Sunday, 12 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Shukriya Pakistan

Shukriya Pakistan

شکریہ پاکستان

بچپن میں ایک سنسنی خیز انگریزی ناول کا دلچسپ اردو ترجمہ پڑھا تھا۔ اس ناول "بے بس سائنسدان " کا مین کردار ایک بہت ہی قابل اور ذہین ایسا سائنسدان تھا جو برسوں تک دنیا کی نظروں سے خود کو غائب کرنے کے بارئے میں کوشش کر رہا تھا۔ اس نے اس سلسلے میں بہت کچھ پڑھا، سوچا، مشاہدہ کیا اور مختلف کیمیکل کے تجربات کرکے خود کو دنیا کی نظروں سے غائب کرنے کی کوشش کرتا رہا اور آخرکار ایک طویل جدجہد اور کوشش کے بعد وہ ایک ایسا فارمولا دریافت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جس کے استعمال سے وہ اپنا جسم دنیا کی نظروں سے غائب کرسکتا ہے اور دنیا کو نظر آئے بغیر وہ جو چاہتا ہے کر سکتا ہے مگر اسے نہ کوئی دیکھ سکتا ہے اور نہ نقصان پہنچاسکتا ہے۔

ایک بھوت یا جن سا بن جاتا ہے اور دنیا کو پریشان کردیتا ہے۔ لوگوں کی نظروں سے اوجھل کسی ہوا کے جھونکے کی طرح کہیں بھی پہنچ کر کچھ بھی کرکے بھی وہ محفوظ رہتا ہے۔ وہ یہ طاقت حاصل کر تو لیتا ہے مگر وہ اپنی تحقیق اور تجربات سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوکر اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ غائب تو ہوگیا مگر اب اس کیفیت سے واپس کیسے نکلے تاکہ پھر لوگوں کو نظر آنا شروع کر سکے۔

یہیں سے اس کی بےبسی کی داستان شروع ہوتی۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ ہمیشہ نظر نہ آنا کوئی طاقت یا کارنامہ ہرگز نہیں ہے۔ اصل کارنامہ تو نظروں سے اوجھل ہو کر پھر سے واپس دکھائی دینے کا عمل ہے جس کے بارئے میں اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ اسے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ دراصل انسان کا نظر آنا کتنی بڑی نعمت ہے اور غائب ہونا تو دراصل اپنی شناخت ختم کرنا ہوتا ہے۔ اسی بےبسی کے عالم میں اسے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ واپسی کا راستہ صرف اختتام ہے جو اس کو اس کیفیت سے باہر نکال سکتی ہے لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ راستہ اس کی سائنس کا اختتام ہوگا۔ اپنے آپ سے ایک طویل جنگ کے بعد وہ حادثاتی طور پر مارا جاتا ہے اور تب دنیا اس کے مردہ جسم کو دیکھ پاتی ہے۔

یہ ناول ایک سبق دیتا تھا کہ کسی بھی مقصد اور منزل کا حصول ہی کامیابی نہیں ہوتا بلکہ وہاں سے واپسی کاراستہ جاننا اس سے بھی زیادہ ضروری ہوتا۔ کسی پہاڑ پر چڑھنے سے پہلے وہاں سے واپس اترنے کا طریقہ آنا ضروری ہے۔ اصل کامیابی صرف منزل کا حصول نہیں بلکہ سفر کی تکمیل ہوتی ہے۔ انسانی جسم محض ہڈیوں، گوشت اور خون کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کی اصل قدر اس کی شناخت اور پہچان میں مضمر ہے۔ گویا شناخت کے بغیر جسم ایک سایہ ہے اور پہچان کے ساتھ ہی کوئی سایہ ایک انسان کہلا سکتا ہے۔ اگر انسان اپنی پہچان سے محروم ہو جائے تو یہ نہیں جان سکتا کہ وہ کون ہے؟ کہاں کھڑا ہے؟ اور اس کا مقصد کیا ہے؟ تو پھر اس کا وجود بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

بلامقصد اور بلا ٹارگٹ کوئی بھی کام یا کوشش ناکامی سے ہمکنار ہوتی ہے۔ شاید ایسا ہی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے ساتھ موجودہ جنگ میں ہوا ہے۔ جہاں بظاہر واپسی کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ایک جانب ایران کی بقا اور سلامتی کی جنگ تھی تو دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کی اپنی ساکھ اور انا کا سوال تھا۔ جنگ تیزی سے پھیل رہی تھی ایسے میں تیسری عالمی جنگ کی صورت میں کسی بھی بڑی تباہی کا ہونا ممکن ہو سکتا تھا۔ ہمیشہ کسی جنگ میں جانا شاید بہت آسان ہوتا ہے مگر اس سے واپسی بہت مشکل مرحلہ ہوتاہے۔

امریکہ کا اسرائیل کے لیے ایران پر حملہ دراصل طاقت اور برتری کا غرور تھا جو عسکری، سفارتی، معاشی اور نفسیاتی محاذوں پر پھیلا ہوا تھا۔ اسے بلا مقابلہ جنگ سمجھ کر میدان میں اترنا امریکہ کی ویسی ہی غلطی تھی جو اس "بےبس سائنسدان"نے کی تھی۔ امریکہ میدان جنگ میں کود تو پڑا مگر شاید فتح کے بغیر واپسی کا راستہ نہیں جانتا تھا۔ امریکہ نے ایران کو کمزور حریف سمجھ کر ایک ایسی کشمکش چھیڑی جس میں میدان جنگ نظر تو نہ آیا مگر وقت کے ساتھ یہی غیر مری جنگ اس کے لیے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مشکلات کا سبب بنتی چلی گئی۔ یہ جنگ توپ وتفنگ کی نہیں حکمت عملی کی تھی اور اس خاموش معرکے میں طاقت کے غرور نے امریکہ کو وہاں لاکھڑا کیا جہاں فتح کا شور بھی شکست کی بازگشت محسوس ہونے لگا۔

امریکہ عسکری لحاظ سے اب بھی دنیا کی بڑی طاقت ہے مگر ایران نے براہ راست تصادم سے بچتے ہوئے اپنے اثر اور دفاع کو برقرار رکھا اور اس کشمکش نے دونوں کو کسی واضح فتح کی بجائے طویل عدم استحکام کی جانب دھکیل دیا ہے۔ آج ایرانی فتح کا جشن اس بات کا غماز ہے کہ جیت ہمیشہ مقصد کی ہوتی ہے ایران کے پاس اپنے ملک و قوم کے دفاع اور بقا کا ایک ہی مقصد واضح طور پر موجود تھا۔ ان کا بڑی طاقتوں کے اس حملے میں چالیس دن تک اپنا دفاع کر جانا ہی ان کی بڑی جیت ہے۔

دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے مقاصد وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے نظر آتے تھے۔ طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو بلامقصد لڑنا مشکل ہوتا ہے۔ امریکہ جیسے "بےبس سائنسدان" کو اس جنگ سے باعزت واپسی کا راستہ دینا ایک بہت بڑا اور مشکل کام تھا اور یہ اعزاز قدرت کی جانب سے پاکستان کو نصیب ہوا کہ دنیا ایک بڑی تباہی سے بچ گئی، اس جنگ میں کسی کی ہار یاجیت کی بات نہیں بلکہ یہ امن اور انسانیت کی فتح ہے جس کا سہرا پاکستان کے سر سجتا ہے۔ پاکستان نے اپنی بہترین حکمت عملی، پائیدار اور مضبوط خارجہ پالیسی اور دلیرانہ موقف اپناتے ہوئے وہ کردکھایا ہے جو دنیا کی کوئی طاقت نہ کرسکی۔

پاکستان نے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ انڈیا اسرائیل کی پراکسی وار کا بھی منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اس لیے درحقیقت جیت پاکستانی سیاسی، سفارتی و عسکری قیادت کی امن کی کوششوں اور نیک نیتی سے کی گئی جدوجہد کی ہوئی ہے۔ جس پر خدا کا جتنا شکر ادا کیاجائے کم ہوگا۔ آج پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی دھمکی دینے والا ہمارا ازلی دشمن مودی اور بھارت دنیا میں تنہا کھڑے ہیں اور پاکستان کا نام اور جھنڈا پوری دنیا میں بلند ہو چکا ہے۔

پاکستان کا کردار ہمیشہ سے بڑا مثبت، بامقصد اور اہم رہا ہے۔ اس جنگ کے دوران پاکستان کی امن اور جنگ بندی کی کوششیں ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہیں گیں۔ انتھک پاکستانی جدوجہد کے بعد آخرکار وہ بڑی پیش رفت اافق پر نمائیاں ہوگئی جہاں پاکستان آج دنیا کے سامنے ایک ایسے "پیس میکر" یا امن کے سفیر کے طور پر ابھرا ہے جس نے ممکنہ تیسری عالمی اور شاید ممکنا ایٹمی جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو کرڑوں لوگوں کی جانیں بچانے کا باعث بنا اور دنیا ایک بڑی تباہی سے بچ گئی۔

آج کا دن پاکستان کی سفارت کاری کا سب سے بڑا دن ہے جب پاکستان نے عالمی اسٹیج پر اپنی سفارت کاری سے ایک تاریخ رقم کردی ہے۔ آج عالمی میڈیا میں پاکستان کی تعریفوں پر پاکستانی قیادت اور پوری محب وطن پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد کی مستحق ہے۔

شکریہ پاکستان!

Check Also

Iran Ko Samajhne Ke Liye 5 Kitaben

By Mubashir Ali Zaidi