت ہو رہی ہے اور دنیا بھر کا میڈیا پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہ رہا ہے اور اچھی نظر سے دیکھ رہا ہے اور پاکستان کو امن کا نوبل پرائیز دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
جب ایک تاریخ قلم بند ہونے جارہی ہے، تاریخی فیصلہ مورخ پاکستان کے بارے میں سنہری حروف میں لکھے گا۔
مجھے آج وہ وقت یاد آ رہا ہے جب پا کستان کے ڑیفالٹ کی باتیں ہو رہی تھیں، بلیک لسٹ کئیے جانے کی باتیں ہو رہی تھیں اور اب آج کا وقت ہے۔
مجھے ابو کہ الفاظ بہت یاد آ رہے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان بہت آگے جائے گا۔ میرا یہ یقین میرے ابو کا دیا ہوا ہے کہ میں پا کستان کے مستقبل سے کبھی مایوس نہیں ہوئی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ پر کہ پاکستان میں بہت کچھ کرنا باقی ہے، تعلیم کے میدان میں، صحت کے میدان میں، دولت کی غیر مساویاتی تقسیم، طبقاتی اونچ نیچ اور بہت کچھ۔ وہ دن دور نہیں جب ریاست افراد کی ہر طرح کی ذمہ داری لے گئی۔
انسان اگر خدا کی کتاب کے مطابق چلے تو یہ نظام دنوں میں قائم ہو جائے گا جو اقبال نے کہا تھا کہ
لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے
یقین پیدا کر کہ اے غافل مغلوب گماں تو ہے
قرآن کا دعوی ہے کہ لیظھرہ علی الدین کلہ اس نظام نے دنیا کے سب نظاموں پر غالب آ کر رہنا ہے۔
دل تو یہی چاہتا ہے کہ یہ ملک پاکستان ہو، یہی یہ نظام قائم ہو اور یہ سب کچھ میری زندگی میں ہو جائے۔ اس نظام کی ہلکی سی جھلک مجھے ابھی نظر آ رہی ہے۔ وہ عزت جو رب نے پاکستان کی جھولی میں ڈال دی ہے۔ اگر ہم دست قدرت کی زبان بن جائیں تو یہ دنوں میں قائم ہو جائے ابھی تو اس نظام کی طرف قدم کائناتی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے جس کی ایک کرن مجھے نظر آئی ہے۔

