Riwayat Ki Roshani Aur Qayadat Ki Nai Kiran
روایت کی روشنی اور قیادت کی نئی کرن

زندگی کے کچھ لمحے بظاہر غم کی چادر میں لپٹے ہوتے ہیں، مگر ان کے دامن میں تاریخ، روایت اور مستقبل کی جھلک بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ایسے ہی غمگین اور سوگوار موقع پر نواب امیر آف بہاولپور جناب نواب صلاح الدین احمد عباسی کے محل "صادق گڑھ پیلس" اجانا ہوا، جہاں ان کی والدہ محترمہ کے وصال پر تعزیت پیش کرنا مقصود تھا۔ دکھ کی اس گھڑی میں گو پورے صادق گڑھ پیلس کی فضا سوگوار تھی، مگر اس کے ساتھ ایک ایسا وقار، ایک ایسی سنجیدگی بھی موجود تھی جو صدیوں پر محیط روایات کی امین ہوتی ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں آج پورا بہاولپور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اس معزز خاندان عباسیہ کو صبر جمیل دئے آمین! اور یہ بھی دلی دعا ہے کہ امیر آف بہاولپور نواب صلاح الدین احمد عباسی کو اللہ تعالیٰ طویل اور صحت مند زندگی سے نوازئے آمین!
اس موقع پر موجودہ نواب امیر آف بہاولپور کے فرزند اور ولی عہد نواب بہاول خان عباسی سے پہلی مرتبہ ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ ایک نوجوان مگر باوقار، متوازن اور باادب شخصیت، ان کے انداز میں شائستگی اور گفتگو میں ٹھہراؤ نمایاں تھا۔ ان سے مل کر یہ احساس اور بھی گہرا ہوا کہ کچھ خاندان صرف نام کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، روایت اور خدمت کے تسلسل کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت سے یہ قوی امید ہے کہ اس خاندان کی یہ نئی نسل اپنے آباء و اجدادکی روایات کو نہ صرف زندہ رکھے گی بلکہ انہیں ایک روشن مستقبل کی سمت بھی لے کر جائے گی۔
یہ ملاقات میرے لیے محض ایک رسمی تعزیت نہ تھی بلکہ یادوں کا ایک در وا ہونے جیسا تھا۔ کیونکہ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ بچپن میں اسکول کے زمانے میں امیر آف بہاولپور نواب صادق محمد خان عباسی پنجم مرحوم کی زیارت اور انہیں قلعہ ڈیراور میں سلامی پیش کرنے کا شرف نصیب ہوا۔ وہ لمحہ آج بھی میرے ذہن میں ایک روشن تصویر کی مانند محفوظ ہے۔ بعد ازاں امیرآف بہاولپور نواب محمد عباس خان عباسی مرحوم سابق گورنر پنجاب، سے کئی مرتبہ ملاقات اور زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔
ان کی شخصیت میں وقار، سنجیدگی اور خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔ پھر وقت نے مجھے موجودہ امیر آف بہاولپور نواب صلاح الدین احمد عباسی نے کی شفقت اور محبت سے بھی نوازا، ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت، ان کی شفقت اور محبت آج بھی دل کے نہاں خانوں میں محفوظ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں نے اس خاندان کی چار پشتوں کو قریب سے دیکھنے اور ان سے فیض حاصل کرنے کا شرف پایا ہے، ایک ایسا تسلسل جو محض ذاتی تجربہ نہیں بلکہ تاریخ کے ساتھ جڑا ہوا ایک زندہ رشتہ ہے۔
یہ ملاقات مجھے ماضی کے دریچوں میں لے گئی جہاں امیر آف بہاولپور نواب صلاح الدین احمد عباسی کی میرئے والد محترم لفٹیننٹ(ر) محمدایازخان مرحوم اور مجھ ناچیز سے محبت، خلوص اور شفقت آج بھی میری یادوں میں تازہ ہے۔ وہ صرف ریاست بہاولپور کے ایک نواب ہی نہیں ہیں بلکہ ایک شفیق انسان، ایک دردمند دل اور ایک وسیع الظرف شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کے ساتھ گزارا ہوا قیمتی وقت آج بھی دل کو گرما دیتا ہے۔
مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا ہےکہ جب وہ ستر کی دھائی میں بیک وقت بہاولپور اور یزمان سے نیشنل اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے تھے تو جہاں بہاولپور میں اس الیکشن کی ذمہداری والد صاحب کے کندھوں پر تھی اور انہوں نے نورمحل کو اپنا الیکشن آفس بنایا ہوا تھا وہیں میں، قاضی عبدالحق شہباز مرحوم اور میاں عبدالمجید جمشید کے ہمراہ یزمان میں الیکشن کے انتطام سنبھالے ہوئے تھےاور یہ الیکشن دو سیٹوں پر نواب صاحب نے بڑئے ووٹوں کی برتری سے جیت لیا تھا۔ مجھے آج بھی نواب صاحب کے ہمراہ اس الیکشن کے دوران ہونے والے انتخابی جلسے اور الیکشن کمپین اچھی طرح یاد ہیں۔ نواب صلاح الدین عباسی امیر آف بہاولپور کے ساتھ گزرا ہوا وقت آج بھی دل کے کسی گوشے میں روشن چراغ کی مانند جل رہا ہے۔
آج اسی عظیم روایت کے امین کے طور پر نواب بہاول خان عباسی سامنے آتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ماضی کی سنجیدگی اور حال کی آگاہی کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وہ نئی نسل کے دلوں میں تیزی سے جگہ بنا رہے ہیں۔ وہ محض روایت کے وارث نہیں بلکہ ایک ممکنہ مستقبل کےسیاسی وسماجی رہنما کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ آج امیرآف بہاولپور کے فرزند اور ولی عہد نواب بہاو ل خان عباسی میں وہی رکھ رکھاؤ، وہی تہذیب، وہی بصیرت اور وہی شائستگی دیکھ کر دل کو ایک عجیب سی طمانیت نصیب ہوئی۔ یوں لگا جیسے وقت نے ایک خوبصورت تسلسل قائم رکھا ہوا ہے، روایت صرف محفوظ نہیں رہی بلکہ ایک نئی صورت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ریاستِ بہاولپور کا نام پاکستان کی تشکیل میں سنہری حروف سے لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ نواب آف بہاولپور نواب صادق محمد خان عباسی پنجم مرحوم نے قیامِ پاکستان کے نازک ترین دور میں نہ صرف فوری طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا بلکہ مالی، انتظامی اور دفاعی سطح پر بے مثال معاونت بھی فراہم کی۔ یہ وہ وقت تھا جب نومولود مملکت کو ہر سمت سے مشکلات کا سامنا تھا اور ایسے میں بہاولپور کی ریاست نے دل کھول کر اپنا کردار ادا کیا۔ ریاستِ بہاولپور نے پاکستان کو نہ صرف مالی وسائل فراہم کیے بلکہ سرکاری دفاتر، گاڑیاں، حتیٰ کہ اسٹیٹ بینک کے ابتدائی معاملات میں بھی بھرپور تعاون کیا۔ یہ محض سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا تاریخی عہد تھا جس میں اسلام اور پاکستان سے محبت کے ساتھ ساتھ وفاداری، بصیرت اور ایثار کی روشن مثال قائم کی گئی۔
ان کی بےپناہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نوجوان نواب بہاول خان عباسی آئندہ دنوں میں اس خطے کی سیاست میں ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں سنجیدگی کے ساتھ ایک فکری پختگی بھی دکھائی دیتی ہے، جو کسی بھی رہنما کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا عندیہ ہے کہ وہ نئی نسل کی سوچ اور جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ بظاہر روائتی اور پرانی سیاست سے دور نظر آتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج پاکستان کی ستر فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ پاکستان کے آئندہ فیصلے یقیناََ نئی اور نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہونگے۔ نوجوان قیادت کی ترجیہات نوجوانوں کی توقعات سے جڑی ہیں۔ نوجوانوں کی جذبات ایک نوجوان ہی بہتر سمجھ سکتا ہے۔ آج کے نوجوان کی سوچ روائتی اور دقیانوسی سوچ سے قطعی مختلف اور منفرد ہے جو اپنی بات براہ راست کرنا چاہتا ہے۔ ان کے ارد گرد باصلاحیت اور پرجوش نوجوان لوگوں کی موجودگی بھی ان کی دور اندیشی کا ایک مثبت اشارہ ہے جو انہیں نوجوانوں کی تمام تر امیدوں کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔
ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت محض خاندانی پس منظر کا ہی عکس نہیں بلکہ ان کے رویے، ان کے اندازِ گفتگو اور عوام سے جڑنے کی فطری صلاحیت کا نتیجہ بھی ہے۔ اگر وہ اسی خلوص اور توازن کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو یقیناً وہ اپنے بزرگوں کی روایات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک ایسی سیاسی اورسماجی قیادت فراہم کر سکتے ہیں جس کی آج کے معاشرے اور ہمارئے علاقے کو اشد ضرورت ہے۔

