Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Motorway Ka Aik Service Area

Motorway Ka Aik Service Area

موٹر وے کا ایک "سروس ایریا"

گذشتہ روز رحیم یارخان کے سفر کی روداد اور وہاں کی ترقی کی تعریف پر کالم لکھا مگر رحیم یارخان واپسی پر جب سفر موٹر وے کے ذریعے ہوا تو راستے کے ریسٹ ایریا "اوچشریف" نے اس خوشگوار تاثر کو کسی حد تک دھندلا کر رکھ دیا۔ ایک طرف رحیم یار خان جیسے شہر میں صفائی، نظم اور ستھرے ماحول کی مثال دیکھنے کو ملی، تو دوسری طرف موٹر وے کے ریسٹ ایریاز میں گندگی، ٹوٹ پھوٹ اور خصوصاً واش رومز کی خراب حالت نے شدید مایوس کیا۔

یہ وہ مقامات ہوتے ہیں جہاں مسافر چند لمحے سکھ، آرام اور طہارت کی امید لے کر رکتے ہیں، مگر جب وہاں بدبو، بے ترتیبی اور صفائی کا فقدان ہو تو پورا سفر کا لطف متاثر ہو جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان ناقص سہولتوں کے باوجود اشیائے خور و نوش کے نرخ آسمان سے باتیں کرتے نظر آئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض مقامات پر مسافروں کو سہولت نہیں بلکہ مجبوری سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر ایک چھوٹے شہر میں بہترین صفائی اور انتظام ممکن ہے، تو موٹر وے جیسے قومی شاہراہ کے ریسٹ ایریاز میں یہ کیوں نہیں؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے صرف نرخ بڑھانے پر نہیں بلکہ سہولت، صفائی اور معیار بہتر بنانے پر بھی توجہ دیں۔ مسافر صرف مہنگی چیزیں خریدنے نہیں آتے، وہ احترام، آرام اور بنیادی سہولتیں بھی چاہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کی اس موٹروئے پر دیگر سروس ایریا کے کیا حالات ہیں لیکن یہ "اوچشریف" سروس ایریا دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی۔ وہاں کھڑی ڈائیو کی بس دیکھ کر رکنے کا فیصلہ کیا جو نہایت تلخ رہا۔ موٹر وے کے سروسز ایریاز دراصل کسی بھی ملک کی مہمان نوازی اور نظم و ضبط کا پہلا تعارف ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ سہولتیں اکثر مسائل کا شکار نظر آتی ہیں۔ میں نے وہاں شکایت درج کرنا چاہی تو کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ شکایت کسے اور کیسے درج کرانی ہے؟ ہیلپ لائن پر کال کی تو انہوں نےبھی اسے اپنا مسئلہ قرار نہ دیا۔

یہ سروس ایریا جن میں صفائی کا فقدان سرفہرست دکھائی دیا واش رومز کی خراب حالت، بدبو اور کوڑا کرکٹ مسافروں کے لیے سب سے بڑی پریشانی ہے۔ دوسرا مسئلہ غیر معیاری سہولیات کی فراہمی کا ہوتا ہے بیٹھنے کی جگہیں، پانی، روشنی اور آرام کی بنیادی سہولتیں اور اشیأ خوردونوش اکثر ناقص ہوتی ہیں۔ تیسرا اہم مسئلہ مہنگائی اور غیر منصافانہ نرخ ہوتے ہیں کھانے پینے کی اشیاء کے ریٹ بہت زیادہ ہوتے ہیں، مگر معیار اس کے برعکس ہوتا ہے۔

چوتھی وجہ نگرانی کا فقدان نظر آتی ہے بہت سے مقامات پر انتظامیہ کی مؤثر چیکنگ نظر نہیں آتی، جس سے لاپرواہی بڑھتی ہے۔ پانچویں وجہ عملے کا غیر پیشہ ورانہ رویہ ہوتا ہے صفائی اور سروس فراہم کرنے والے عملے میں تربیت اور ذمہ داری کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ موقعہ پر موجود صفائی کا عملہ چائے پانی کا طلبگار ہوتا ہے۔ اتنی خوبصورت موٹر وے پر اتنا گندا سروس ایریا ارباباختیار کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ذمہ داری کس کی ہے؟ نیشنل ہائی وئے اٹھارٹی یا پرائیویٹ کنٹریکٹرز اور کمپنیز موٹر وئے ادارئے ان سروسز کی مجموعی نگرنی کرتے ہیں اور پالیسی معیار اور کنٹریکٹس انہیں کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں البتہ زیادہ تر سروس ایریا نجی کمپنیوں کے سپرد ہوتے ہیں جن کی ذمہ داری ہےکہ وہ صفائی، معیار اور مناسب نرخ برقرار رکھیں۔ البتہ مقامی انتظامیہ اور مانیٹرنگ ٹیمیں بھی وقتاََ فوقتاََ معائنہ کرکے بہتری کو یقینی بنا سکتے ہیں لیکن یہ عملی طور پر کمزور پہلو دکھائی دیتا ہے۔ بہر حال موٹر وئے پر سفر کرنے والے ایک بڑی رقم ٹیکس کی مد میں خرچ کرتے ہیں انہیں اس طرح کی سہولتیں ملنا بےحد ضروری ہے۔ یہ جس کی بھی ذمہداری ہے اسے صفائی کے سخت معیارات اور روزآنہ مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ نرخوں کی باقاعدہ فہرست اور اس پر عملدرآمد ممکن بنانا چاہیے۔

شکایت کے فوری ازالے کے لیے ہیلپ لائن یا ڈیجیٹل سسٹم ہونا ضروری ہے جبکہ عملے کی تربیت اور کارکردگی پر جرمانے اور اچھی کارکردگی پر انعام مقرر ہو۔ عوامی آگاہی دی جائے تاکہ مسافر بھی اپنی شکایات درج کرا سکیں۔ لیکن اسی سروس ایرا میں جونہی ہم آرمکو پیٹرول پمپ پر رکے تو وہاں پر پر موجود بہترین اور صاف ستھرئے واش روم اور جدید ترین کیفے ٹیریا دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ کیا ہی بہتر ہو کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں کو بھی ایسی ہی اچھی اور معیاری سہولیات موٹر وئے کے ہر سروس ایریا میں مہیا کی جاسکیں؟

اگر ایک طرف رحیم یار خان جیسے شہر صفائی اور نظم و نسق میں ایک مثال بن سکتے ہیں، تو اس کے موٹر وے سروس ایریاز کا یہ حال کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ اصل ضرورت صرف وسائل کی نہیں بلکہ احساسِ ذمہ داری اور مؤثر نگرانی کی ہے۔

Check Also

Kohsar University Pe Akhri Mazmoon

By Muhammad Idrees Abbasi