Wednesday, 14 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Alhaj Abdul Mustafa Saeedi Aik Munfarid Naat Khwan

Alhaj Abdul Mustafa Saeedi Aik Munfarid Naat Khwan

الحاج عبدالمصطفیٰ سعیدی ایک منفرد نعت خوان

نعت رسول مقبول ﷺ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی تاریخ اسلام پرانی ہے۔ حضور ﷺ کے دور میں ہی نعت پڑھنے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ عہد نبوی کے نعت خوانوں میں ایک بڑا نام حضرت حسان بن ثابتؓ کا ہے۔ عہد نبوی ﷺ سے لے کر اب تک نعت خوانی کا یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں نعت خوانی بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ ہوتی ہے۔ ریاست بہاولپور میں نعت خوانی کو عبادت ہی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں نعت خوانی کا سلسلہ ویسے تو سارا سال ہی جاری رہتا ہے تاہم ربیع الاول اور رمضان المبارک کے دوران یہ محافل عروج پر ہوتی ہیں۔

سرائیکی دھرتی نے بڑے بڑے نامور نعت خوان پیدا کئے ہیں ان میں سے ایک نام الحاج ملک عبدالمصطفیٰ سعیدی کا بھی ہے۔ جو اپنی طرز، آواز، ادائیگی، تلفظ اور کلام کے انتخاب میں ایک منفرد حیثیت و مقام کے حامل ہیں۔ سرائیکی زبان میں آقائے دوجہاں سے محبت کا اظہار اور عقیدت بھرا یہ سفر سرائیکی ڈوہڑے سے شروع ہوکر نعت تک پہنچنے کا یہ والہانہ عشق ان کی انفرادیت ہے۔ یہاں کے مقامی سرائیکی لوگ نعت کے اشعار کے ساتھ ساتھ لہجہ، تلفظ اور سر کو سمجھنے کی خصوصی حس اور جذبہ رکھتے ہیں اس لیے پورے سرائیکی علاقے میں ان کی آواز کو دیوانہ وار پسند کیا جاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ کسی ملک کے بڑے اور منفرد نعت خوان کو خراج تحسین پیش کرنا دراصل ان کی اس عقیدت اور محبت کو سلام پیش کرنا ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی آواز کے ذریعے کروڑوں دلوں میں پیدا کردی ہے۔ نعت خوانی محض ایک فن نہیں بلکہ ایسی سعادت ہے جو قسمت والوں کے حصے میں آتی ہے۔ اسی لیے جب ہم الحاج ملک عبدالمصطفیٰ سعیدی جیسی شخصیت کا ذکر کرتے ہیں تو ایک ایسے نامور ثناءخوان رسول کا تصور ابھرتا ہے جسے یہ اعزاز ورثہ میں ملا اور پھر جس نے اپنی پوری زندگی مدح رسول ﷺ کے لیے وقف کردی۔ جونہی وہ مائیک پر اپنی مخصوص سرائیکی طرز میں "یا رسول اللہ" کی پکار بلند کرتے ہیں سامعین کے دل تڑپ اٹھتے ہیں۔ آنکھوں سے آنسوں کے بند ٹوٹ جاتے ہیں۔

ہر سال آل پاکستان محفل نعت کا ڈیرہ نواب صاحب میں انعقاد بھی الحاج ملک عبدالمصطفیٰ سعید ی کی ہر دلعیزیز اور باوقار شخصیت اور ان کے ساتھیوں کی بے پناہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ مجھے بھی ان کے پرستار ہونے کا شرف ہمیشہ رہا ہے۔ مجھے اور میرے علاقے کے لوگوں کو یہ فخر ہمیشہ رہتا ہے کہ ہمارا تعلق بھی اسی سرزمین سے ہے جس سرزمین نے الحاج ملک عبدالمصطفیٰ سعیدی جیسا ثنا خوان رسول پیدا کیا ہے۔ ریاست بہاولپور کی یہ سرزمین ہمیشہ سے عشق رسول سے سرشار نعت خوانوں کی آماجگاہ رہی ہے۔ یہاں پر قائم "صادق سرائے" نعت خوانی کی تربیت گاہ کہلاتی تھی۔ جس کی سرپرستی والیان ریاست بہاولپور ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں۔

کچھ آوازیں صرف کانوں تک ہی نہیں پہنچتیں بلکہ وہ دل میں اترتی ہیں اور روح کو چھوتی ہوئیں انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلادیتی ہیں۔ نعت رسول مقبول ﷺ بھی ایک ایسی ہی صدا ہے جو اگر خلوص دل سے بلند ہو تو نسلوں کی تربیت اور معاشروں کی سمت متعین کردیتی ہیں۔ ریاست بہاولپور کے نوابوں کے مسکن ڈیرہ نواب صاحب سے تعلق رکھنے والے میرے پیارے دوست اور آج پاکستان کے نامور نعت خواں عبدالمصطفیٰ سعیدی اسی دلکش صدا کی رو ش کا تسلسل ہیں۔ ان کی نعت خوانی محض ایک فنکار کی کارکردگی نہیں بلکہ ایک ایسے خاندان کی نمائندگی ہے جس کی رگ رگ میں محبت رسول ﷺ بسی ہوئی ہے۔

الحاج عبدالمصطفیٰ سعیدی کے والد محترم الحاج ملک غلام محمد واصف مرحوم اپنے دور کے ممتاز اور باوقار نعت خواں تھے۔ وہ نعت کو شہرت یا کسی داد کے لیے نہیں بلکہ عبادت اور نسبت سمجھ کر پڑھتے تھے۔ ان کی آواز میں سوز بھی تھا ادب بھی اور دل میں عشق رسول موجزن ہوتا اور جب نعت کی ادائیگی کرتے تو پوری محفل پر ایک سحر سا طاری ہو جاتا اور آنکھیں نم ہوجاتیں۔ ان کی محفلوں میں لفظ کم مگر کیفیت زیادہ بولتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گھر کا ماحول ذکر مصطفیٰ ﷺ سے ہمیشہ معطر رہا ہے۔ جہاں نعت ایک شوق یا مشق نہیں بلکہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔

حاجی ملک غلام محمد مرحوم پر اللہ اور اسکے رسول کی بےپناہ عنایات رہیں اور یہ پورا خاندان نعت خوانی کی نعمت سے فیض یاب ہوا ہے۔ مگر ملک غلام محمد مرحوم کی وراثت کی یہ خدا داد میراث ان کے فرزند عبدالمصطفیٰ سعیدی ہی کے حصے میں کچھ زیادہ ہی آئی۔ ملک غلام محمد مرحوم صرف نعت خوا ں ہی نہ تھے وہ عشق رسول میں سرشار ایک بہترین نعت گو شاعر بھی تھے اور واصف تخلص کرتے تھے۔ ان کا نعتیہ کلام آج بھی ہماری تاریخ کا اثاثہ ہے۔ مجھے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ ملک غلام محمد مرحوم میرے اباجی سے بڑی عقیدت ومحبت رکھتے تھے اور اکثر ان کے پاس تشریف لاتے تو اباجی کبھی نعت سنے بغیر انہیں نہ جانے دیتے۔ بلکہ ان کے اور حافظ اللہ داد مرحوم کے ساتھ اکثر خصوصی محفل سجاکرتی تھیں۔ میں جب تک ڈیرہ نواب صاحب میں رہا ہمیشہ مسجد صادق سرائے میں ان کی امامت میں نماز اس لیے بھی وہاں ادا کرتا رہا ہوں کہ نماز کے بعد ان کی نعت خوانی اور سلام سننے کا موقع ملتا تھا۔

یہ بھی حقیت ہے کہ آج ایک محبت بھرے چھوٹے سے اس قصبے ڈیرہ نواب صاحب سے اٹھنے والی محبت رسول ﷺ کی یہ آواز ان کے ہی فرزند عبدالمصطفیٰ سعیدی کی ہے جو آج ملک بھر گونج رہی ہے مگر ان کی جڑیں اب بھی اسی مٹی میں پیوست ہیں جہاں نعت کو صرف شوق نہیں عبادت سمجھا جاتا ہے۔ آج سرائیکی طرز نعت اور منفرد ادائیگی کی باعث جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ہر محفل نعت ملک عبدالمصطفیٰ سعیدی کی پر سوز آواز سے سجتی ہے۔

ہمارا سرائیکی وسیب ایسا ہے کہ جہاں محفلوں میں نعت کی داد الفاظ سے نہیں بلکہ خاموشی بھرے آنسوں سے دی جاتی ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جہاں نعت کے الفاظ ہی نہیں عقیدت بھی بولتی ہے جہاں سروں میں چمک نہیں سجدہ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک عبدالمصطفیٰ سعیدی کو گھر میں آنکھ کھلتے ہی جو پہلا تعارف ملا وہ رسول کریم ﷺ کے ذکر کا تھا اور جو آخری سبق سیکھا گیا وہ ادب اور عقیدت مصطفیٰ ﷺ ہی ٹھہرا ہے۔ ان کی نعت خوانی میں جو اثر اور سوز ہے وہ ریاضت سے زیادہ نسبت کا نتیجہ محسوس ہوتا ہے۔ ان کی آواز میں تصنع نہیں، انکساری اور سرشاری ہے، بلند آہنگی نہیں عاجزی ہے اور شہرت کی طلب نہیں رضا مصطفیٰ ﷺ کی جستجو ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو نعت خواں کو امین محبت بنا دیتا ہے۔

انہوں پورے پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کئی مسلمان ممالک میں اپنی نعت خوانی سے لوگوں کے دلوں کو گرمایا ہے اور انٹرنیشنل نعت خوان بن کر لوگوں کی بےپناہ عزت و محبت پائی ہے۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ نعت سرکار دوعالم ﷺ میری گھٹی میں شامل ہے مگر اس کو جلا اسکول کے دور میں آپکے والد صاحب لفٹیننٹ محمد ایاز خان مرحوم نے بخشی جو ایک سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ وہ اپنے ہر فنکشن اور تقریب میں مجھ سے نعت شریف پڑھواتے اور میری حوصلہ افزائی فرماتے اور مجھے میڈل اور ایوارڈ سے نوازتے تھے۔ اسی حوصلہ افزائی نے مجھے آگے بڑھنے میں سپورٹ کیا اور میں مختلف مقابلہ نعت خوانی میں شرکت کرنے لگا۔ پھر 1985ء میں ریڈیو، ٹیلی ویژن لاہور اور اسلام آباد کے زیر اہتمام کل پاکستان مقابلہ نعت جیتا اور پھر1986ء میں الحمرا آرٹ کونسل لاہور کے زیر اہتمام انجمن عندلیبان ریاض رسول کے تحت کل پاکستان محفل نعت خوانی میں پہلا انعام بمعہ عمرہ کی سعادت جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

کراچی میں حاجی کیمپ کے زیر اہتمام حبیب بینک لمیٹڈ کی جانب سے 1987ء میں کل پاکستان نعت خوانی کے مقابلہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور ایک بار پھر عمرہ کرنے کا شرف حاصل کیا۔ یہ تینوں کل پاکستان مقابلے جیتنے کے بعد چار مرتبہ پاکستان کے بہترین نعت گو ہونے کا اعزاز رکھنے پر تاج پوشی کی گئی اور پانچ گولڈ میڈل عطا کئے گئے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں کے تمام شہروں میں نعت پڑھنے کا اعزاز آج تک حاصل ہے۔ بےشمار سرکاری تقریبات میں جہاں پاکستان کے صدور، وزیر اعظم، وزراء اعلیٰ بھی موجود تھے نعت خوانی کا شرف حاصل ہوا۔ عرب امارات، سعودی عربیہ اور دیگر ممالک میں سالانہ حاضری اور ریڈیو پاکستان، ٹیلی ویژن پر بے مثال پرفارمنس کا سلسلہ جاری ہے۔

اردوِ پنجابیِ سرائیکی اور فارسی زبان میں نعتوں کی ہزاروں آڈیو کیسٹ اور یو ٹیوب چینلز پر نعت سننے والے کروڑوں لوگوں کے دلوں کو گرما رہی ہیں۔ انہیں پاکستان میں سب سے زیادہ محافل نعت شریف پڑھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اورپاکستان بھر میں ان کے سینکڑوں شاگرد ان سے تربیت پاچکے ہیں۔ وہ اسے اپنے لیے سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں کہ 1987ء سے تاحال ہر سال روضہ رسول پر حاضری کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے اور پاکستان کے تمام نعت خوانی کے مقابلوں کے فاتح ہونے کے باوجود انہیں حکومت کی جانب سے ملکی سطح پر "پرائیڈ آف پرفارمنس" یا تمغہ حسن کارکردگی عطا نہ کرنا ایک سوالیہ نشان ہے۔

اپنی بہترین خدمات کے باوجود غریب اور دور دراز کے ایسے انمول فنکار تمغہ حسن کارکردگی سے اس لیے بھی محروم رہ جاتے ہیں کہ ہمارے ہاں اعزازت کا معیار اکثر فن نہیں بلکہ اقتدار سے، میڈیا سے اور ایوانوں سے فاصلہ بن جاتا ہے، علاقے کے سیاسی نمائندئے غریب فنکار کی مضبوط سفارش نہیں بن پاتے۔ رابطے اور تعلقات کی زنجیر جو ایوان اعزاز تک دروازہ کھول دے ہمارے پسماندہ علاقوں کو شاید میسر ہی نہیں آتی۔ لیکن تاریخ میں ایسے لوگ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ پاکستان بھر میں گونجنے والی یہ آواز یقیناََ یہ اعزاز ضرور حاصل کرے گی۔ شاید ان کا ایک سچا عاشق رسول اور ثنا خوان رسول ہونا ہی سب سے بڑا اعزاز اور ایورڈ ہے۔

نعت خوانی کی دنیا میں جب بھی سوز و گداز اور پروقار آواز کا ذکر ہوگا۔ الحاج عبدالمصطفیٰ سعیدی کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا، وہ محض ایک نعت خوان نہیں ہیں بلکہ عشق رسول ﷺ کے اس سفر کے مسافر ہیں جس نے اپنی آواز کے سحر سے لاکھوں دلوں کو مدینہ منورہ کی یاد میں تڑپا یا ہے۔ ان کی سب سے بڑی پہچان ان کی گونج دار آواز ہے جب وہ وہ منبر رسول پر بیٹھ کر نعت خوانی کا آغاز کرتے ہیں تو فضا میں ایک عجیب سا وجد طاری ہو جاتا ہے۔ ان کے نعت پڑھنے کا انداز روائتی بھی ہے اور اثر انگیز بھی ہے اردو، پنجابی، سرائیکی اور فارسی کو ایک ہی نعت میں سمو کر اور اس میں ڈوب جانا ہی ان کا فنی کمال ہے۔ جس میں بناوٹ کی بجائے ایک تڑپ سی نمائیاں ہوتی ہے۔ انہوں نے نعت خوانی کو فن کی بجائے عبادت سمجھ کر اپنایا اور کلام کے انتخاب میں ہمیشہ احتیاط اور ادب کا پہلو غالب رہا۔ ان کے مخصوص لہجے کو میں "سعیدی انداز" کہتا ہوں جس کی تقلید آج کے بہت سے نعت خوان کر رہے ہیں۔ "یا رسول اللہ" کی بلند آواز میں وہ تڑپ ہے جو سامع کو محسوس کراتی ہے کہ نعت خواں خود روضہ رسول ﷺ کے سامنے کھڑا محو التجا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں طویل عمر عطا فرماےاور وہ نعت پڑھتے رہیں اور نعت خوانی کی تربیت یونہی کرتے رہیں۔

Check Also

Rabba Mawan Na Khovi

By Sohail Bashir Manj