1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Bande Hi Karde Rizq Zakheera

Bande Hi Karde Rizq Zakheera

بندے ہی کردے رزق ذخیرہ

بنک سے رئٹائرمنٹ کے بعد جو چند پیسے ملے تھے خیال یہ تھا کہ چھوٹا موٹا باعزت سا کاروبار کر لیں گے۔ جس سے گزر اوقات ہوتا رہے میرے بہت سے ساتھیوں نے مختلف کاروبار کر بھی رکھے ہیں سوچا تھا ان کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھائیں گے۔ ملازمت کے دوران ان کاروباری دوستوں کو بڑے رشک سے دیکھا کرتا تھا۔ اور یہ بھی ہمیں سنہرے باغ دکھاتے تھے۔ جب ان سے مشورہ کیا۔ تو انہوں نے بہت خوشدلی سے اپنے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی کیونکہ میرے پاس اپنا علحیدہ کاروبار کرنے لیے رقم بہت کم تھی اس لیے ہر ایک نے میرے وسائل کے مطابق راےُ دی۔ تو پتہ چلا کہ آجکل سب سے بہترین اور محفوظ ترین کام ذخیرہ اندوزی ہے۔ کسی بھی فصل کی آمد پر اجناس سستے داموں خرید کر قیمت بڑھنے پر بیچنے کا نام ہمارے ہاں بزنس اور کاروبار کہلاتا ہے۔ میرے ایک دوست نے کہا بھائی ایسا کرتے ہیں کہ سردیوں میں شربت جام شریں، روح افزاء اور کھجوریں سستے داموں مل جاتی ہیں۔

بس صرف رمضان شریف تک انتظار کرنا پڑے گا۔ ان کے علاوہ رمضان شریف سے پہلے بہت سی چیزیں خرید کر رکھ لیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں اچھا منافع مل جاے گا اور اگر سویاں وغیرہ ذخیرہ کر لیں تو عید پر اچھی خاصی چاندی ہو جاتی ہے۔ میں جس جس کاروبار کی طرف گیا وہاں ذخیرہ اندوزی کے سوا کچھ نہ تھا۔

اجناس، کھاد، زرعی ادویات، چینی، گندم، دالیں، گھی، چاول اور تعمیراتی سامان غرض ضرورت کی ہر چیز ایک محدود وقت میں خرید لی جاتی ہے اور پھر اس کے مہنگے ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کے ادویات، الیکٹرنک اشیاء، کپڑا، گارمنٹس، اکسیجن گیس، پھل اور سبزیاں، سرخ مرچ، غرض ہر چیز ذخیرہ ہو رہی ہے۔ اور ہر کاروباری کسی نہ کسی طرح اس ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہے۔ اور تو اور آٹو انڈسڑی اور موٹر سایکل مارکیٹ میں بھی دوست اون پر خرید وفروخت کرتے ہیں۔ جس میں پیسے والا اپنا پیسہ انویسٹ کرکے ایک سال بعد گاڑی لیتے ہے اور پھر بلیک میں مہنگے داموں بیچ کر نفع کماتا ہے۔

محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہمارا پورا تجارتی معاشرہ اس طریقہ بزنس کو کھلم کھلا اپنا چکا ہے اور ذخیرہ اندوزی کو برائی نہیں سمجھتا۔ غرض اب ذخیرہ اندوزی ہمارے کاروباری حلقوں میں لازمی جزو بن چکا ہے اور سستے داموں خرید کر کچھ عرصہ بعد مہنگے داموں فروخت کو برائی نہیں کاروبار سمجھا جاتا ہے بے شمار چیزوں کا ابھی وجود بھی نہیں ہوتا لیکن ان کی بکنگ ہو جاتی ہے اور رقم ادا کردی جاتی ہے۔

سال بعد جب وہ چیز مارکیٹ میں آتی ہے تو اس کی اصل قیمت کے علاوہ "اون" کے نام پر ناجائز منافع کمایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کے بےشمار لوگ اس طرح کی بکنگ کا کاروبار جاری رکھے ہوے ہیں۔ دراصل یہ بھی بلیک مارکیٹنگ یا ذخیرہ اندوزی کی ہی ایک قسم ہوتی ہے۔ یقیناََ ہمارے معاشرے میں اچھے اور نیک لوگوں کی بھی تعداد کافی ہے۔ جو اس طرح کی ذخیرہ اندوزی کے نقصانات سے بخوبی واقف ہیں اور اس قسم کی تجارت سے احتیاط اور پرہیز بھی کرتے ہیں اور اس برائی کو تجارتی بدیانتی تصور کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ کسی بھی اشیاء ضرورت کو چھپا لینا یا روک رکھنا کہ قیمت بڑھنے پر بیچ دوں گا ذخیرہ اندوزی ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کیوں کی جاتی ہے؟ جواب بلکل سادہ ہے کہ پیسے اور دولت والے اشیاء کو سستے داموں خرید کر رکھ لیتے ہیں اور جب یہ اشیاء مہنگی یا کم یاب ہوتی ہیں تو بیچ کرنا جائز منافع خوری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ دور جدید میں ذخیرہ اندوزی میں مڈل مین کا ایک بڑا کردار سامنے آتا ہے جو صرف ایک رسید بک سے اجناس کی خرید وفروخت کرتا ہے۔ آپ نےکوئی جنس لینی ہے تو جنس کی تعداد، ریٹ طے کرکے پےمنٹ کر دیں اور خریداری پر اسے کمیشن ادا کریں۔ وہ جنس عملاََ آپکے حوالے نہیں ہوگی بس ایک رسید پر بکنگ ہو جاے گی۔ جب اس جنس کا ریٹ بڑھ جاے تو بیچ دیں وہ بمعہ منافع آپکی رقم واپس کر دے گا اور فروخت پر اپنا کمیشن کاٹ لے گا۔ اسلام اسی لیے مال ودولت اور سونا چاندی کو ذخیرہ کرنے سے منع کرتا ہے۔ کیونکہ پیسے کی فراوانی عام انسان کی زندگی میں مشکلات کا باعث بنتی ہے اور یہی ذخیرہ اندوزی کو فروغ دینے میں معاون ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں کاروباری اور تجارتی زبان میں اسے اسٹاک کرنا کہتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ کاروباری ترقی اور حصول رزق کے لیے جد وجہد کے لیے ہر جائز طریقہ اپنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اللہ اور اسکے رسول ہر ایسے طریقے سے روکتے ہیں جس سے معاشرتی بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، جس سے معیشت کا پہیہ رک جاے، انسانی حرص وہوس کو فروغ ملے اور عام انسان کی مشکلات میں اضافہ ہو جاے۔ شیطان انسان کو لالچ کے جال میں پھنسا کر مختلف طریقوں سے ناجائز و حرام مال کمانے اور جمع کرنے کی جانب راغب کرتا ہے۔ انہی میں ایک طریقہ ذخیرہ اندوزی بھی ہے جو شریعت کی رو سے نہ صرف سخت منع ہے بلکہ ایک بڑا گناہ ہے۔ ہمارے پیارے نبیﷺ نے فرمایا "ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے"۔ (سنن ابن ماجہ 4412)انسانی زندگی سے متعلق روزمرہ کی اشیاء خوردو نوش کو محض اس بنیاد پر ذخیرہ کرکے رکھنا کہ جب بازار میں ان کی کم یابی اور قلت ہو جاے گی تو اس وقت مہنگے داموں بیچیں گے "ذخیرہ اندوزی " کہلاتا ہے۔

البتہ صرف اس طرح کی ذخیرہ اندوزی جائز ہے جہاں اشیاءکی رسد اور پیداوار ضرورت سے زیادہ ہو اور ان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو اور یہ ذخیرہ انہیں محفوظ رکھنے کے لیے کیا جاے۔ مگر ان کی قیمتوں کے بڑھنے پر بھی انہیں جائز منافع سے ہی فروخت کیا جاے۔ ہمارے ملک کے سالانہ بجٹ سے قبل یہ ذخیرہ اندوزی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ ہر شخص کو پتہ ہوتا ہے کہ فلاں فلاں اشیاء پر ٹیکس لگ رہا ہے اور فلاں فلاں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہونے جارہا ہے۔ ایک مرتبہ ہمارے ایک دوست نےبجٹ سے قبل پیٹرول، ڈیزل کا ہزاروں لیٹر اسٹاک جمع کرلیا۔ جب بجٹ آیا تو ان پر پانچ روپے لیٹر کے حساب سے اضافہ ہوا ہم نے اپنے دوست کو منافع کمانے پر مبارکباد دی تو وہ افسردگی سے بولے مجھے تو پانچ روپے لیٹر نقصان ہوگیا ہے۔

ہماری بات کچھ سمجھ نہ آئی پوچھا وہ کیسے بھائی قیمتیں تو بڑھ گئی ہیں؟ تو جواب دیا بھائی بڑھنا تو دس روپے لیٹر تھا جو صرف پانچ روپے بڑھا تو پانچ روپے نقصان ہی ہوا۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک جگہ سے گزر رہے تھے تو دیکھا ایک تاجر نے عام لوگوں کی ضرورت کا سامان ذخیرہ کر رکھا ہے۔ آپ نے قبضہ میں لیکر سامان کو نذر آتش کردیا۔ فقہاےُ کرام نے بھی اس کی اجازت دی ہے کہ اگر کسی شخص نے لوگوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے اور گراں فروشی کی خاطر ذخیرہ کیا ہوا ہے۔ تو حکومت اس سامان کو زبردستی قبضہ کرکے فروخت کرا سکتی ہے۔ ہمارے ملکی قوانین کے تحت بھی ناجائز ذخیرہ اندوزی ممنوع ہے۔ لیکن حکومت وقت کی توجہ اس جانب نہ ہونے کے برابر نظر آتی ہے۔

اس وقت ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہے جہاں اس مہنگائی کی بہت سی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ وہیں ایک بڑی وجہ ہماری ذخیرہ اندوزی کی یہ عادت بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ذخیرہ اندوزی کو اب برائی نہیں بلکہ اپنی کاروباری فنکاری اور مہارت سمجھا جاتا ہے۔ اب یہ ذخیرہ اندوزی صرف کھانے پینے کی اشیاء تک محدود نہیں رہی بلکہ ضرورت کی ہر ہر چیز کو ذخیرہ کرکے رکھنے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ پھر قیمتیں بڑھنے پر انہیں بیچ کر منافع کمانے کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ اور غریب عوام کو ہر طرف سے لوٹا جارہا ہے خرید کے وقت بھی اور فروخت کے وقت بھی!

سوال یہ ہے کہ کون لوٹ رہا ہے؟ جی ہاں عوام ہی عوام کو لوٹ رہی ہے ہم سب ایک دوسرے کو لوٹ رہے ہیں۔ ہم سب اسی معاشرے کے فرد ہیں اور اسی دین اسلام کے ماننے والے ہیں جس میں رشوت خوری، منافع خوری، اور ذخیرہ اندوزی پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کی بھی انفرادی اور اجتماعی ذمہداری ہے کہ اپنی اپنی بساط اور اختیار کے مطابق اس بارے میں مناسب اقدامات کریں نیز لوگوں میں اس بارے شعور اجاگر کرنے کی کوشش کریں کہ ذخیرہ اندوزی ہی دراصل مہنگائی میں اس ہوش رباء اضافے کی بہت بڑی وجہ ہے۔

ویکھ بندیا آسمان تے اُڈدے پنچھی
ویکھ تے سہی کی کردے نے

نہ او کردے رزق زخیرہ
نہ او بھکے مردے نے

کدے کسے نے پنکھ پکھیرو
بھکے مردے ویکھے نے؟

بندے ہی کردے رزق زخیرہ
بندے ہی بھکے مردے نے

Check Also

Exceptional Case

By Azhar Hussain Bhatti