Monday, 19 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Akhir Kyun?

Akhir Kyun?

آخر کیوں؟

ہمارے معاشرے میں طلاق اب کوئی چونکانے والی خبر نہیں رہی، یہ ایک عام سی ہوتی ہوئی ایسی حقیقت ہے جسے لوگ زبان سے تسلیم نہیں کرتے مگر عمل سے ثابت کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اعداد و شمار بےجان ضرور ہوتے ہیں لیکن کچھ اعداد زندہ معاشروں کی اندر کی بےچینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان میں طلاق کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار بھی ایسے ہی خاموش مگر بےچینی پیدا کرنے والے نمبرز ہیں۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی گزشتہ پانچ سالوں میں طلاق اور خلع کی شرح میں تقریباََ پینتیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صرف کراچی کی فیملی کوڑٹس میں گذشتہ سال تک گیارہ ہزار سے زیادہ ایسے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ جبکہ دو سال قبل یہ تعداد تقریباََ چھ ہزار تھی یعنی دوگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق گذشتہ سال تک طلاق یافتہ خواتین کی تقریباََ تعداد پانچ لاکھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ رجحان صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ دوسرے شہروں اور صوبوں میں بھی بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان جیسے اسلامی اور خاندانی معاشرئے میں یہ تعداد حیران کن دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں طلاقوں کا بڑھنا کسی ایک فریق کی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے مجموعی معاشرتی بحران کی علامت ہے۔ کیونکہ جب معاشرہ صبر، برداشت اور ذمہ داری سے خالی ہونے لگے تو رشتے بوجھ بن جاتے ہیں۔ سوال یہ ہےکہ آخر یہ کیوں ہے؟

آج دکھ یہ نہیں کہ یہ رشتے ٹوٹ رہے ہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شاید وہ کبھی صحیح معنوں میں جڑے ہی نہیں تھے؟ ہم نے شادی اور نکاح کو رسومات، توقعات اور انا کا قیدی بنا دیا ہے اور جب یہ قید دم گھونٹنے لگتی ہے تو نتیجہ طلاق ہی نکلتا ہے۔ آج کے پاکستانی گھروں میں طلاق بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ جذباتی ناپختگی ہے، لوگ رشتہ بنانے سے پہلے اپنے مزاج کو نہیں دیکھتے، صرف شادی کی چمک پر فیصلہ کرتے ہیں۔ دونوں فریق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں سمجھوتہ کرنا آتا ہے مگر چند مہینوں میں ہی واضح ہو جاتا ہے کہ برداشت کا حوصلہ ان کے اندر تھا ہی نہیں۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ نکاح کو نئی زندگی سمجھتے ضرور ہیں مگر پرانی عادتیں، پرانا غصہ، پرانی انا اور پرانی ترجیحات ساتھ لے آتے ہیں اور پھر چاہتے یہ ہیں کہ یہ رشتہ کسی جادو سے چل جائے۔ گھروں میں مداخلت بھی ایک زہر ہے جو چپکے سے رشتے کو کھا جاتا ہے۔ والدین اپنی اولاد کو تحفظ کے نام پر، اپنی انا کی لڑائی میں دھکیل دیتے ہیں۔ ہر جھگڑے پر بیٹی کو واپس بلا لینا، ہر مسئلے پر بیٹے کو مشورہ دے کر بھڑکا دینا، ہر اختلاف میں اپنی "عزت" کو شامل کر دینا، یہ سب مل کر اس رشتے کا سانس بند کر دیتے ہیں جسے دونوں نے خود قائم رکھنا تھا۔

ایک اور بڑی حقیقت یہ ہے کہ معاشی اور مالی دباؤ بھی آج طلاق کی بنیاد بنتا جا رہا ہے۔ محنت کم مگر خواہشات زیادہ اور جبکہ معاشی حالات کمزور ہوتے ہیں۔ ان سب باتوں کا مجموعہ انسان کو چڑچڑا کرتا ہے اور پھر یہ چڑچڑا پن رشتے پر نکلتا ہے۔ بیوی سوچتی ہے کہ اس کے خواب قربان ہوگئے، شوہر سمجھتا ہے کہ شاید اس کی محنت کی قدر نہیں ہوئی۔ یہاں سے شکایتیں شروع ہوتی ہیں جو آہستہ آہستہ نفرت میں بدل جاتی ہیں۔ سب سے خطرناک مسئلہ ایک دوسرے کی زبان سے نکلے طنز، بے احترامی اور روزمرہ کا سخت اور ترش لہجہ ہوتا ہے۔

رشتہ صرف محبت سے نہیں چلتا بلکہ احترام بھی مانگتا ہے۔ اگر بات کرنے کا طریقہ زہر آلود ہو تو پھر اچھا لفظ بھی نفرت میں بدل جاتا ہے۔ ایک سچ یہ بھی ہمیشہ یاد رکھیں کہ رشتہ ہمیشہ باہمی لڑائی یا جھگڑے سے ہی نہیں ٹوٹتا، کبھی کبھی وہ اس خاموشی سے ٹوٹ جاتا ہےکہ محسوس بھی نہیں ہوتا۔ اکثر اس کی وجہ اس سوشل میڈیا کے دور میں اپنا کسی دوسرے سے موازنہ کرنا ہوتا ہے۔ آج کے سماجی اور ثقافتی عوامل میں ماڈرن طرز زندگی، سوشل میڈیا اور موبائل رابطے تنازعات اور شک وشبہات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ جبکہ معاشی عوامل میں مہنگائی، بے روزگاری اور آمدنی میں کمی جیسی معاشی مشکلات ازدواجی تنازعات کو بڑھا دیتی ہیں۔ جبکہ تعلیمی، نفسیاتی، نظریاتی اور فکری تبدیلیاں بھی تعلقات میں عدم مطابقت یا عدم تعاون کو طلاق کا جواز بنا دیتے ہیں۔ برداشت اور صبر کا فقدان بھی اس میں اضافہ کر رہا ہے۔ رشتوں میں ٹھہراو اور ایک دوسرئے کی خامیوں کو قبول کرنے کا حوصلہ اور مشکل وقت میں ساتھ نبھانے کی روایت کمزو ر پڑتی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کی مداخلت نے غیر حقیقی خوشحال زندگیاں دکھا کر موازنہ کی فضا پیدا کر دی ہے اور بےجا شکوک، بداعتمادی نے ہمارے جذباتی تعلقات اور نجی معاملات کو بھی عوامی بنا دیا ہے۔ جس کی باعث گھر میں موجود شریک حیات کم اور اسکرین پر موجود جدید دنیا زیادہ دلکش محسوس ہوتی ہے۔ ایک بڑی وجہ خاندانی نظام کی کمزوری بھی سامنے آرہی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام ٹوٹنے سے تجربہ کار بزرگوں کی رہنمائی اور معمولی تنازعات میں ثالثی کا کردار باقی نہیں رہا اس لیے میاں بیوی کو تنہا ہی یہ مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور تنہائی کے فیصلے ہمیشہ انتہائی درجہ کے ہوتے ہیں۔ سوال اب یہ ہے کہ اس کا ممکنا حل کیا ہو سکتا ہے؟

شادی سے پہلے سنجیدہ تیاری کی جائے اکثر شادیاں جذبات میں، سماجی دباو میں، صرف ظاہری معیار یعنی مال، تعلیم اور شکل صورت پر کر لی جاتی ہیں اور بڑی بڑی توقعات باندھ لی جاتی ہیں۔ جبکہ مزاج، سوچ، ذمہ داریوں اور برداشت نہیں دیکھی جاتی۔ جبکہ ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا شعور ہونا لازمی ہوتا ہے۔ مذہبی و اخلاقی تربیت ایک از حد ضروری اور اہم امر ہوتا ہے۔ نکاح کو عبادت اور طلاق کو ناپسندیدہ ترین عمل سمجھنے کا تصور مضبوط ہونا چاہیے۔ کیونکہ جب رشتہ صرف معاہدہ بن جائے اور امانت نہ رہے تو اس کا ٹوٹنا آسان ہوتا ہے۔ خواتین کی معاشی خود مختاری بھی ایک مثبت اور حساس مگر غور طلب پہلو ہوتا ہے جو خواتین کو خود اعتمادی دے کر مضبوط بناتا ہے اور گھر کا مالی توازن قائم رکھنے میں مدد بھی دیتا ہے۔

شادی کو طلاق جیسے ناپسندیدہ ترین عمل سے بچانے کے لیے چند تلخ اقدامات اور بھی ممکن ہو سکتے ہیں۔ جیسے خود پر سوشل میڈیا اور اسکرین کی دنیا کا بھوت سوار نہ ہونے دیں۔ ہمیشہ سسرال اور میکے کے درمیاں ایک مناسب فاصلہ قائم رکھنا۔ خیال رہے کہ آپکے بلاوجہ موبائل فون کے پاسورڈ اور تنہائی کی گفتگو شک پیدا کرتے ہیں اور شک وہ دیمک ہے جو مضبوط ترین رشتوں کو بھی کھا جاتی ہے۔ ماضی کے مردے مت اکھاڑیں اور طعنہ زنی سے پرہیز کریں۔ کسی دوسرے سے اپنا یا اپنے گھر کا موازنہ ہرگز، مت کریں اور ایسی توقعات نہ رکھیں جو ممکن نہ ہو پائیں۔ اپنی انا کے دروازے بند رکھیں اور جان لیں کہ معافی کسی کو چھوٹا نہیں کردیتی اورنہ ہی اکڑ کوئی بڑائی کی بات ہے۔ اپنی ذاتی اور گھر کی باتیں راز میں رکھیں۔ دنیا ان کا تماشا بناتی ہے۔ اپنے معاشی اور مالی حالات کو سمجھیں اور قبول کریں۔

مالی توقعات میں حقیقت پسندی کامیابی کی کنجی ہوتی ہے۔ اپنے پارٹنر کو بدلنے کی بجائے خود کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ دوسرے کو بدلنے کی کوشش زندگی تلخ بنا سکتی ہے۔ کسی دوسرے یاتیسرے بندے کو اپنی ذاتی زندگی میں میں مداخلت مت کرنے دیں چاہے وہ ماں باپ اور بہن بھائی ہی کیوں نہ ہوں۔ آپس میں محبت صرف ایک دوسرے کی عزت میں قائم رہ سکتی ہے اسلیے باہمی محبت اور عزت کو شعار بنا لیں۔ ایک دوسرےکو اپنے میکے، سسرال، رشتے داروں اور دوستوں کے لیے وقت دیں مگر انہیں اپنی زندگی میں مداخلت مت کرنے دیں اور ایک دوسرے کے رشتوں سےبھی محبت وعزت کا رویہ رکھیں اور خصوصی ایک دوسرے کے مشکل حالات میں ایک دوسرے کو سہارا دیں۔ اپنی اور اپنے پارٹنر کی صحت کا خیال رکھیں۔ یقیناََ بچے آپ کے رشتے مضبوط کرتے ہیں ان سے مشترکہ محبت درکار ہوتی ہے۔

شادی کوئی ٹی ٹوینٹی کا کرکٹ میچ نہیں ہوتا یہ زندگی بھر کا ٹسٹ میچ ہوتا ہے۔ اسے ہمیشہ جم کر کھیلیں اور اس میں آنے والی بوریت اور مشکلات سے مت گھبرائیں۔ اس میں ہار جیت سے زیادہ آپکی کارکردگی اور پرفارمنس پر توجہ درکار ہوتی ہے۔ ہر طرح کے حالات میں بہتر پر فارمنس آپکی زندگی میں جیت کی خوشیاں لا سکتی ہے۔

Check Also

Gul Plaza Atishzadgi, Karachi Mein Qayamat e Sughra

By Mushtaq Ur Rahman Zahid