Monday, 05 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Khali Kursiyan

Khali Kursiyan

خالی کرسیاں

علی شیر چوہان مرحوم سے میرا تعارف پندرہ سال قبل ہوا تھا جب میں نیا نیا وہاڑی سے بہاولپور فیصل باغ کے ایک کرائے کے گھر میں رہائش پذیر ہوا۔ اچھی ہمسائیگی بھی اللہ کی بڑی نعمت ہوتی ہے اور یہاں مجھے یہ نعمتیں بڑی فراوانی سے میسر آئیں۔ اس وقت ٹاون کی آبادی کم تھی اس لیے رات کو سردار لیاقت علی خان اترا مرحوم کے ہمراہ بیٹھک ہونے لگی وہیں پہلی مرتبہ علی شیر چوہان مرحوم سے ملاقات ہوئی جو ہر آنے والے دن میں بڑھتی چلی گئی۔

علی شیر چوہان محلے کی ہر دلعزیز شخصیت کے ساتھ ساتھ ہماری ٹاون کی کمیٹی کے سربراہ بھی تھے۔ اس لیے ان سے رابطہ رکھنا اور بھی ضروری ہوگیا اور یوں وہ رفتہ رفتہ ہمارے گھر کے فرد بن گئے۔ ماشاللہ بڑے صحت مند، خوش مزاج، صاف گو اور باہمت انسان تھے اور اپنی عمر کے حساب سے وہ کبھی بوڑھے نہ لگتے تھے۔ میرے پوتے بلال خان سے بےحد پیار کرتے تھے اور اسے اپنا "پٹھا" قرار دیتے تھے۔

ان کو ٹاون کے معاملات میں ہمیشہ پرعزم پایا۔ اتفاق سے ٹاون کی مسجد میں بھی ان سے ملاقات ہر جمعہ کے دن ہو جاتی تھی اور ہماری یہ دوستی یونہی پروان چڑھتی رہی اور ہرسال وہ کسی نہ کسی بہانے گھر بلا کر دعوت کا اہتمام بھی کرتے رہتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن مسجد میں کرسیوں پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والوں کی تعداد اچانک بڑھ گئی اور کرسیوں کی کمی کو محسوس کیا گیا تو شام کو ہم نے چوہان صاحب سے مشورہ کیا کہ کیوں نہ کچھ کرسیاں خرید کر مسجد میں رکھ دی جائیں تاکہ آسانی رہے۔ تو چوہان صاحب کہنے لگے ٹھیک ہے کرسیاں تو میں بھی دے دوں گا لیکن یہ کمی نمازیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کچھ مہمانوں کی آمد سے محسوس ہوئی ہے ورنہ مسجد میں کبھی کرسیوں کی کمی نہیں دیکھی بلکہ خالی ہی رہتی ہیں۔ جو سجدہ کرسکتا ہے وہ کب کرسی پر بیٹھنا چاہتاہے۔ پھر کہنے لگے جاوید بھائی! مسجد میں کرسیاں کبھی بھی کم نہیں پڑتیں۔ کیونکہ کرسی تک پہنچنے والوں کا سفر مختصر ہوتا ہے جبکہ ان کرسیوں کی عمر انسانوں سے زیادہ ہوتی ہے۔

ان کی یہ بات بڑی گہری تھی یہ بات ہنسی میں کہی جائے تو مزاح لگتا ہے مگر غور کیا جائے تو پوری زندگی کا نوحہ بن جاتی ہے۔ پھر کہنے لگے کہ آدمی پہلے کھڑا ہوتا ہے پھر بیٹھنے کی اجازت مانگتا ہے اور پھر بیٹھ کر سر جھکانا سیکھتا ہے اور پھر پہلے وہ مجبوراََ بیٹھ کر نماز پڑھنا شروع کرتا ہے پھر اس کے بعد کرسی پر بیٹھنے کا محتاج ہو جاتا ہے اور آخر کار کرسی اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔ یہ صرف جسمانی زوال نہیں بلکہ یہ وقت کی دستک ہے جو آہستہ آہستہ سنائی دیتی ہے۔

کمزوری کی باعث عصا یا لاٹھی ہاتھ میں آتے ہی انسان کو احساس ہوتا ہے کہ فاصلہ وہی ہے مگر قدموں کی طاقت بدل گئی ہے۔ کہتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھ کر ادا کی گئی نماز قبول بھی ہوتی ہے اور معتبر بھی ہوتی ہے۔ مگر کرسی انسان کو ایک خاموش پیغام دے جاتی ہے کہ اب رفتار کم ہے، جسم کمزور ہے، ٹھہراو بڑھ گیا ہے، اب دنیا کے شور سے زیادہ خاموشی کی ضرورت ہے۔ اب دعائیں لمبی اور خواہشیں مختصر ہونی چاہیں۔

عجیب بات ہے کہ جو کرسی دنیا میں اختیار کی علامت ہوا کرتی تھی زندگی کے آخری مرحلے پر سہارا بن جاتی ہے۔ وہ جسمانی طاقت جس پر ناز تھا وہی عاجزی میں ڈھل جاتی ہےکرسی پر بیٹھ کر انسان زمین پر سجدئے کی لذت کو شدت سے یاد کرتا ہے۔ انسان کو آخرکار سمجھ آتی ہے کہ اصل قامت کھڑے ہونے میں نہیں بلکہ جھک جانے میں تھی۔ زندگی کا یہ سفر نہ بہت لمبا ہے نہ بہت مختصر ہے بس اتنا ہے کہ جو کرسی تک پہنچ گیا اب شاید اس کے لیے دنیا کی دوڑ ختم ہو چکی۔

اب آگے کا راستہ وہ ہے جہاں نہ کرسی کام آےگی، نہ عصا نہ لاٹھی اور نہ سہارئے وہاں صرف اس کے اعمال ساتھ ہوں گے اور ایک سادہ سا حساب کہ تم نے اپنی بھرپور طاقت میں کیا کیا اور کمزوری و ناتوانی میں کیا سیکھا؟ بھائی علی شیر چوہان مرحوم کے ساتھ کھڑے ہوکر نمازیں پڑھیں پھر جوانی میں فٹ بال کھیلنے کی باعث گھٹنوں نے مزید جھکنا اور مڑنا منظور نہ کیا تو میں نے نماز کے لیےکرسی کا سہارا لیا مگر چوہان صاحب بڑھاپے کے باوجود ویسے ہی کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے۔

گذشتہ کرونا کی وبا نے بےشمار لوگوں کے ساتھ ساتھ برادر علی شیر چوہان صاحب کو بھی اپنا نشانہ بنایا تو وہ شدید علیل رہے بلکہ یوں سمجھیں کہ موت کے منہ سے واپس لوٹے مگر کرونا کا شدید جھٹکا لگ چکا تھا۔ جسمانی کمزوری کی باعث اب چوہان صاحب اور میں دونوں ہی کرسی پر نماز پڑھنے لگے۔ وہ میرے لیے اور میں ان کے لیے اپنے ساتھ ساتھ کرسی لگاتے اور ایک دوسرے کے منتظر رہتے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ کرسی عارضی ہے۔ جب بھی ہمارے کسی ساتھی نمازی کی کرسی خالی ہوتی تو وہ کہتے جاوید خان! کسی دن میری کرسی بھی خالی ہو جائے گی اور پھر ایک دن ایسا ہی ہوا کہ چوہان صاحب کی کرسی خالی نظر آئی۔ مسجد میں ان کے لیے بے پناہ دعاوں کے باوجود وہ دنیا چھوڑ گئے۔ ان کی کرسی خالی ہوگئی بےشک وہ درست کہتے تھے کہ مسجد کی کرسیاں کبھی کم نہیں پڑتیں کیونکہ کرسی پر نماز پڑھنے والوں کا سفر مختصر ہوتا ہے۔

آج بھی مسجد میں کرسیاں خالی ہوتی جارہی ہیں۔ کرسی کے نمازی سب سے محترم ہوتے ہیں کیونکہ کرسی تک پہنچنا دراصل زندگی کی آخری اسٹیج ہوتی ہے۔ یوں مسجد میں کرسی کبھی مستقل مسئلہ نہیں بنتی ہر آنے والا چلا جاتا ہے اور کرسی اگلے مسافر کی منتظر رہتی ہے۔ یہ عبادت کا منظر نہیں بلکہ عمر طاقت اور اختیار کے زوال کی خاموش کہانی بھی ہے جہاں کھڑے ہونے کا حوصلہ ختم ہوتا ہے تو بیٹھنے کی سہولت بڑھتی ہے اور آخر کار سب سہولتیں بےمعنی ہو جاتی ہیں۔ کرسیوں پر نماز پڑھنے والوں کو جب دیکھتا ہوں تو بےاختیار بھائی علی شیر چوہان مرحوم کی یاد آجاتی ہے جو کہتے تھے کہ سوال کرسی کا نہیں بلکہ عزم کا ہے جو ہمیں سجدے تک لے جاتا ہے۔ آج جب کوئی خالی کرسی دیکھتا ہوں تو علی شیر چوہان مرحوم یاد آتے ہیں کیونکہ اب کوئی اپنے ساتھ کرسی رکھ کر میرا انتظار نہیں کرتا۔ اللہ ان کی مغفرت فرماے اور درجات بلند کرے۔

Check Also

Venezuela Par Pani Gadla Karne Ka Ilzam

By Nusrat Javed