Takhleeqi Salahiyaten Aur Masnoi Zahanat
تخلیقی صلاحیتیں اور مصنوعی ذہانت

ہمارے اطراف میں دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ مصنوعی ذہانت جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں انقلاب برپا کر رہی ہے وہیں ادبی دنیا کے لیے یہ نئی راہیں کھولنے کے ساتھ ساتھ کئی سنگین خطرات بھی پیدا کر رہی ہے۔ اردو ادب جو اپنی لطافت، تہذیب اور جذباتی گہرائی کے لیے جانا جاتا ہے اسے ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں کئی چیلنجزکا بھی سامنا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر اے آئی ٹولز نے زبان، تحریر اور ذرائع ابلاغ میں ایک نئی انقلابی تبدیلی پیدا کردی ہے ایسے میں بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ کیا اردو زبان اور ادب کو اس ٹیکنالوجی سے خطرات لاحق ہو رہے ہیں؟ یا پھر نئی ٹیکنالوجی سے اردو زبان وادب کے لیے نئے امکانات بھی جنم لے سکتے ہیں؟
سوال یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اردو اور زبان اردو کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟ اور اس ڈیجیٹل دور میں تخلیق انسانی کو درپیش خطرات کیا ہو سکتے ہیں؟ سب سے پہلے یہ سمجھناہوگا کہ جی پی ٹی کوئی گوشت پوست کا انسانی وجود نہیں یہ ایک مشین ہے جو پہلے سے موجود ڈیٹا سے معلومات اور مواد لے کر پیش کرتا ہے جو محتلف لوگوں اور محتلف ذرائع سے اس تک پہلے ہی پہنچ چکا ہوتا ہے۔ مشینی لفظ اور انسانی احساس دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ انسانی ذہنیٍ صلاحیت اور سوچ ٍکبھی مشینی ڈیٹا کےٍٍ مطابق نہیں ہو سکتی۔ دل، قلم، روح اور مشین کبھی یکساں نہیں ہو سکتے۔ ایک نظر مصنوعی ذہانت اور اردو ادب یا اردو ادب اور ڈیجیٹل دور کو درپیش چیلنجزپر ڈالتے ہیں تاکہ ان اثرات کا جائزہ لیا جاسکے جو ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور ان اثرات سے بچاو کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟
آج سب سے اہم یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل ٹول ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو جمود کا شکار کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ جب لکھاری اپنی سوچ اور تخیل کی بجائے چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز پر انحصار کرنے لگتے ہیں تو ان کی اپنی سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ادب دراصل تجربےِ سوچِ محنت اور مشاہدئے کا نام ہوتا ہے۔ لیکن اے آئی چند سیکنڈ زمیں تحریر فراہم کرکے لکھاری کوسوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی اور تساہل پسند بنا دیتی ہے۔ ایسے ہی جیسے گنتی اور پہاڑے یاد کئے بغیر ضرب یا تقسیم، جمع یا تفریق کیلکو لیٹر سے فوری جواب حاصل کر لیا جاتا ہے۔ اردو زبان کو اس لیےخطرات درپیش ہیں کہ ڈیجیٹل ڈیٹا میں ایسا ذخیرہ الفاظ بھی استعمال ہو جاتا ہے جس کے معنی یا مطلب لکھاری خود بھی نہیں جانتا۔ مشین کام شاید غلط یا درست کا تجزیہ کرنا ممکن نہیں ہو پاتا یا پھر اس کے ڈیٹا میں موجود ہی وہی کچھ ہوتا ہے۔
اردو شاعریِ اور نثر نگاری کی بنیاد "احساس" پر قائم ہوتی ہے جبکہ اے آئی الفاظ جوڑ کر جملٍہ تو بنا سکتی ہے اور شاید بحراور قافیہ میں اشعار بھی تراش سکتی ہے مگر وہ درد اور کرب پیدا نہیں کرسکتی جو لکھاری یا شاعر کے ذہن میں موجزن ہوتے ہیں۔ گویا اس مشین کے پاس ڈیٹا اور میموری تو ہوتی ہے روح اور احساس نہیں ہوتا۔ جو تحریر اور شاعری میں جذبات اور کیفیت کے فقدان پیدا کر دیتا ہے۔ اے آئی ٹولز انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹا سے معلومات کشید کرتے ہیں جس سے یہ خطرہ موجود ہوتا ہے کہ کسی نئے لکھاری کا کام بغیر اجازت اے آئی کے ماڈلز میں استعمال ہو جائے؟ یا مشین مختلف ادیبوں کے اسلوب کو ملا کر کچھ نیا پیش کرے جس سے اصل تخلیق کار کی سوچ کا حق مارا جائے؟
ایسے ہی اے آئی اکثر اردو کی پیچیدگیوں سے واقف نہیں ہوتی اور پیچیدہ تراکیبِ محاورات اور روزمرہ کے الفاظ کے استعمال میں غلطیاں کرتی ہے۔ اس لیے خطرہ ہے کہ اگر یہ غیر معیاری اے آئی جنریٹڈڈ مواد کثرت استعمال سے شائع ہوکر پھیل گیا تو نئی نسل کی اردو زبان متاثر ہو سکتی ہے اور لوٍگ اسی اردو کو درست تصور کرنے لگیں گے ٍٍ۔ جو ہماری زبان کی ساخت اور اسکے بگاڑ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اس زبان کو نئے لکھنے والے تو شاید انسانی کوشش ہی سمجھیں لیکن سینئر قلمکار اور دانشور البتہ اپنے تجربے اور مشق کی بنیاد پر مشینی الفاظ کی روانی، برجستگی اور روانی کا اندازہ بہ آسانی لگا لیں گے۔ انداز تحریر انسان اور مشین کا فرق ظاہر کردے گا۔ آپ کی تحریر کردہ تخلیقات جب انٹرنیٹ پر آجاتی ہیں تو یہ اس کے ڈیٹا میں محفوظ ہوتی جاتی ہیں اور بوقت ضرورت وہ ان سے استفادہ حاصل کرتا رہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر پہلے ہی یہ وبا عام ہے کہ کسی کا بھی شعر کسی بھی شاعر سے بلا تحقیق منسوب کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اقوال اور محاورے بھی غلط استعمال ہوتے ہیں جبکہ اشعار میں غلط الفاظ کی کمی بیشی معمول بن چکی ہے۔ اے آئی کیونکہ موجود ڈیٹا سے مواد لیتی ہے اس لیے یہ عمل مزید متاثر ہو سکتا ہے۔ جو ہماری زبان اور ادب کی تاریخ کو متاثر کرسکتا ہے۔ شروع میں جب ہمارے احباب نے ذکر کیا کہ تو مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ کوئی مشین شاعری بھی کرسکتی ہے؟ شاعری تو احساسات وجذبات کی عکاسی ہوتی ہے جبکہ کسی مشین میں احساس اور جذبہ کہاں پیدا ہو سکتا ہے۔ دل اور روح کی باتیں ایک مشین کیسے کر سکتی ہے؟ لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ آج تو نئی نسل اس مشین کو بڑے دھڑلے سے اپنی نثر ونظم کے لیے اپنے اشاروں پر چلا رہی ہے۔ بلکہ ان مشینی ٹولز کے ذریعے بہت سے لوگ انگریزی اور اردو کے مترجم تک بن رہے ہیں۔ جو انسانی تخلیق کی موت کے مترادف ہے۔ کیونکہ مشینی ترجمے اور خود کار تحریرکی باعث پیشہ ور مترجمینِ لکھاریوں اور اساتذہ کی اہمیت بھی کم ہونے لگی ہے۔
اگرچہ یہ خطرات لاحق ضرور ہیں لیکن ہمیں یہ دیکھنا بھی چاہیے کہ ہم اے آئی کو ایک مدد گار کے طور پر کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ لغت اور تحقیقِ مشکل الفاظ کے معانی اور متبادل تلاش کرنے میں آسانی کے لیے اور گرامر اور املا کی درستگی کے لیے جدید ٹولز سے مدد لینا ہو یا پھر عالمی رسائیِ اردو ادب کے شاہکاروں کا دوسری زبان میں بہتر ترجمہ تاکہ دنیا ہمارے ادب سے واقف ہو سکے۔ ادب ہمیشہ انسانی تجربات کا نچوڑ رہا ہے۔ مشین آپ کو گھر کا نقشہ تو بنا کر دے سکتی ہے لیکن اس میں گھروالے پیدا نہیں کرسکتی۔ اردو ادب کو خطرہ اے آئی سے اتنا نہیں ہے جتنا اس کے غلط استعمال اور انسانی تحلیقی جوہر کو ترک کردینے سے دکھائی دیتا ہے۔
اس صورتحال نے انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیا ہے۔ چونکہ اے آئی فورا" مواد فراہم کر دیتی ہے اس لیے بہت زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ بہت سے لوگ خود لکھنے کا عمل چھوڑ کر مشینوں پر منحصر ہو کر بیٹھ جائیں۔ یہ صورتحال طویل مدت میں زبان اور ادب کی تخلیقی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ جو اردو زبان اور ادب کے ماہرین کی ضرورت ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ دوسری جانب کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آرہے ہیں۔ جیسے ان جدید ٹولز نے اردو میں لکھنےِ سیکھنے اور پڑھنے کو پہلے سے زیادہ فروغ دیا ہے۔ جو لوگ اردو سے دور تھے رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں۔ اردو لغت اور ذخیرہ الفاظ میں اضافے کا باعث بھی ہے۔ اگر ان ٹولز کو مثبت استعمال کیا جائے تو یہ زبان کے فروغ میں اہم کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔
لیکن سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ انسانی تحریر اور مشینی تحریر میں فرق ختم ہو رہا ہے اور تخلیقی بنیادیں کمزور پڑ رہی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اے آئی ٹولز کو مدد گار کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے نہ کے متبادل کے طور پر برتا جائے کیونکہ یہ ٹولز مقامی محاوروںِ لہجوں اور ثقافتی اظہار کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہوتے ہیں جو ہمارے ادب کا بنیادی نکتہ، ہنر اور مغز ہوتا ہے۔ اس لیے اردو زبان کو ان ٹولز سے سنگین خطرہ تب ہی لاحق ہو سکتا ہے جب شاعر یا ادیب خود اپنی ذات پر اکتفا کرنے کی بجائے یہ کام ان مشینوں سے لینا شروع کردیں۔ بہتریہی ہے کہ ان ٹولز کو محض مشین سمجھا جائے اسے شاعر یا ادیب نہ بنایا جائے ورنہ ہماری تخلیقی صلاحیت ناپید ہو کر رہ جاےگی۔

