Wednesday, 22 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Kiran Arzoo Nadeem
  4. Insan Ka Lughvi Matlab

Insan Ka Lughvi Matlab

انسان کا لغوی مطلب

آج کل میری آنکھ وہ کچھ دیکھ رہی ہے جو ابو ہمیں بچپن سے بتاتے آئے ہیں جب پوری دنیا میں پاک فضائیہ کا ڈنکا ایک دفعہ پھر بج رہا ہے یہ وہ وقت ہے جب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ایرانی حدود میں داخل ہو کر وہ تاریخ رقم کر دی ہے جس نے پوری دنیا کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور آسمان کی فضاؤں میں پاک وطن کا راج ہے۔ اسرائیل نے جو گھناؤنا منصوبہ بنایا تھا پاک فضائیہ نے اس کا منہ توڑ جواب دیا، تاریخ کا سب سے بڑادفاعی، سفارتی اور فضائی دھماکا ہو چکا ہے۔

پا کستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ امت مسلمہ کا محافظ ہے۔ پاک فضائیہ کے f-16 اور f-17 طیارے ایرانی حدود میں گرج رہے تھے اور پاکستان کی ایٹمی طاقت کا اظہار تھا، اطلاع کے مطابق پاکستان کے یہ شاہین ایرانی وفد کو اپنے حصار میں لے کر اسلام آباد پہنچے۔ زرائع کے دعوی کے مطابق جیسے ہی اسرائیل نے ایرانی وفد کو فضا میں تباہ کرنے کی کوشش کی عین اس وقت ہمارے شاہینوں نے جوابی کاروائی کرتے وقت یہ ہدایات جاری کیں کہ اگر کسی نے بھی میلی آنکھ سے دیکھا تو اسے وہی ڈھیر کر دیا جائے گا اور ہم نے یہ پیغام دے دیا کہ ہم کسی قسم کی غنڈہ گردی کو برداشت نہیں کریں گئے۔

اللہ اکبر۔ دل تو یہ ہی چاہتا ہے کہ فلسطین، کشمیر، لبنان اور ہر وہ جگہ جہاں ظلم ہو رہا ہے ہم اٹھیں اور تین گھنٹے کی فلم کی طرح سب کو تباہ کر دیں، لیکن ایسا نہیں ہوا کرتا۔ یہاں تک جانے کے لئے بہت بڑی قوت ایمانی کی ضرورت ہے جس کا آغاز ابھی ہوا ہے۔

سورہ یس پڑھتے ہوئے میں یس لفظ کا لغت میں ترجمہ پڑھتے ہوئے گہری سوچ میں ڑوب گئی۔ یس میں "س" عجیب چیز ہے، اب تو چھتیں سیمنٹ اور لوہے کی بنتی ہیں پہلے تو چھتوں کا جو انداز تھا اس میں وہ لکڑی کی شہتیریاں ڈالتے تھے، بعض اوقات وہ شہتیریاں کمزور ہو جاتی تھیں تو ان کے نیچے سہارا دینے کے لئے بڑی مضبوط لکڑی لگا دی جاتی تھی تا کہ وہ کمزور لکڑیاں گر نہ پڑیں۔ سامی زبان میں اس کو "س" کہتے تھے کہ یس سے مراد "اے وہ جو کمزوروں کو سہارا دینے کے لئے دنیا میں آیا ہے، حضور ﷺ کو یس کہہ کر پکارا گیا ہے کہ اے کمزوروں کو سہارا دینے والا۔ عربوں کے ہاں قوم کے سردار کو بھی "س" کہتے تھے تو وہاں قوم کا سردار غریبوں اور مظلوموں کا خون چوسنے کے لئے نہیں آتا تھا۔ بلکہ کمزوروں کا سہارا ہوتا تھا اور وہ لوگ تو انسان کا لفظ اس کے لئے استعمال کرتے تھے جو غریبوں اور ضیعیفوں کا سہارا بنے، دوسرا تو انسان ہوتا ہی نہیں تھا۔

دنیا بھر میں انسانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے کیا یہ سب انسان کہلانے کے مستحق ہیں، وہ دن دور نہیں جب ہم کمزوروں اور بے بسوں کا سہارا بننے کے قابل ہو جائیں گئیں۔

Check Also

Insan Ka Lughvi Matlab

By Kiran Arzoo Nadeem