Zala Bari, Aam Ki Fasal Aur Solar Sistem Ki Tabahi
ژالہ باری، آم کی فصل اور سولر سسٹم کی تباہی

گذشتہ دنوں سے ملک بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی باعث جاری ژالہ باری اور تیز ہواوں کے ساتھ شدید بارشوں نے جہاں گندم کی کھڑی اور کٹی ہوئی فصلوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا اور کپاس کی نوخیز فصل اور دیگر زرعی اجناس کو بھی متاثر کیا وہیں خصوصا جنوبی پنجاب کی سرزمین جو کبھی آموں کی خوشبو سے مہکتی رہی ہے آج آسمان سے برستی ان برفانی گولیوں (ژالہ باری) کی زد میں آکر سوگوار اور اجڑی اجڑی سی دکھائی دیتی ہے۔ شدید بارشوں اور ژالہ باری نے نہ صرف آموں کے باغات کو اجاڑ دیا ہے بلکہ کسان کی سال بھی کی محنت اور امیدوں کو بھی چند لمحوں میں روند کر رکھ دیا ہے۔
آم کا پھل جنوبی پنجاب کی معیشت میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا ہے اور اسے پوری دنیا میں پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ مگر اس مرتبہ اس شدید ژالہ باری کی باعث اپنی بادشاہت بچانے میں ناکام نظر آتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے علاقوں ملتان، بہاولپور، رحیم یارخان جو آم کی پیداوار میں خصوصی اہمیت کے حامل رہتے ہیں بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ موجودہ ژالہ باری کے یہ بےرحم قطرے دراصل موسمیاتی تغیر کی ایک جھلک ہیں جواب محض سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ زمینی حقیقت بن چکی ہے اور اس علاقے کی جو آم کی فصل پہلے ہی اس موسمی بےاعتدالی کا شکار تھی اب خدشہ ہے کہ اس قدرتی آفت نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔
درختوں پر لگے کچے آم، ننھے شگوفے اور بور بھی زمین پر بکھرئے پڑے ہیں جیسے کسی نے سبز خوابوں کو نوچ کر پھینک دیا ہو۔ یہ قیمتی اور نایاب آم ہمارے اس علاقے کی پہچان ہی نہیں بلکہ انہیں ملکی زرمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی مقامی معیشت کا بڑا دارومدار اس پھل کی فصل سے وابستہ ہوتا ہے۔ آم کوغریب کا پھل کہا جاتاہے جس کی بہار سے پورا علاقہ مستفید ہوتا ہے۔ پورے پاکستان میں خلوص دل سے تحفہ کے طور پر بھیجا جانے والا یہ پھلوں کا بادشاہ اپنی بےچارگی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ کیونکہ شاید اس مرتبہ آم ہونگے تو ضرور مگر بہت سےنہیں ہوں گے جبکہ غالب کے بقول "آم میٹھے ہوں اور بہت ہوں"۔
گذشتہ روزہ بارشوں اور ژالہ باری نے پورے علاقے میں نظام زندگی کو ناصرف نقصان پہنچا یا بلکہ مفلوج کرکے رکھ دیا۔ سڑکوں پر موجود قیمتی گاڑیوں اور کاروں کے شیشے اور ونڈ اسکرین چکناچور ہو کر ٹوٹ گئے اور لوگوں کے مہنگے ترین سولر پینلز شدید اولوں کی ضرب نہ سہہ سکے اور بڑے بڑے سوراخوں سے چھلنی ہوکر رہ گئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس موسمیاتی تبدیلی کی باعث لوگوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔
ان بارشوں اور شدید ژالہ باری نے گندم، کپاس اور آم کی فصل ہی برباد نہیں کردی بلکہ لوگوں کے قیمتی سولر پینل اور سسٹم کی ٹوٹ پھوٹ نےان متاثرین سے سستی روشنی بھی چھین لی ہے اور بےشمار چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عجیب واقعہ ہے کہ قیمتی فصل بھی گئی اور بجلی کا سہارا بھی ٹوٹ کر بکھر گیا ہے اور سواریاں بھی ناقابل استعمال ہو کر رہ گیں۔ جنوبی پنجاب میں ہونے والی شدید ژالہ باری نے صرف کھیتوں اور آم کے باغات ہی نہیں اُجاڑے، بلکہ اُن غریب گھرانوں کے خواب بھی توڑ دیے ہیں جنہوں نے بڑی مشکل سے پیسے جوڑ کر اپنے گھروں پر سولر پینل لگوائے تھے۔ یہ پینل اُن کے لیے صرف بجلی کا متبادل نہیں تھے، بلکہ مہنگی بجلی کے بلوں سے نجات، بچوں کی پڑھائی کا سہارا اور ایک باعزت زندگی کی امید تھے۔ جب آسمان سے گرتے اولے ان نازک شیشوں پر پڑے، تو وہ صرف پینل نہیں ٹوٹے، بلکہ ایک مزدور کی مہینوں کی بچت، ایک کسان کی امید اور ایک چھوٹے گھر کی روشنی بھی بکھر گئی۔
یہ صورتحال کئی تلخ سوال چھوڑ جاتی ہے کیا غریب آدمی کے لیے کوئی ایسا نظام موجود ہے جو اسےایسی قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کا سہارا دے سکے؟ کیا سولر پینلز لگانے والوں کے لیے کوئی انشورنس یا حکومتی تحفظ موجود ہے؟ اور کیا ہمیں ایسے علاقوں میں موسمی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے مضبوط یا محفوظ سولر سسٹمز کی طرف نہیں جانا چاہیے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سولر سسٹم لگاتے ہیں، نہ کوئی رہنمائی، نہ کوئی تحفظ، نہ بعد میں کوئی ایسا سہارا جو مشکل میں کام آسکے۔ ایسے میں ایک ہی ژالہ باری اور شدید بارش یہ سب کچھ ختم کر دیتی ہے۔
سوال یہ ہےکہ اس سے بچاو کا ممکنا حل کیا ہو سکتا ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ کسانوں کے ساتھ ساتھ سولر پینل لگانے والے غریب گھرانوں کے لیے بھیایک ہنگامی ریلیف پیکج دے (ایک اطلاع کے مطابق حکومت پنجاب نے فوری سروئے اور معاوضے کی ہدایت جاری بھی کی ہے)۔ سولر سسٹمز اور کاروں کے لیے کم قیمت انشورنس اسکیم متعارف کرائی جائے۔ پینلز اور حفاظتی کورز کے بارے میں بنیادی سطح پر آگاہی دی جائے۔
مقامی سطح پر کمیونٹی فنڈ یا بلاسود قرضوں کا نظام بنایا جائے تاکہ لوگ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ یہ وقت صرف نقصان گننے کا نہیں، بلکہ اُن ہاتھوں کو تھامنے کا ہے جو اپنی محنت سے اندھیروں کو روشنی میں بدلنا چاہتے تھے۔ قدرتی آفات کی پیشگی اطلاعات اس نقصان میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں تاکہ لوگ اس دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ یہ موسمیاتی تبدیلیاں اور نقصانات اس چیز کی متقاضی ہیں کہ اس جانب ہر سطح پر خصوصی توجہ دی جائے۔

